اخلاق اور اقدار کی پاسداری میں ادب اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ادب کو دراصل ادب کہنے کی یہی دو وجوہات ہیں ایک (زبان وادب)اور دوسرا (تہذیب) یعنی تہذیب اور اخلاق کی مناسبت سے ادب کو ادب کہتے ہیں ۔کسی بھی زبان کا ادب ہو، اس میں اقدار کا لحاظ رکھا جاتا ہے اور رکھا جانا چاہئے ۔اردو ادب کی اگر بات کریں گے تو اس ادب کا مقصد بھی انسانی اقدار کی پاسداری، ظلم و ستم کا خاتمہ، معاشرے میں مساوات کو فروغ دینا اور پْر امن معاشرے کی تشکیل سے جْڑا ہوا ہے۔ ادب چاہے نثر کی صورت میں ہو یا نظم کی صورت میں، اس کا بنیادی موضوع انسان، انسانیت اور انسان کے مصائب و مشکلات ہی رہے ہیں ۔اگر اردو کے نامور شاعر مرزا غالب کی بات کریں تو انہوں نے اپنی شاعری میں تصوف پر زور دیا ہے یعنی وہ اپنی شاعری میں انسان کو سچا انسان بننے اور اپنے خالق کا فرمانبردار بنے کا پیغام سناتے ہیں۔ اس سلسلے میں غالب کا ایک مشہور شعر ملاحظہ فرمائیں
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
ڈاکٹر علامہ اقبال نے بھی اپنی شاعری میں انسانیت پر سخت زور دیا ہے۔ وہ ایک پر امن اور صالح معاشرے کے متمنی ہیں۔انہوں نے اپنے شاعری میں انسان کو اپنی خودی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی خودی کا بھی احترام کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تب تک ہم اچھے انسان نہیں بن سکتے ہیں اور نہ ہی نیک اور صالح معاشرے کی توقع کر سکتے ہیں جب تک ہم اپنی خودی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی خودی کا بھی لحاظ نہیں رکھیں گے۔ وہ قوم کے نوجوانوں کو شاہین کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور انہیں باکردار، نیک، اور صالح بننے کے لیے ان کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں ؎
تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا
تیرے آگے آسمان اور بھی ہیں
نہیں تیرا نشیمن قصر ِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
علامہ اقبال نے اپنی شاعری خاص کر اپنی نظموں میں انسانیت کا درس دیا ہے اور ایسا سماج چاہتے ہیں جہاں امن و سکوں ہو،مساوات ہو اور ظلم و ستم اور بربریت کا دور دور تک کوئی نشان نظر نہ آتا ہو۔
مولانا الطاف حسین حالی اردو کے ایک قدآور نظم نگار گزرے ہیں۔ انہوں نے اپنی نظموں کے ذریعے سماج کے مظلوم طبقوں کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی ہے ۔انہوں نے مناجات بیوہ، چپ کی داد جیسی نظمیں تخلیق کر کے لافانی کام انجام دیا ہے۔ مناجات بیوہ میں بیواؤں کی حالت اور آہ و فغان اس طرح قلم بند کی گئی ہے کہ قاری کی آنکھیں نم ہوئے بغیر نہ رہ پاتی ہیں ۔ان کی نظموں کا بنیادی مقصد انسان کے اندر انسانی اقدار جگانا ہے تاکہ معاشرہ با کردار اور با اخلاق بن جائے۔ اسی طرح سے باقی شعراء کرام نے اپنے اپنے انداز سے شاعری کے ذریعے انسانیت کا پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔
