ڈاکٹر زبیر سلیم
گزشتہ دنوں مرکز ِ مطالعاتِ بین الشعبہ جاتی عمر رسیدگی، ایم ایم ایف میں، بی بی حلیمہ کالج آف نرسنگ کی انٹرن نرسوں کے ایک گروپ کے ساتھ ایک دلچسپ طبی گفتگو کے دوران، ایک طالبہ نے نہایت بصیرت افروز سوال کیا’’سر، ہم گھر پر پارکنسنز کے مریضوں کی مؤثر نرسنگ دیکھ بھال کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘
یہ محض ایک سوال نہیں تھا،بلکہ گھر پر فراہم کی جانے والی نگہداشت کے ایک نہایت نظر انداز شدہ پہلو کا آئینہ تھا۔ عمر رسیدہ مریضوں کے ساتھ قریبی کام کرنے اور الزائمر (AD) اور پارکنسنز (PD) کی بیماری سے خاموشی سے لڑنے والوں کی زندگیاں قریب سے دیکھنے کے بعد، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان بیماریوں کے بارے میں اکثر خاندانوں اور حتیٰ کہ کئی دیکھ بھال کرنے والوں کا علم محض سطحی ہوتا ہے۔
گزشتہ چند مہینوں میں، کمیونٹی ہیلتھ پروگرام کے تحت اپنے گھریلو دوروں کے دوران، میں نے الزائمر اور پارکنسنز کے ساتھ زندگی گزارنے والے بزرگوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے۔ اگرچہ تشخیص بذاتِ خود ایک طبی حقیقت ہے، مگر ان بیماریوں کے گرد پھیلی غلط فہمیاں، جذباتی غفلت اور غیر مستقل دیکھ بھال اصل مسائل ہیںجو نہ صرف مریض بلکہ ان کے خاندانوں اور نگہداشت کرنے والوں کے لئے بھی اذیت کا سبب بنتے ہیں۔
الزائمر اور پارکنسنز کو سمجھنے کی ضرورت
اکثر الزائمر کے مریضوں کو’’پاگل‘‘ سمجھ لیا جاتا ہے، ان کی یادداشت کی کمزوری اور الجھن کو محض بڑھاپے کا حصہ قرار دے دیا جاتا ہے۔پارکنسنز کے مریضوں میں، لوگ صرف ہاتھوں کے کانپنے پر توجہ دیتے ہیں اور موڈ، گفتگو اور حرکت شروع کرنے میں درپیش گہری مشکلات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ دونوں بیماریاں اعصابی تنزلی (Neurodegenerative) کی ہیں، یعنی یہ آہستہ آہستہ انسان کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہیںمگر اس کا وقار چھیننے کا انہیں کوئی حق نہیں۔
جسے اکثر لوگ نہیں سمجھتے، وہ یہ ہے کہ AD اور PD ،دونوں میں نگہداشت کا طریقہ صرف ہمدردی نہیں بلکہ تسلسل، مؤثر رابطے اور تخلیقی سوچ پر مبنی ہونا چاہیے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مریضوں کا غیر معمولی رویہ یا حرکت کی دشواری خود بیماری کی علامت ہے،یہ انسان نہیں، بیماری بول رہی ہوتی ہے۔
الزائمر (AD) کے مریضوں کی دیکھ بھال:کرنے کے کام (DOs)
مانوس ماحول قائم کریں: یاد دہانی کے لئے خاندانی تصاویر، بڑے کیلنڈر، گھڑیاں، لیبل شدہ دراز، اور دروازوں پر نشانات لگائیں۔مانوسیت بے چینی کم کرتی ہے۔ معمول سکون اور تحفظ دیتا ہے۔
