کامریڈکرشن دیو سیٹھی
نسل، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب ورنگ
خواجگی نے خوب چن چن کر بنائے مسکرات
(اقبال)
اس وقت سارے ہندوستان میںلوک سبھا کے انتخابات کی جنگ جاری ہے۔ ہرپالیمانی سیاسی پارٹی یہ جنگ جیتنے کے لئے ہر حربہ زیر کار لارہی ہے۔ دھن اور دولت کا بے دریغ استعمال کیاجارہاہے ۔بھرشٹاچار ی طریقے استعمال کئے جارہے ہیں۔ غنڈوں کا استعمال کیاجارہاہے۔ ڈکیتوں ، چوروں، سمگلروں اورجرائم پیشہ اشخاص کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔ پولنگ بوتھوں قبضہ کرنے اور جعلی ووٹروں کا استعمال کرنے کی سکیمیں مرتب کی جارہی ہیں۔ حکمران پارٹیاں سرکار ی اثر ورسوخ برئوے کار لارہی ہیں۔ سادہ لوح لوگوں کو ڈرایا دھمکایا جارہاہے۔ سیاسی کھڑپنچ خریدے جارہے ہیں۔ کھلے عام پیسہ تقسیم کیا جارہاہے۔ اس پر بھی لٹیرے حکمران طبقوں کا دعویٰ ہے کہ انتخابات آزادانہ، منصفانہ، غیرجانبدارانہ اور کسی غلطہ اووردبائو کے بغیر عمل میںلائے جاتے ہیں اور انتخابات رائے عامہ کا واضح اظہار ہوتے ہیں۔
ایک زمانہ میں روپیہ پیسہ خفیہ طورپر کھڈپنچوں کی جیب میں ڈالا جاتاتھا یا ووٹروں میں پوشیدہ طورپر ووٹ خریدنے کے لئے تقسیم کیاجاتاتھا لیکن آج کل تو اسے بھری محفلوں میں کھلے عام تقسیم کیاجاتاہے۔ دھوتیاں، کپڑے وغیرہ کھلے عام دے کر ووٹ حاصل کئے جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں بڑے بڑے لیڈر ملوث ہیں۔ جو منظرعام پرآچکے ہیںاور الیکشن کمیشن کے پاس اس سلسلہ میں شکایات بھی ہوئی ہیں، لیکن الیکشن کمیشن کی طرف سے جواب طلبی اور متعلقہ اشخاص کی طرف سے رسمی جواب دہی کے بعد معاملہ ٹھپ ہوجاتاہے۔ بیروکریٹوں کی طرف سے انتخابات میںدھونس اوردبائو کی کئی شکایات الیکشن کمیشن کو موصول ہوئی ہیں، مگر اسی طرح کی جواب طلبی اور یاپھر بیروکریٹوں کے تبادلوں کے بعد معاملات ختم ہوگئے ہیں۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ الیکشن کمیشن سرکاری اثر ورسوخ اور روپیہ پیسہ اور دولت کا استعمال پر کوئی موثر پابندی عائد کرنے میںناکام رہاہے اور ذی غرض سیاسی اُمیدوار زور وشورسے انتخابی دھاندلیوں میںمصروف ہیں بلکہ خود ڈاکو ، قاتل، سمگلر، جرائم پیشہ اشخاص پارلیمنٹ اور اسمبلیوںمیں رونق افروز ہوکر اپنا جلوہ دکھارہے ہیں۔ ان انتخابی گورکھ دھندوں سے بھی بڑھ چڑھ کرانتخابات میںفرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور ذات واد پرعوام کو تقسیم کرنے کاحربہ ہے، جسے زیر استعمال لاکر انتخابی جنگ لڑی جارہی ہے اور انتخابی مہم چلائی جارہی ہے۔ اس سے سارا سماج تقسیم ہوکر فرقہ پرستی اور ذات واد کے خطرناک چکر میںپھنستا جارہاہے۔ پہلے بھی انتخابات میں فرقہ پرستی اور ذات واد کے نام پر ووٹ حاصل کئے جاتے تھے لیکن اب تو اس کا چلن کچھ زیادہ ہی ہوگیاہے جو کہ انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ اس سلسلہ میں سیاسی پارٹیاں بلااستثنیٰ اپنا حصہ اداکررہی ہیںا ور پورا ملک فرقہ وارانہ اور ذا ت واد کی کشمکش کاشکارہے۔ بھارتیہ جنتاپارٹی کا تحریری طورپر خواہ الیکشن مینی فیسٹو کچھ بھی ہو لیکن عملی طورپر اس نے ہندو شاؤنزم کے نام پر جسے اس نے نیشنلزم کا نام دے رکھاہے۔ زبردست فرقہ واریت کا ماحول پیداکررکھاہے۔ اس نے گزشتہ متعدد انتخابات میں بھی فرقہ واریت کے ایجنڈا پر عملاً الیکشن لڑ کر کامیابی حاصل کی تھی اور لوک سبھا میں دوممبران کی تعداد سے تجاوز کرکے دیگر اتحادیوں کی مدد سے تخت دہلی پر قابض ہوگئی ۔ گجرات میں بھی نریندرمودی کی قیادت میں بدترین فرقہ پرستی کے پرچار اور عملاً اقلیتوں کو قتل وغارت کانشانہ بنا کر بھاجپا حکومت حاصل کی گئی تھی اور دیگر ریاستوں میں بھی اس نے فرقہ واریت کے فارمولہ پر ہی عمل کرکے اقتدار حاصل کیاہے۔ اب کی بار بھی بھارتیہ جنتاپارٹی اسی راستہ پر گامزن ہے۔ خود بھاجپا اور اس کے اتحادیوں اور راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشداور شو سینا نے فرقہ پرستی کا زہر پھیلا کر اقتدار حاصل کرنے کا پورا منصوبہ بنارکھاہے جسے قسط وار عملایا جارہاہے۔
کانگریس پارٹی بے شک زبانی سیکولرازم کا دم بھرتی ہے لیکن اس کا سیکولرازم محض اقلیتی فرقوں کے ووٹ بٹورنے کے لئے ہے۔ وگرنہ اس پارٹی کے لیڈر راجیوگاندھی کے عہد میں بابری مسجد جو مقفل تھی، کے تالے کھول کر مندر بنانے کی کاروائی ہوئی تھی۔ بے شک بعدازاں بھاجپا نے اس سلسلہ میںکانگریس کوپیچھے دھکیل کر خود بابری مسجد کومندر بنانے کی کمان سنبھال لی۔ راجیو گاندھی نے اپنی انتخابی مہم ایودھیا سے شروع کرکے اور رام راجیہ بنانے کانعرہ دے کر ہندوتو کی ہی کلاجگا ئی تھی اور اپنے وزیر داخلہ بوٹا سنگھ کی موجودگی میں شیلا ستھاپن کروا کر ہندوتو ایجنڈاچھیننے کی کوشش کی تھی۔یہ الگ بات ہے کہ بھاجپا اس سے زیادہ ہوشیار نکلی اور اس نے بابری مسجد کا ایجنڈا اپنے ہاتھ سے ایک لمحہ بھی جانے نہیںدیا۔ پنجاب میںخود کانگرس نے بھنڈراں والا کو پیدا کیا اور پھر بھنڈراں والا کی انتہاء پسندی کوکچلنے کے نام پر دربار صاحب پرچڑھائی کرکے انتہائی فرقہ پرستی کاثبوت دیاتھا۔ اندرا گاندھی کی وفات پر جس طرح سکھ بلوئوں میںکانگریسی لیڈر براہ ارست شریک تھے۔ سجن کمار کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ان چیزو ںسے کانگریس کے سیکولرازم کا پردہ بھی چاک ہوتاہے اور اس سے اس پارٹی کی ا قلیت نوازی کاپول بھی کھلتاہے۔ یہ امر صاف عیاںہے کہ بھاجپا اگر جارحانہ فرقہ پرستی کے ذریعہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے کوشاںہے، توکانگریس نرم فرقہ پرستی کے ذریعہ اسی راہ پرگامزن ہے۔ اس وقت بھی راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی جس طرح مندروںمیں جاکرانتخابی مہم چلارہے ہیں، وہ اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ فرقہ پرستی کے ذریعہ ووٹ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