اسی طرح سے نثر نگاری میں بھی اخلاقیات کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔ اردو کے مشہور افسانہ نگار پریم چند نے اپنے افسانوں کے ذریعے کسانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کی اور مظلوم کسانوں کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔اسی طرح اردو کے ایک اور افسانہ نگار منٹو کی اگر بات کریں گے تو انہوں نے بھی اپنے افسانوں میں معاشرے میں پنپنے والی فحاشی کے خلاف قلم اٹھایا یہاں تک کہ ان کے خلاف مقدمے بھی درج کئے گئے لیکن ان کا صرف ایک ہی جواب تھا کہ جب تک معاشرہ برائی نہیں چھوڑے گا میں برائی کے خلاف لکھتا رہوں کا۔یہ ادب اور ادیبوں کی زندہ ضمیری ہی ہے جو اسے حق کے ساتھ شانہ بشانہ رہنے کی ہمت دیتا ہے۔
مولوی نذیر احمد اردو کے پہلے ناول نگار ہیں۔ ان کی مشہور ناولیں مراۃالعروس، توبۃانصوع مشہور عام ہیں ۔انہوں نے یہ ناولیں اپنے بچوں کے لیے لکھیں توظاہر سی بات ہے کہ ان میں بچوں کی اخلاقی تربیت کا عنصر کوٹ کوٹ کر بھرا ہو گا ۔مراۃالعروس کا ایک حصہ دسویں جماعت کے نصاب میں بھی شامل ہے جس میں ایک ٹھگنی حجن کی صورت میں آتی ہے اور مزاج دار بہو کے سارے زیورات اڑا کر لے جاتی ہے۔ اسے ناول میں لڑکیوں کو ہوشیار رہنے کی بات سمجھائی گئی اور اْنہیں بتایا گیا کہ انہیں کسی اجنبی کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔ مزاج دار کے شوہر محمد عاقل کے ساتھ ساتھ تمام پڑھنے والوں کے لیے نصیحت ہے کہ ہمیشہ عقل سے کام لینا چاہیے اور کبھی بھی لالچ میں نہیں آنا چاہئے کیونکہ لالچ بری بلا ہے ۔
موجودہ دور میں بھی جو ادیب اور شاعر لکھ رہے ہیں، وہ بھی اپنے قلم کے ذریعے اقدار کی پاسداری کا کام کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے لیکن جس ذمہ داری سے یہ کام ہونا چاہیے ،شاید اس ذمہ داری سے نہیں ہو پاتا ہے ۔موجودہ دور میں اگر نئی نسل میں اخلاقیات کا فقدان نظر آ رہا ہے تو اس کی ذمہ داری براہ راست یا بالواسطہ طور پر ادب پر ہی عائد ہوتی ہے۔ یا تو ادیب ایسا ادب تخلیق کر رہے ہیں جس سے اخلاقی گراوٹ وجود میں آتی ہے یا وہ ادب میں اخلاقیات کا موضوع لانا بھول گئے ہیں۔
بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ موجودہ نسل ادب سے دوری اختیار کرتی جارہی ہے۔ موجودہ نسل اور خاص کر اردو ادب میں خلیج بڑھتا جا رہا ہے۔ مختلف اسکولوں اور کالجوں میں اردو پڑھانے والے اساتذہ سے گزارش ہے کہ وہ بچوں میں اردو زبان و ادب کے تئیں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں۔ وقتاً فوقتاً اسکولوں اور کالجوں میں مشاعروں کا اہتمام کریں۔اردو اساتذہ کو چاہیے کہ کبھی کبھی بیت بازی مقابلوں کا بھی انتظام کیا کریں ۔اس عمل سے بچوں میں اشعار یاد رکھنے کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔ بچوں کو نثری اصناف پر بھی طبع آزمائی کے لیے موقع فراہم کئے جانے چاہئیں۔ ایسا کرنے سے طلباء میں ادبی ذوق پیدا ہو گا ۔بچوں کو ادب کی طرف راغب کرنا اخلاقیات کی طرف راغب کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ادبی ذوق کی بدولت بچوں میں اخلاقیات کی کمی کو دور کیا جا سکتا ہے۔
اس لیے ادیبوں اور شاعروں کو ایسا ادب اور ایسی شاعری تخلیق کرنی چاہیے جس سے موجودہ نسل برائی سے اچھائی کی طرف مائل ہو اور موجودہ نوجوان با اخلاق اور با ضمیر بن جائیں۔ اس طرح سے ادب سے اقدار کی پاسداری کا بہترین کام لیا جا سکتا ہے۔
پتہ۔اویل نورآباد،کولگام کشمیر
فون نمبر۔7006738436