مختصر اور واضح جملوں میں بات کریں:سادہ زبان استعمال کریں۔ ایک وقت میں ایک ہدایت دیں۔ انہیں سمجھنے کے لئے وقت دیں۔ ایک ساتھ بہت سے اختیارات نہ دیں۔
آواز اور لمس کی طاقت استعمال کریں:پرسکون آواز، نرم لمس اور حوصلہ افزا آنکھوں کا رابطہ خوف کو دوا سے زیادہ کم کر سکتا ہے۔ آپ کی موجودگی آپ کے الفاظ سے زیادہ اہم ہے۔
یادوں کی موسیقی سنوائیں:جوانی کے گیت گہری جذباتی یادداشت کو چھیڑتے ہیں۔ یہ خوشی لا سکتے ہیں، غصہ کم کر سکتے ہیں اور بعض اوقات آخری مراحل میں بھی گفتگو کو ابھار دیتے ہیں۔
احکامات کے بجائے انتخاب دیں:یہ کہنے کے بجائے کہ’’یہ پہن لو‘‘، کہیں’’آپ نیلا سویٹر پہننا پسند کریں گے یا سبز؟‘‘۔اختیار کا احساس وقار کو برقرار رکھتا ہے۔
محفوظ خود مختاری کی حوصلہ افزائی کریں:انہیں اپنے بال سنوارنے یا تولیے تہہ کرنے دیں،چاہے مکمل نہ ہو۔ بامقصد کام جھنجھلاہٹ کم اور خود اعتمادی بڑھاتے ہیں۔
بحث نہ کریں، توجہ موڑ دیں:اگر وہ کسی غلط یاد یا بات پر اصرار کریں تو درست کرنے کے بجائے توجہ ہٹا دیں، مثلاً:’’آئیے انتظار کرتے ہوئے آپ کا فوٹو البم دیکھتے ہیں‘‘۔
یادداشت کے ڈبے استعمال کریں: ایک ذاتی’’خزانے کا ڈبہ‘‘بنائیں جس میں پرانی اشیاء، خطوط یا چھونے والی چیزیں ہوں،یہ یادداشت کو جگاتا اور بے چینی کم کرتا ہے۔
پانی اور غذا پر خاموشی سے توجہ دیں: فنگر فوڈز یا رنگین پلیٹیں پیش کریں۔ بعض اوقات بصری اشارے، جیسے پانی کی بوتل یا پھلوں کا پیالہ، زبانی یاد دہانی سے زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔
غیر زبانی اشاروں پر نظر رکھیں:تکلیف، درد یا اداسی بے چینی یا غصے کی صورت میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ چہرے کے تاثرات اور معمول کے رویے میں تبدیلیوں پر گہری نظر رکھیں۔
الزائمر کی دیکھ بھال میں پرہیز (DON’Ts)
سختی سے بحث یا اصلاح نہ کریں۔ وہ جھوٹ نہیں بول رہے، الجھن میں ہیں۔
انہیں تنہا نہ چھوڑیں۔ خاموش انسانی موجودگی بھی شفا بخش ہوتی ہے۔
ماحول میں اچانک تبدیلی نہ کریں۔
یہ نہ سمجھیں کہ وہ محسوس نہیں کر سکتے۔ یادداشت مدھم ہو سکتی ہے، مگر جذبات دیر تک باقی رہتے ہیں۔
پارکنسنز (PD) کے مریضوں کی دیکھ بھال:کرنے کے کام (DOs)
سست روی کا احترام کریں:انہیں وقت دیں۔ جلد بازی گرنے اور جھنجھلاہٹ کا خطرہ بڑھاتی ہے۔
باریک حرکات کو آسان بنائیں:بٹنوں کی جگہ ویلکرو استعمال کریں۔ چوڑے دستوں والے کپ اور وزنی چمچ استعمال کروائیں۔
حرکتی تھراپی شامل کریں:کرسی یوگا، رہنمائی کے ساتھ چہل قدمی، حتیٰ کہ رقص بھی اکڑاؤ اور موڈ میں بہتری لاتا ہے۔
دواؤں کے’’آف‘‘ اوقات پر نظر رکھیں:جب دوا کا اثر کم ہو تو اضافی مدد فراہم کریں۔
اظہار کے مواقع دیں:ڈرائنگ، گنگنانا یا تال کے ساتھ انگلیاں بجانا،ہر وہ سرگرمی جو دماغ اور پٹھوں کو متحرک رکھے۔
