کابل //افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سرکاری ہسپتال کے زچگی یونٹ میں حملے سے 2 نومولود سمیت 13 افراد مارے گئے جبکہ مشرقی صوبے ننگرہار میں ایک جنازے میں بم دھماکے سے کم ازکم 24 افراد ہلاک اور 68 زخمی ہوگئے۔خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے تحت سرکاری ہسپتال میں چلنے والے زچہ و بچہ کلینک میں مسلح افراد نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہوئے جن میں 2 نومولود بھی شامل ہیں۔دوسری جانب مشرقی صوبے ننگرہار میں ایک پولیس کمانڈر کے جنازے میں خودکش بم دھماکا ہوا جس میں حکومتی عہدیداروں اور اراکین پارلیمنٹ کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔افغانستان میں ہونے والے دونوں دھماکوں کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی تاہم داعش ننگرہار میں سرگرم ہے اور حالیہ مہینوں میں کابل میں بھی متعدد حملے کیے ہیں۔ننگر ہار کی صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جنازے میں حملے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق کابل کے دشت برچی ہسپتال میں پولیس کی وردی میں تین مسلح افراد داخل ہوئے اور گرینیڈ پھینکا اور فائرنگ شروع کردی۔وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ حملے میں 15 افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے دوپہر تک حملہ آوروں کو بھی ہلاک کردیا۔
پاکستان کی مذمت
اسلام آناد //پاکستان نے افغانستان میں کابل کے ہسپتال اور ننگرہار میں خود کش حملے کی مذمت کی اور انسانی جانوں کے ضیاع کو غیر انسانی اور بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔دفترخارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'مقدس ماہ رمضان میں یہ دہشت گردی کی کارروائی کی گئی اور ایک ایسے وقت میں جب افغانستان کووڈ-19 سے لڑ رہا ہے'۔انہوں نے کہا کہ 'ہم متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اور زخمیوں کی فوری صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں'۔دفتر خارجہ نے کہا کہ 'ہماری دعائیں اور احساسات دکھ کی اس گھڑی میں افغانستان کے عوام کے ساتھ ہیں'۔پاکستان کی جانب سے کہا گیا کہ 'پاکستان دہشت گردی کی ہر قسم کی مذمت کرتا اور پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا'۔