ماروگ،ڈگڈول4لین ٹنل کی تکمیل 2027کے بعد تک مؤخر ہونے کا امکان
عظمیٰ نیوزسروس
بانہال// سرینگر،جموں قومی شاہراہ کے سب سے حساس اور خطرناک رام بنـ بانہال سیکٹر پر جاری فور لین تعمیراتی منصوبے میں برسوں کی تاخیر کے بعد اب تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے حکام نے کہا ہے کہ امرناتھ یاترا سے قبل کئی اہم ٹنل اور وایاڈکٹ حصے ٹریفک کے لیے کھول دیے جائیں گے تاکہ یاتریوں اور عام ٹریفک کو راحت فراہم کی جا سکے۔حکام کے مطابق ڈگڈول،پنتھیال جڑواں ٹنل کا جنوبی ٹیوب، جو جموں کی سمت جاتا ہے، یاترا کے آغاز سے قبل فعال کر دیا جائے گا۔ اس حصے کی لمبائی تقریباً 3.08 کلومیٹر ہے جبکہ شمالی ٹیوب، جو سری نگر کی جانب جاتا ہے، بعد میں مکمل ہوگا۔ تقریباً 5.7کلومیٹر طویل اس فور لین جڑواں ٹنل منصوبے پر 866.37کروڑ روپے لاگت آ رہی ہے۔یہ ٹنل خاص طور پر بدنام زمانہ خونی نالہ سیکٹر کو بائی پاس کرنے کے لیے تعمیر کی جا رہی ہے، جہاں اکثر لینڈ سلائیڈنگ، شوٹنگ سٹونز، مٹی کے تودے گرنے اور سڑک بند ہونے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ این ایچ اے آئی پروجیکٹ ڈائریکٹر شبھم یادو نے بتایا کہ کام تیزی سے جاری ہے اور یاترا سے قبل جنوبی ٹیوب ٹریفک کے لیے کھول دی جائے گی۔ادھر زیر تعمیر 6.02کلومیٹر طویل شیر بی بی،رامسو ایلیویٹڈ وایاڈکٹ کے تقریباً 1.9کلومیٹر حصے کو بھی امرناتھ یاترا سے پہلے ٹریفک کیلئے فعال کرنے کی تیاری جاری ہے۔ حکام کے مطابق اس میں 800میٹر اور 1100میٹر کے دو الگ الگ وایاڈکٹ حصے شامل ہیں۔ باقی اوورہیڈ برج، فلائی اوور اور دیگر ڈھانچوں پر کام بھی جاری ہے۔منصوبے سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ اگر کام کی رفتار برقرار رہی تو شیر بی بی ـرامسو وایاڈکٹ کا باقی حصہ دسمبر 2026تک مکمل کیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر منصوبہ 2027تک بھی جا سکتا ہے۔جموں و کشمیر اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ڈگڈول،پنتھیال ٹنل منصوبے کا 85.50فیصد فزیکل اور 84.43فیصد مالی کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ اس کی نظرثانی شدہ تکمیل کی تاریخ 30اپریل 2026مقرر کی گئی تھی۔اسی طرح شیر بی بی،رامسو وایاڈکٹ منصوبے کا 44.50فیصد فزیکل اور 44.33فیصد مالی کام مکمل ہوا ہے اور اس کی متوقع تکمیل 31دسمبر 2026مقرر کی گئی ہے۔تاہم رام بن،بانہال سیکٹر کا ایک اور اہم حصہ، ماروگ،ڈگڈول چار لین جڑواں ٹنل منصوبہ، اب بھی سست رفتاری کا شکار ہے۔ تقریباً 4.38 کلومیٹر لمبے اس منصوبے پر اب تک صرف 25فیصد کام مکمل ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر تعمیراتی رفتار میں بہتری نہ آئی تو منصوبہ دسمبر 2027کے بعد 2028تک بھی کھنچ سکتا ہے۔ حکام نے بتایا کہ ماروگـڈگڈول ٹنل میں بھی دو الگ الگ ٹیوب شامل ہیں، جن میں ایک جموں جبکہ دوسرا سری نگر کی جانب ٹریفک لے جائے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے موجودہ خطرناک سڑک کے تقریباً پانچ کلومیٹر حصے کو بائی پاس کیا جائے گا۔سرکاری حکام نے تاخیر کی وجوہات میں شدید بارشیں، بادل پھٹنے کے واقعات، فلیش فلڈ، دشوار گزار پہاڑی علاقہ، لینڈ سلائیڈنگ، ٹریفک دباؤ، جغرافیائی پیچیدگیاں، مقامی رکاوٹیں، مشینری اور افرادی قوت کی تاخیر سے دستیابی اور ٹھیکیداروں کی سست رفتار کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔حکام کے مطابق رام بن ـبانہال سیکٹر ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے انتہائی غیر مستحکم علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں ڈھلوانیں کمزور ہیں اور بار بار مٹی کے تودے گرنے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔منصوبہ ابتدا میں 2015میں بڑے پیمانے پر پہاڑ کاٹ کر سڑک تعمیر کرنے کے ماڈل پر شروع کیا گیا تھا، تاہم مسلسل لینڈ سلائیڈنگ اور ڈھلوانوں کے غیر مستحکم ہونے کے بعد حکام کو حکمت عملی تبدیل کرنا پڑی۔ بعد ازاں منصوبے کو ٹنلز، وائڈکٹس، فلائی اوورز، معلق پلوں اور اوورہیڈ برجوں پر مبنی نئے ڈیزائن کے مطابق دوبارہ ترتیب دیا گیا۔حکام نے اعتراف کیا کہ ابتدائی مرحلے میں کئی مقامات پر مناسب جغرافیائی اور ماحولیاتی جائزے کے بغیر پہاڑی کٹائی کی گئی، جس سے ڈھلوانیں مزید غیر مستحکم ہوئیں اور لینڈ سلائیڈنگ میں اضافہ ہوا۔رام بن،بانہال شاہراہ منصوبہ ابتدا میں ایچ سی سی، گیمن انڈیا اور چودھری پاور پروجیکٹس لمیٹڈکے سپرد تھا، تاہم اب زیادہ تر باقی کام سیگل انڈیا لمیٹڈ انجام دے رہی ہے۔گزشتہ برس شدید بارشوں، فلیش فلڈ اور مٹی کے تودے گرنے کے باعث شاہراہ کو کئی مرتبہ بند کرنا پڑا، جس سے وادی کشمیر کو اشیائے ضروریہ کی سپلائی اور ٹرانسپورٹ نظام بری طرح متاثر ہوا۔ سینکڑوں سیب بردار ٹرک کئی دنوں تک درماندہ رہے جس سے باغبانی شعبے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔حکام کے مطابق اب حساس مقامات پر حفاظتی اقدامات مزید مضبوط کیے جا رہے ہیں۔ ڈلواس سیکٹر میں تقریباً 2.2کلومیٹر ٹنل اور وایاڈکٹ کام دسمبر 2025میں مکمل کیا جا چکا ہے۔واضح رہے کہ سری نگرـجموں قومی شاہراہ کی فور لیننگ کا منصوبہ 2011میں شروع کیا گیا تھا اور اس کی تکمیل پانچ برس میں متوقع تھی، تاہم مسلسل قدرتی آفات، دشوار گزار جغرافیہ اور تکنیکی مسائل کے باعث منصوبہ طویل تاخیر کا شکار ہو گیا۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد سری نگر اور جموں کے درمیان سفر کا وقت تقریباً 9گھنٹوں سے کم ہو کر 4گھنٹے رہ جانے اور فاصلہ تقریباً 50کلومیٹر کم ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