دورِ حاضر میں لوگ اس بات پر مطمئن نظر آتے ہیں کہ اپنی خواہشات کے پیچھے دیوانہ وار دوڑتے رہیں اور اسی معیار سے لوگوں اور چیزوں کے بارے میں فیصلے کرنے کا رواج بھی عام سا ہوگیا ہے۔ادب و اخلاق کے معانی بھی زندگی کے اس نئے رنگ کے ساتھ بدل گئے ہیں۔اس عام انتشار کے جو بھی اسباب ہوں لیکن ایک مسلمان کو دین و وحی کے مطابق اچھائی کو اچھائی اور بُرائی کو بُرائی ماننا ہوگا اور یہ بات اپنے دل و دماغ میںبٹھانی ہوگی کہ اِسی میں رضائے الٰہی پوشیدہ ہے۔عقل کو جِلا بخشنے اور ترتیب دینے کی جتنی ضرورت ہے اُس سے کہیں زیادہ نفسِ انسانی کے تزکیہ کی ضرورت ہے۔پاکیزگی کو خواہشات پر غالب کرنے کے لئے ایک طویل جدوجہد درکار ہے اور اگر یہ مقصد ہو کہ نفس اس درجہ پر پہنچ جائے کہ بھلائی کو پسند کرنے اور اس سے لطف اندوز ہونے لگے اور بُرائی سے نفرت اور اُس سے حقارت عادت بن جائے تو اور زیادہ مشق کی ضرورت ہوگی ، وہ بھی جب توفیق ِ الٰہی شامل ہو ۔بعض لوگوں کا نفس اتنا بگڑ جاتا ہے کہ وہ حق بات کو سمجھ نہیں پاتے ،وہ جہالتوں میں گم ہوکر رہ جاتے ہیںاور اُن میں اچھے بُرے کی تمیز ہی باقی نہیں رہ جاتی ،ایسی صورت حال ضمیر کے لئے مُہلک ہے اور اس طرح وہ لوگ ایک ایسی رات میں جا پھنستے ہیں جس کی کوئی صبح ہی نہیں ہوتی۔
ایسی بہت ساری انسانی خواہشات ہیں، جن پر قابو پانے کی ضرورت ہے مثلاً نفس کی محبت ،عورتوں کی چاہت،دولت کی تمنا ،شہرت کی خواہش وغیرہ وغیرہ۔کوئی اس قدر ذات پرست ہوجاتا ہے کہ اپنے علاوہ وہ کسی اور پر توجہ ہی نہیں کرتا ۔دولت سے کسی کو اتنی محبت ہوتی ہے کہ وہ دن رات اِسی کو جمع کرنے میں لگا رہتا ہے ،کوئی اتنا شہوت پرست ہوتا ہے کہ جانوروں کی طرح اُس کی پیاس نہیں بُجھتی،کوئی شہرت حاصل کرنے کے لئے بے دریغ اپنی دولت لُٹا دیتا ہے۔ایسی ہی خواہشات کو بے لگام چھوڑنے سے دنیا میں بُرائیاں پھیلتی ہیں ،انسان تھوڑا سا پانی پی لے تو اُس کی پیاس بُجھ جائے گی لیکن وہ دریا ہی میں کود پڑے تو یقیناً غرق ہوجائے گا ۔
کوکھ سے قبر تک انسان کو بہت سے مسائل ،آزمائشوں اور وساوس سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور ان سب کا سامنا کرتے ہوئے سیدھے راستے پر قائم رہنے کے لئے لگاتار جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے ، اس جدوجہد میں کامیابی تبھی مل سکتی ہے جب وہ مسلسل اپنی خواہشات کی مخالفت کی مشق کرے۔بہت سے لوگوں پر خواہشات کا غلبہ اس طرح ہوتا ہے کہ وہ اُن کے اقوال و افعال پر فیصلہ کُن انداز میں اثر انداز ہوتی ہیں اور اُن کے حواس پر اس طرح چھا جاتی ہیں کہ وہ زندگی کو اُس کے اصلی رنگ میں دیکھنے کے بجائے اپنے خاص زاویہ سے دیکھتے ہیں ،جس طرح سِیاہ رنگ کا چشمہ لگانے سے سب کچھ سِیاہ ہی نظر آئے گا ۔نفس کے خلاف جہاد میں مشقت تو ہے ہی لیکن ہر چیز سے پہلے نیت او ر مقصد کی اہمیت ہوتی ہے ۔ایک چور بھی شب بیداری کرتا ہے لیکن اس لئے کہ لوگ سو جائیں ،تو وہ چوری کرے۔