عظمیٰ ویب ڈیسک
تہران/امریکہ نے ایران کے خلاف نئے فوجی حملے کیے ہیں، جن میں جنوب مشرقی بندرگاہی شہر چابہار کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے، بندرگاہ کی سہولیات اور ایک ہسپتال کو نقصان پہنچا ہے۔ ملک کے دیگر جنوبی اور شمالی حصوں میں بھی حملوں اور دھماکوں کی اطلاع ملی ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق بدھ کو ہونے والے حملوں میں چابہار کی تین بجلی کی ٹرانسمیشن لائنیں تباہ ہو گئیں، جس سے شہر کے تقریباً آدھے حصے میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ حملے کے دوران میزائل کے ٹکڑے امام علی ہسپتال پر بھی گرے۔ تسنیم نیوز ایجنسی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ چابہار اور قریبی شہر کونارک میں تقریباً 10 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق حملوں سے چابہار کی شہید بہشتی بندرگاہ، کلانتری بندرگاہ اور جہاز رانی کے ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ ان حملوں کی وجہ سے چابہار شہر کی آدھی بجلی چلی گئی۔
سیستان اور بلوچستان صوبے کی الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے بتایا کہ متاثرہ تین بجلی کی لائنوں میں سے دو کو بحال کر دیا گیا ہے اور تیسری لائن کی مرمت کا کام جاری ہے۔ اس دوران، سیستان اور بلوچستان صوبے کے ایرانشہر میں مقامی ہوائی اڈے پر میزائل گرنے سے ایک شخص کی موت ہو گئی۔ متوفی کی شناخت ایرانشہر ہوائی اڈے کی محکمہ موسمیات کی عمارت میں تعینات ڈیوٹی آفیسر خالد قادری کے طور پر ہوئی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق شہر میں چار زوردار دھماکے سنے گئے۔
تسنیم نے کچھ غیر تصدیق شدہ رپورٹوں کے حوالے سے کہا کہ چابہار میں واقع اسلامک ریولوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) بحریہ کے امام علی نیول بیس کو بھی امریکی لڑاکا طیاروں نے نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے کئی دوسرے علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاع دی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق بندر عباس اور سیریک میں کئی دھماکے ہوئے اور بندر عباس اور قشم جزیرے کی ساحلی فضائی دفاعی اکائیوں نے دشمن کے اہداف کو نشانہ بنایا۔ ابو موسیٰ جزیرے، جاسک اور صوبہ بوشہر کے شہر چوگدک میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اس کے علاوہ آئی آر جی سی کے مقامی یونٹ نے کہا کہ امریکی کروز میزائلوں نے شمالی ایران کے صوبہ گلستان میں اق قلا کاؤنٹی کے واقع اق تپہ خان پل کے آس پاس کے علاقوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایران کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے، جس کا اعلان کردہ مقصد آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے حملوں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، “دشمن اور اس کے اتحادیوں کو سخت سزا دی جائے گی۔” مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران نے امریکہ پر جنگ بندی اور گزشتہ ماہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔ ایرانی مسلح افواج نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر جوابی کارروائی کی ہے۔
آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین اور کویت میں 85 امریکی فوجی اڈوں اور اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ ان میں بحرین میں پورٹ سلمان اور امریکی پانچویں بیڑے سے وابستہ علاقے اور کویت کا علی السالم ایئر بیس شامل ہیں۔ آئی آر جی سی نے ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