پارکنسنز کی دیکھ بھال میں پرہیز (DON’Ts)
چلتے وقت انہیں کھینچیں یا جھٹکا نہ دیں۔ اس کے بجائے سہارا دینے کے لئے اپنا بازو پیش کریں۔
یہ نہ سمجھیں کہ کپکپی = کمزوری۔ شدید حرکتی علامات کے باوجود ذہانت برقرار رہ سکتی ہے۔
ڈپریشن کی علامات کو نظر انداز نہ کریں۔ پارکنسنز کے مریض اکثر خاموشی سے تکلیف اٹھاتے ہیں۔
منہ اور دانتوں کی صفائی کو نظر انداز نہ کریں،نگلنے میں دشواری سانس کی نالی میں غذا جانے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
سیکھا ہوا بھلا کر دوبارہ سیکھنا
نرسنگ کے طلبہ سے گفتگو کے دوران جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ،وہ یہ تھی کہ وہ محض طریقۂ کار نہیں جاننا چاہتے تھے،وہ مریض کی دنیا کو سمجھنا چاہتے تھے۔ اور یہی نگہداشت کا اصل مقصد ہونا چاہیے:کسی اور کی مدھم ہوتی حقیقت میں شعوری طور پر داخل ہونا،صرف علامات کو سنبھالنا نہیں بلکہ ان کی روح کی آبیاری کرنا۔
جدید نگہداشت کرنے والوں کو محض معاون کا کردار چھوڑنا ہوگا۔ انہیں جذبات کے مترجم، معمولات کے معمار، اور حالات کے مطابق ڈھلنے والے ساتھی بننا ہوگا۔
نگہداشت کے تخلیقی خیالات
یادداشت کا باغ:مانوس پودوں، خوشبوؤں اور ماضی کی اشیاء کے ساتھ ایک چھوٹی سی جگہ،بھٹکتی دنیا میں ایک حسی سہارا۔
آئینے کے سامنے گفتگو:جن مریضوں کی گفتگو کم ہو رہی ہو، انہیں آئینے کے سامنے اشاروں کی ترغیب دیں،یہ خود پہچان کو ابھارتا اور غیر متوقع ردِعمل پیدا کرتا ہے۔
کہانی کا حلقہ (Story Circle) تھراپی:مریض کے ساتھ بیٹھیں اور انہیں کہانیاں’’سننے‘‘ دیں،چاہے وہ الجھی ہوئی ہوں۔ درستگی نہیں، ربط اہم ہے۔
پارکنسنز میں حرکت کے اشارے:تالیاں یا میٹرونوم استعمال کریں تاکہ چلنا شروع کرنے میں مدد ملے۔ دماغ احکامات کے مقابلے میں تال پر بہتر ردِعمل دیتا ہے۔
دیکھ بھال: ایک وکالت کی صورت
الزائمر اور پارکنسنز دونوں ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم ردِعمل کے بجائے پیشگی نگہداشت اپنائیں۔ ابتدائی مداخلت، محفوظ ماحول، جذباتی تسلسل اور شناخت کا احترام ناگزیر ہیں۔ نگہداشت کرنے والے،خصوصاً نرسیں،نہ صرف زندگی کو بڑھانے بلکہ اس کے آخری ابواب کے معیار کو بہتر بنانے کی کنجی رکھتی ہیں۔
آج طالبہ کا پوچھا گیا سوال ہماری تربیتی کلاسوں، کلینکس اور گھروں میں گونجنا چاہیے:’’ہم بہتر دیکھ بھال کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘ اور اس کا جواب صرف دواؤں اور احتیاطی تدابیر سے آگے ہونا چاہیے۔ اس کی ابتدا اور انتہا ہمدردی، تخلیقی سوچ اور باخبر عمل پر ہونی چاہیے۔آئیے ہم صرف ہاتھوںکو نہیں، دلوں کو بھی تربیت دیں۔