عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی میں وزرا ء کونسل نے 361 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے سرینگر کے اچھن میں 800 TPD انٹیگریٹڈ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ کے قیام کی منظوری دی ہے۔یہ فیصلہ وزرا کونسل کی 6ویں میٹنگ کے دوران کیا گیا جس کا مقصد سرینگر میں سائنسی فضلہ کے انتظام کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور ماحولیاتی ذمہ دارانہ طریقے سے میونسپل سالڈ ویسٹ کو پائیدار ٹھکانے لگانے اور پروسیسنگ کو یقینی بنانا تھا۔مجوزہ انٹیگریٹڈ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ کا مقصد ٹھوس کچرے کو جمع کرنے، الگ کرنے، ٹریٹمنٹ اور ٹھکانے لگانے کے لیے جدید اور موثر نظاموں کے ذریعے سرینگر شہر کی کچرے کی پروسیسنگ کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ اس منصوبے سے صفائی کے معیارات کو نمایاں طور پر بہتر بنانے، ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے اور صاف ستھرا اور صحت مند شہری ماحول میں حصہ ڈالنے کی امید ہے۔
اچھن میں اس سہولت کے قیام سے شہری منصوبہ بندی اور ماحولیاتی پائیداری کی طویل مدتی کوششوں میں مدد کی بھی توقع کی جاتی ہے جبکہ تیزی سے شہری توسیع اور آبادی میں اضافے کے پیش نظر شہر کی بڑھتی ہوئی فضلہ کے انتظام کی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ وزرأ کونسل میٹنگ میں ماسٹر پلان 2035کے تحت بفر زون کی پابندیوں میں نرمی دے کر سب ڈِسٹرکٹ ہسپتال حضرت بل کی اَپ گریڈیشن کی بھی منظوری دی گئی۔یہ منصوبہ کئی برسوں سے بفر زون کی پابندیوں کے باعث مختلف رُکاوٹوں کا شکار تھا۔ کابینہ نے عوام کو درپیش مشکلات اور علاقے میں بہتر طبی سہولیات کی فوری ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے تاریخی فیصلہ لیتے ہوئے ان پابندیوں میں نرمی دی جس سے ہسپتال کی طویل عرصے سے زیرِ اِلتوأ اَپ گریڈیشن کی راہ ہموار ہوگئی۔منظوری کے ساتھ ہسپتال میں بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور جدید طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی جن میں بلڈ بینک، آپریشن تھیٹرز اور مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے خصوصی سہولیات شامل ہوں گی۔