واشنگٹن//امریکا پشت پناہی میں کردش اتحاد نے داعش کو مشرقی شام سے نکالنے کے لیے اپنی جنگ کے آخری مرحلے کا آغاز کردیا۔امریکا نے فوجی آپریشن کے آغاز کی تصدیق کردی۔امریکی اتحاد کی پشت پناہی میں شامی ڈیموکریٹک فورسز نے جہادیوں کو ملک کے بڑے حصے سے نکال دیا تاہم داعش کے جنگجو کچھ علاقوں میں اب بھی موجود ہیں جس میں عراقی سرحد کے قریب تیل کے ذخائر والا صوبہ دیر الزور شامل ہے۔ایس ڈی ایف کی دیر ازور ملٹری کونسل کا کہنا تھا کہ وہ داعش کو ان علاقوں سے نکالنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ’ہماری افواج نے بین الاقوامی اتحاد کی افواج کے ساتھ مل کر آخری مرحلے کا آغاز کردیا‘۔امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ اتحاد اور اس کے شراکت دار جن میں شامی ڈیموکریٹک فورسز شامل ہیں مل کر داعش کے زیر اثر شامی علاقوں کو واپس حاصل کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کر رہے ہیں۔شامی میں انسانی حقوق کی نگراں تنظیم کا کہنا تھا کہ شمالی مشرقی شام میں داعش کے زیر اثر گاؤں میں فضائی حملوں کے نتیجے میں 10 بچوں سمیت 23 شہری ہلاک ہوگئے۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی ہمیں معلوم نہیں کہ القصر گاؤں میں یہ حملہ امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد یا دیگر افواج کی جانب سے کیا گیا۔برطانوی مانیٹرنگ کا کہنا تھا کہ امریکی قیادت میں اتحاد کردش عرب اتحاد کی پشت پناہی کر رہا ہے جو مشرقی شام میں عراقی سرحد کے قریب داعش کے خلاف لڑ رہی ہے۔