مرکزی وزیر زراعت سے ملنے کا فیصلہ، ہماچل پردیش میں احتجاج
اشفاق سعید
سرینگر//امریکہ سے سیب در آمد کرنے کے فری ٹریڈ معاہدہ کیخلاف ہماچل پردیش میں فروٹ گروورس کی جانب سے پہلا احتجاج سامنے آیا ے جبکہ جمعرات کو نئی دہلی میں بائر سیلر میٹ کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مرکزی سرکار سے رابطہ قائم کرکے اسے فروٹ انڈسٹری سے وابستہ کسانوں کے خدشات سے باور کرایا جائیگا۔ہماچل پردیش میں جمعرات 12فروری کو پروگرام کے مطابق کئی علاقوں میں احجاجی مظاہرے کئے گئے، فروٹ گروورس نے فری ٹریڈ معاہدے سے سیب کی در آمد کو ہماچل کے کسانوں کیلئے تباہ کن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کو میوہ کی صنعت کا تحفظ کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں نہ کہ امریکی میوہ کی در آمد کرے جس سے سیب کی صنعت دم توڑ دے گی۔ادھر نئی دہلی میں فروٹ انڈسٹری کو درپیش معاملات اور دیگر امور سے متعلق بائر سیلر میٹ کے دوران بھی کاشتکاروں نے بھارت-امریکہ کے مجوزہ عبوری تجارتی معاہدے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ امریکی سیب کے لیے آسان مارکیٹ رسائی مقامی پیداوار کو تیزی سے کم کر سکتی ہے اور خطے کی دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کو خطرہ لاحق ہو سکتی ہے۔
میٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ مرکزی سرکار سے پہلے ہی رابطہ کرنے کی چنلز متحرک کی گئی ہیں، لیکن پارلیمنٹ اجلاس جاری رہنے کی وجہ سے وزیر زراعت سے میٹنگ طے نہیں ہورہی ہے۔ بائر سیلر میٹ کی میٹنگ کے بارے میں کشمیر ویل فروٹ گروورس /ڈیلرس یونین کے چیئر مین بشیر احمد بشیر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ میٹنگ کے دوران یہ مسئلہ خصوصی طور پر زیر غور آیا اور تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں بتایا گیا کہ مرکزی سرکار کی کامرس وزارت کیساتھ یہ مسئلہ پہلے ہی اٹھایا گیا ہے اور مرکزی وزیر زراعت شیو راج چوہان کیساتھ بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ میٹنگ کیلئے ان سے وقت مانگا جائے۔بشیر احمد بشیر نے مزید کہا کہ عہدیدار مرکزی سرکار سے رابطے میں ہیں اور حکومت سے ملنے کا اصولی طور پر فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کسانوں کے خدشات سامنے رکھے جائیں۔ادھرکاشتکاروں، تاجروں اور باغبانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی سیب پر محصولات کم کیے جاتے ہیں یا کوٹہ بڑھایا جاتا ہے تو بھاری امریکی فارم سبسڈی کی مدد سے سستی درآمدات سے ہندوستانی منڈیوں میں سیلاب آسکتی ہیں، گھریلو پھلوں کی قیمتوں میں کمی اور ہزاروں چھوٹے اور معمولی کسانوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔وادی کی سب سے بڑی فروٹ منڈی، سوپور فروٹ منڈی کے صدر فیاض احمد ملک نے بتایا، یہ معاہدہ ہمارے لیے تباہی کا باعث بنے گا۔ “ہم صرف امریکی کاشتکاروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے، انہیں کاشت کے ہر مرحلے پر حکومت کی حمایت حاصل ہے، انہیں خاطر خواہ سبسڈی اور نقد رقم کی منتقلی ملتی ہے، جبکہ ہمارے پاس فصلوں کی انشورنس تک رسائی بھی نہیں ہے۔”سیب کی صنعت کو وسیع پیمانے پر جموں و کشمیر بالخصوص وادی کشمیر کی اقتصادی لائف لائن سمجھا جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ وادی ہندوستان کی کل سیب کی پیداوار میں تقریباً 75 فیصد حصہ ڈالتی ہے، جو سالانہ تقریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن پیدا کرتی ہے۔ اس شعبے کی مالیت تقریباً 10,000 کروڑ روپے ہے اور یہ باغات کے مالکان اور مزدوروں سے لے کر ٹرانسپورٹروں، پیکروں اور کمیشن ایجنٹوں تک تقریبا 50 لاکھ افراد کو براہ راست یا بالواسطہ مدد فراہم کرتا ہے۔کشمیر ویلی فروٹ گروورز-کم-ڈیلرز یونین، جو کاشتکاروں کی انجمنوں کی ایک چھتری تنظیم ہے، نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے جس میں مرکز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ گھریلو پروڈیوسروں کے تحفظ کے لیے امریکی اور یورپی سیبوں پر 100 فیصد سے زیادہ درآمدی محصولات عائد کرے۔مرکزنے کہا ہے، “ہم سیب میں سرپلس نہیں ہیں، مانگ 25 سے 26 لاکھ ٹن سے زیادہ ہے، جب کہ ہم تقریباً 20 سے 21 لاکھ ٹن پیدا کرتے ہیں۔ ہم پہلے ہی ہر سال تقریبا ً5.5 لاکھ ٹن درآمد کرتے ہیں،” ۔