ایک سپاہی بھی شب بیداری کرتا ہے لیکن تنخواہ کے بدلے امن و امان کی نگرانی کے لئے لیکن ایک تہجد گذار اپنا بستر چھوڑ کر اس لئے اُٹھتا ہے کہ پورے سکون کے ساتھ اپنے خالق کی عبادت کرے،اُسے دنیا میں بوئی ہوئی اس کھیتی کی فصل آخرت میں کاٹنے کی اُمید ہوتی ہے ۔تینوں کی شب بیداری کا عمل یکسان ہے مگر فرق زمین و آسمان کا ہے۔پہلا شخص ایک کھلا مجرم ہے اور سزا کا مستحق بھی۔دوسرے کو اگر اُجرت نہ ملے تو وہ کام چھوڑ دے گا لیکن تیسرا جانتا ہے کہ وہ کیا کررہا ہے اور کیوں کررہا ہے۔جہاد ِ نفس آسمانی ہدایات اور صحیح ادائیگی کے ساتھ ہی صحیح ہوسکتا ہے،محض جسمانی ضروریات کو کُچلنا اور گوشہ نشینی اِسلام نہیں ہے۔
اخلاقی قدروں کوموجودہ دور میں مادی نظریات نے پامال کرڈالا ہے۔بہت سے لوگ نہ صرف آج شخصی فضائل کو غیر ضروری سمجھتے لگے ہیں بلکہ اُن سے نجات پاکر نفسانی خواہشات کو بے لگام چھوڑ دینا چاہتے ہیں ،اُن کے نزدیک شریفانہ خصلتیں انسانی طبیعت کیلئے بیٹریاں ہیں،اسی لئے آج خواہش ِ نفس کی دوڑ جاری ہے جبکہ حرام طریقوں سے خواہشات ِ نفس کی تکمیل سے وہ اور زیادہ بڑھ جاتی ہیں،جس کے نتیجہ میں معاشرے میں بغض و حسد اور فساد و خونریزی عام ہوجاتی ہے ۔حق یہ ہے کہ نفس کی غلامی اگر افراد کے حواس کو بے اثر کردیتی ہے تو معاشروں کو شدید تاریکیوں میں ڈال دیتی ہے۔اسلام نے نہ کسی پاک چیز کو حرام کیا ہے اور نہ کسی اچھی چیز پر پابندی لگائی ہے ۔انسانی طبیعت کے لئے جو بھی چیزیں مناسب ہیں اُنہیں مباح کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے وہی چیزیں حرام کی ہیں جو انسان کو صحیح راستہ سے ہٹاکر بُرائی تک پہنچانے والی ہیں۔اسلام تو انسان کو یاد دلانا چاہتا ہے کہ وہ مادہ ہی نہیں روح بھی ہے اور آسمان سے اُس کا تعلق زمین کے مقابلہ میں کہیں زیادہ گہرا ہے، اس لئے اس تعلق کی حفاظت کرنی چاہئے اورنفس اگر اس میںرکاوٹ ڈالتا ہے تو اس کے خلاف جدو جہد کرنی چاہئے۔انسان جتنا اس جدوجہد میں کامیاب ہوگا اُتنا ہی اُس کا مرتبہ بلند ہوگا اور یہ جدوجہد اسلحہ کی جنگ سے بھی زیادہ سنگین ہوتی ہے ۔نفس کو اگر طمع دلائی جائے تو اس کی طمع بڑھتی جائے گی اور اگر اُسے بے لگام چھوڑ دیا جائے تو وہ فاسد ہوجائے گا۔اللہ تعالیٰ سے تعلق ہی مومن کی سلامتی یا پریشانی اور خوشی یا غم کی بنیاد ہے۔مؤمن اپنے ضمیر کو ہی رہنما بناتا ہے اور اُس کا مقصد اللہ کی خوشنودی کے سِوا کچھ نہیں ہوتا۔اگر وہ محسوس کرتا ہے کہ لوگ اُس سے نفرت کرتے ہیں تو اُسے دیکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے اُس کا تعلق کیسا ہے،اگر وہ اس پہلو سے مطمئن ہے تو فکر والی کوئی بات نہیںکیونکہ آقا کی خوشنودی کے مقابلہ میں غلاموں کی ناراضگی کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے؟اور اللہ تعالیٰ سے تعلق ہی کمزور ہے تو اصل مصیبت یہ نہیں کہ لوگ اُس سے نفرت کرتے ہیں بلکہ رونے کی چیز یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ تعلق ہی اطمینان بخش نہیں، جو مرض کی جڑ ہے۔
نگر، سرینگرکشمیر
فون نمبر۔ 9697334305