اردو کے فروغ کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت:کرن سنگھ
سرینگر//جموں و کشمیر کے سابق صدرِ ریاست اور سابق گورنرڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا ہے کہ کشمیریت، صوفی ازم اور مشترکہ ثقافتی اقدار پر مبنی کشمیر کی صدیوں پرانی بقائے باہمی کی روایت کو بین المذاہب مکالمے کے ذریعے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ انسانیت کو ہمیشہ مذہبی اختلافات پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔وہ ہفتہ کے روز ایس کے آئی سی سی سرینگر میں ’’اردو، کشمیریت اور مشترکہ ثقافتی روایات‘‘کے عنوان سے منعقدہ بین المذاہب مکالمے سے خطاب کر رہے تھے۔ڈاکٹر کرن سنگھ نے اس پروگرام کے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بین المذاہب مکالمہ، اردو، کشمیریت اور مشترکہ ثقافتی روایات ایسے اہم موضوعات ہیں جن پر الگ الگ کئی دن تک گفتگو کی جا سکتی ہے۔بین المذاہب مکالمے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے 1893 میں شکاگو میں منعقد ہونے والی’پارلیمنٹ آف دی ورلڈز ریلیجنز‘کا ذکر کیا، جہاں سوامی وویکانند نے دنیا کے سامنے بھارت کا عالمگیر قبولیت کا پیغام پیش کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بین المذاہب مکالمے کا مقصد کسی ایک مذہب کو دوسرے پر برتر ثابت کرنا نہیں بلکہ ایک دوسرے کے عقائد کو سمجھنا اور یہ تسلیم کرنا ہے کہ تمام مذاہب بالآخر ایک ہی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔رگ وید کے ایک قولکا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سچائی ایک ہے، مگر اہلِ دانش اسے مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر خدا ایک ہے تو مختلف مذاہب کے لیے الگ الگ خدا نہیں ہو سکتے، جس طرح ایک پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے کے کئی راستے ہوتے ہیں، اسی طرح مختلف مذاہب بھی ایک ہی منزل تک پہنچاتے ہیں۔کشمیر کی تہذیبی اور روحانی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا کہ اس سرزمین پر ویدک روایت، بدھ مت، شیو مت اور بعد ازاں صوفی ازم نے فروغ پایا۔ انہوں نے لل دید، حضرت میر سید علی ہمدانیؒ اور حضرت شیخ نورالدین نورانیؒ جیسی عظیم شخصیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان بزرگوں نے محبت، رواداری اور بقائے باہمی کی ثقافت کو پروان چڑھایا۔
انہوں نے کہا’’کشمیر میں صوفی ازم اس لیے فروغ پایا کیونکہ اس نے محبت کا پیغام دیا، نفرت کا نہیں۔ کوئی بھی مذہب نفرت کے ذریعے ترقی نہیں کر سکتا، انسانیت ہمیشہ مقدم ہونی چاہیے‘‘۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ کشمیر میں بھی ایک مستقل بین المذاہب تحریک قائم ہوگی جو باہمی احترام، افہام و تفہیم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط بنائے گی۔اردو زبان کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اردو کوئی غیر ملکی زبان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کی پیدائش ہندوستان میں ہوئی اور یہ ملک کے ثقافتی اور ادبی ورثے کا اہم حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق ریاست جموں و کشمیر میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ اس لیے حاصل تھا کیونکہ یہ کشمیری، ڈوگری، لداخی اور دیگر مادری زبانیں بولنے والے لوگوں کے درمیان رابطے کا مثر ذریعہ تھی۔ڈاکٹر کرن سنگھ نے اردو کے تحفظ، فروغ اور زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی زبان کی مخالفت دراصل علم کی توہین کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا، “اردو کی حفاظت، ترویج اور ہر ممکن استعمال کیا جانا چاہیے۔ ہر زبان ماں سرسوتی کا عطیہ ہے اور کسی بھی زبان کی مخالفت گویا علم کے سرچشمے کی بے حرمتی ہے۔