ایجنسیز
واشنگٹن // امریکہ نے اعلان کیا کہ آپریشن ایپک فیوری (ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ، جو 28 فروری کو شروع ہوئی تھی اور جس نے علاقائی تنازعہ کو جنم دیا تھا) اس لیے اختتام پذیر ہو گیا ہے کیونکہ اس کے مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اب “امن کے راستے” کو ترجیح دیتا ہے۔اسی دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کی رہنمائی کے لیے امریکی فوجی آپریشن، پروجیکٹ فریڈم، جو ایک دن پہلے شروع کیا گیا تھا، روک دیا گیا ہے۔بدھ کو روبیو کے حتمی موقف سے متصادم نظر آتے ہوئے، تاہم، ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ اگر ایران “جو کچھ دینے پر راضی ہو گیا ہے وہ دینے پر راضی ہو جائے” تو ایپک فیوری “ختم ہو جائے گا”۔ دوسری صورت میں، ٹرمپ نے لکھا، “بمباری شروع ہوگی ، اور افسوس کی بات ہے کہ یہ پہلے کی نسبت بہت زیادہ سطح اور شدت پر ہو گی۔”منگل کو وائٹ ہائوس میں میڈیا بریفنگ میں روبیو نے صحافیوں کو بتایا کہ آپریشن ایپک فیوری ختم ہو گیا ہے۔
روبیو نے کہا”آپریشن ایپک فیوری ختم ہو گیا ہے، ہم نے اس آپریشن کے مقاصد حاصل کر لیے،” ۔انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست بات چیت کا بندوبست کرنے کی پاکستان کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “ہم کسی اضافی صورتحال کے پیش آنے پر خوش نہیں ہیں، ہم امن کے راستے کو ترجیح دیں گے، صدر جس چیز کو ترجیح دیں گے وہ ایک ڈیل ہے۔”امریکی میڈیا کے مطابق امریکا ایران جنگ کے خاتمے کا 14 نکاتی فارمولا تیار ہے اور فریقین میمو پر اتفاق کے قریب ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق جنگ بندی کیلئے امریکا، پاکستان اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور تجاویز کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ادھر امریکی حکام اور وائٹ ہائوس کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور ایٹمی مذاکرات کے نئے فریم ورک پر اتفاق کے لیے ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت (MOU) تیار کر لی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق فریقین اس وقت معاہدے کے اتنے قریب ہیں جتنا جنگ کے آغاز سے اب تک کبھی نہیں رہے تھے۔امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکا کو اگلے 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے چند اہم نکات پر حتمی جواب کا انتظار ہے۔
اگرچہ ابھی کسی دستاویز پر دستخط نہیں ہوئے، لیکن صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف ایرانی حکام سے براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہیں۔ایگزیوز کے مطابق مجوزہ 14 نکاتی معاہدے میںیہ نکات موجود ہیںکہ ایم او یو پر دستخط ہوتے ہی خطے میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا جائے گا۔معاہدے کے بعد 30 دنوں کے اندر اسلام آباد یا جنیوا میں تفصیلی مذاکرات ہوں گے جن میں پابندیوں کے خاتمے اور ایٹمی پروگرام پر حتمی بحث ہوگی۔ اس 30 روزہ مدت کے دوران ایران کی جانب سے جہاز رانی پر پابندیاں اور امریکا کا بحری محاصرہ بتدریج ختم کر دیا جائے گا۔ ایران 12 سے 15 سال تک یورینیئم کی افزودگی روکنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ امریکا 20 سال کا مطالبہ کر رہا ہے۔خبر کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر اپنا اعلیٰ افزودہ یورینیئم ملک سے باہر منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ایک تجویز کے مطابق یہ مواد امریکا منتقل کیا جا سکتا ہے، جو کہ تہران کی سابقہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔اس کے بدلے میں امریکا ایران کے منجمد اربوں ڈالرز ریلیز کرے گا اور پابندیوں میں بتدریج نرمی کی جائے گی۔یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی افواج بحری محاصرہ دوبارہ بحال کرنے اور فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