جموں وکشمیر کی تقریباً 12سے14 فیصد آبادی اب بھی خطِ افلاس سے نیچے
اشفاق سعید
سرینگر //نیتی آیوگ کے تازہ ترین ملٹی ڈائمنشنل پاورٹی انڈیکس کے مطابق جموں و کشمیر میں اب بھی تقریباً 12–14 فیصد آبادی غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ اگرچہ گزشتہ دہائی میں غربت کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن مہنگائی نے عوام کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔جموں وکشمیر میں مہنگائی کے طوفان کے بیچ حکام نے غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزر بسر کرنے والوں کیلئے ضروری اشیاء کی قیمتوں میں کوئی رعایت نہیں رکھی ہے اور اس طرح جن لوگوں کی آمدنی اٹھنی ہے انہیں روپیہ خرچ ہو رہا ہے اور ایسے میں کئی کنبے فاقہ کشی پر مجبور ہیں، مزدور روزانہ کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں، اور امیر طبقہ بھی اپنے اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔جموں و کشمیر کی کل آبادی 2026 میں تقریباً 1.42 کروڑ ہے، اور اس میں سے اندازاً 12–14 فیصد یعنی تقریباً 17 سے 20 لاکھ افراد غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ تعداد سرکاری و تحقیقی ریکارڈ کے مطابق ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے اور حکومت ان کے مسائل سے جیسے لاتعلق ہے۔ماہر اقتصادیات کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایسے افراد کیلئے موجودہ کوئی پالیسی ترتیب دینی چاہئے تاکہ وہ بھی اپنا گزاراکر سکیں۔ماہرین کے مطابق جموں وکشمیر میں20لاکھ لوگ غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزر بسر کر رہے ہیں اور موجودہ دور میں یہ بڑی آبادی مہنگائی کی مار جھیل رہی ہے۔ ایسے لوگ پہلے 5اگست کے فیصلے سے فاقہ کشی کا شکار ہوئے ،بعد میں انہیں کورونا نے پریشانی سے دو چار کر دیا۔فی الووقت مزید ایران امریکہ حالات کا اثر بھی پڑ نا شروع ہوگیا ہے اور گھریلو گیس میں دو روز قبل ہی 60روپے اضافہ کردیا گیا ہے ۔اب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے بڑھ جانے کے بعدمکان نظر آرہا ہے ۔ جموں وکشمیر میں ایسے ہزاروں لوگ ہیں جن کی کمائی بہت قلیل اور خرچہ بے تحاشہ ہے اور حکام مہنگائی کے جن پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ایسے مزدوروں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے جنہیں دن میں کبھی کبھار ہی مشکل سے کام ملتا ہے اگر ایسے مزدوردن کے پانچ سو روپے کے حساب سے 15دن کام بھی کریں گے تو 7500 روپے بنتے ہیں، تو بھی خرچہ 3ہزار سے 5ہزار زیادہ ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے آج کے دور میںدس ہزار میں ایک کنبے کا گذارہ کرنا مشکل بن گیا ہے کیونکہ سب چیزوں کی قیمتیں آسمان کو چھو گئی ہیں۔