مایاوتی کاذات واد توکسی سے پوشیدہ نہیںہے۔ اس نے ’’تلک ترازو اور تلوار ، ان کو جوتے ماروچار‘‘جیسے نعرے دے کر دلتوں کو اپنا گردیدہ بنایالیکن کامیابی ادھوری دیکھ کر’’ہاتھی نہیں گنیش ہے ، برہما وشنو مہیش ہے‘‘ کانعرہ دے کر بالائی ذاتوں کو اپنے ساتھ ملایا اور اس حربہ سے اُترپردیش کی حکمران بن گئی ۔ اب وہ اسی آزمودہ حربے سے تخت دہلی پر قابض ہونے کی خواہاں ہیں لیکن اس کا اصل ایجنڈا فرقہ وارانہ تنائو پیدا کرنے کے علاوہ ذات واد بڑھانا بھی ہے۔ وہ فرقہ وارانہ مناقشات کو ہوادینے کے علاوہ ذات برادری کے نام پر سماج کو تقسیم کررہی ہیں۔ اسی طرح لالو پرشاد یادو، اکھلیش یاد و، رام ولاس پاسوان وغیرہ نام توسیکولرازم کا لیتے ہیں لیکن انتخابی اغراض براری کے لئے انہوں نے ذات واد اور برادری ازم کا ایسا چکر چلایاہے، جس نے ہندوستانی سماج کوصرف فرقہ وارانہ بنیاد پر منقسم کردیاہے بلکہ ذات برادری کے نام پربھی عوام میںتقسیم پیدا کررکھی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمانی انتخابی پارٹیوں نے بلا استثنیٰ اس ملک کو فرقہ وارانہ اور برادری ازم کی خانہ جنگی میںتبدیل کررکھاہے اور خانہ جنگی سے ان کامقصد صرف اقتدار پر قابض ہوتاہے۔ ان پارلیمانی پارٹیوں کے اقتدار پسند لیڈروں نے سارے ملک کو ایک آتش فشاں پرکھڑاکردیاہے۔ فرقہ وارنہ اور ذات واد کایہ آتش فشاں کسی وقت بھی پھٹ کر سارے ملک کو غرقاب کرسکتاہے۔ عوام کو یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر بروقت اس حقیقت کو سمجھ کر اس کاانسداد نہ کیاگیا تو اس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوںگے جو سنبھالنے سے نہیں سبنھلیںگے۔ہندوستان کے محنت کش عوام بھوک ، افلاس ،مہنگائی، بے کاری، بے روزگاری، رشوت ستانی، بھرشٹاچار ، کنبہ پروری، شہری آزادیوںکے فقدان سے تنگ ہیں اور اس صورت حال کو بدلنے کے خواہاںہیں۔ سماج میںا صل ٹکرائو سرمایہ داروں ، مزدوروں، کسانوں اور لینڈلارڈوں ، کم تنخواہ سرکاری ملازموں اور بیوروکریٹوں کے درمیان ہے۔ سامراج کے ساتھ پوری قوم کاٹکرائوہے کیونکہ سامراج نے گماشتہ سرمایہ داروں اور لینڈلارڈوں سے اتحاد ثلاثہ کرکے اس ملک کو نیم محکوم اونیم نوآبادی بنارکھاہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان کے عوام سامراج، گماشتہ سرمایہ داری اور لینڈلارڈوں کے اقتدار سے نجات حاصل کرکے صحیح معنوںمیں عوامی جمہوریت کا قیام عمل میںلاکر مصائب مشکلات اور درپیش مسائل سے نجات حاصل کریں، لیکن نام نہاد پارلیمانی پارٹیوں اور ان کے لیڈروں نے اس طبقاتی جدوجہد کو کند کرکے انتخابی اغراض کے لئے ملک کو فرقوں، برادریوں میںتقسیم کرکے اور انہیں آپس میں متصادم کرکے اصل ’’جدوجہد کا رُخ‘‘ موڑدیاہے۔ اس جدوجہد کی سمت لوٹ کھسوٹ اور استحصالی نظام کے خلاف ہونی چاہیے تھی، اس کارُخ باہمی فرقہ وارانہ کشیدگیوں اور ٹکرائو میںاُلجھایادیاگیاہے اور فی الحال لٹیرے حکمران طبقے اپنی سازش میںکامیاب معلوم ہوتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ محنت کش عوام حقیقت حال کو سمجھیں اور پارلیمانی ابہامات پیدا کرکے لٹیرے طبقوں کے ترجمان اور محافظ جس طرح عوام کو فرقہ وارانہ اور ذات واد کے نام پر تقسیم کرکے مفادات خصوصی حاصل کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ اس سے باخبر ہوکر عوامی جدوجہدوں کوطبقاتی بنیادوں پر منظم کرکے لٹیرے طبقوں کے اقتدار کو ختم کرنے کی طرف پھیردیں اور ملک میں فرقہ واریت اور ذات واد سے مبرا غیر طبقاتی نظام حکومت قائم کرنے اور مساوات پر مبنی سماج کے قیام کی جدوجہد تیز تر کریں اور اس میں ہی ان کی مکمل نجات کاراز مضمر ہے۔