یہ اپریل 1935ء کی بات ہے،مشہور آئرش سکالراور ادیب، جارج برنارڈ شانے جنوبی افریقہ جاتے ہوئے ممباسہ (کینیا)میں قیام کیا۔وہ بذریعہ بحری جہاز سیر و تفریح کرنے جنوبی افریقہ جا رہے تھے۔ممباسہ کا مجسٹریٹ شا کا رشتے دار تھا،سو وہ تین دن اسی کے ہاں ٹھہرے۔ مجسٹریٹ کی زبانی انھیں معلوم ہوا کہ آج کل شہر میں ہندوستان سے ایک نامور مسلمان عالم دین آئے ہوئے ہیں۔وہ بڑے مؤثر انداز میں مذہب اسلام کی خصوصیات بیان کرتے ہیں۔شا عالمی مذاہب کے مطالعے سے دلچسپی رکھتے تھے،سو انھوں نے ہندوستانی عالم سے ملنے کا اشتیاق ظاہر کیا۔مجسٹریٹ نے ملاقات کا اہتمام کر دیا۔ 17؍اپریل کی صبح مولانا عبدالعلیم صدیقی شا سے ملنے چلے آئے۔ برنارڈشا واحد ادیب ہیں جنھوں نے ادب کانوبیل انعام اور آسکر ایوارڈ،دونوں حاصل کیے۔ دوسری طرف کم عمری کے باوجود مولانا عبدالعلیم صدیقی کی شہرت بہ حیثیت مبلغِ اسلام پوری دنیا میں پھیل چکی تھی۔وہ وسیع المطالعہ شخصیت، درس نظامی کے سند یافتہ اور ایل ایل بی تھے۔ غیرمعمولی دماغ رکھنے والی دونوں ہستیوں میں جو پُرمغز گفتگو ہوئی،اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:برنارڈ شا:مجھے افسوس ہے کہ پچھلی رات آپ کا لیکچر نہیں سن سکا۔تاہم یہ ضرور جانتا ہوں کہ آپ نے فلسفہ ٔ امن پر اظہار خیال کیامگر کیاا ٓپ کو فلسفہ ٔجنگ پہ لیکچر نہیں دینا چاہیے تھا؟آخر اسلام تلوار کے زور پر ہی پھیلا ہے۔مولانا طنز کو سمجھ گئے مگر بڑے حوصلے کیساتھ مدلل جواب دے کر برنارڈ شا کو لاجواب کردیا۔مولانا عبدالعلیم صدیقی نے کہا کہ یہ مغرب میں پھیلا بہت بڑا مغالطہ ہےلیکن مجھے حیرت ہے کہ آپ جیسا دانا و بینا دانشور بھی ان دیومالائی کہانیوں پہ یقین رکھتا ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا۔جس مذہب کے نام کے لغوی معنیٰ ہی ’’امن‘‘ ہوں،وہ جنگوں کا حامی کیسے ہو سکتا ہے؟ قرآن پاک اور ہمارے رسولؐ کی احادیث میں واضح طور پہ آیا ہے کہ مسلمان صرف دفاعی جنگ لڑ سکتا ہے،جب اس پہ ظلم کیا جائے، تب وہ اپنے دفاع کی خاطرتلوار اٹھا سکتا ہے۔مزید برآں قران مجید میں صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ مذہب کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں (البقرہ۔256)۔چنانچہ کسی غیر مسلم کو ڈرادھمکا کر مسلمان کرنا گناہ اور حرام ہے۔ہماری مقدس کتاب میں ہی اللہ تعالیٰ نے تبلیغ کا طریق کار کچھ یوں بیان فرمایا ہے: ’’لوگوں کو حکمت اور نیک نصیحت کے ذریعے خدا کے راستے کی طرف بلائواوربہت اچھے طریقے کے ساتھ ان سے مناظرہ کرو۔(النحل۔125) تاریخ افشا کرتی ہے کہ325ء میں نیقہ کونسل نے (نعوذباللہ) حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا قرار دے ڈالا۔دراصل یہ اقدام بازنطینی شہنشاہ قسطنطین اعظم کے شدید دبائو پہ اُٹھایا گیا۔ بعد ازاں جن عیسائیوں نے یہ نیارضی نظریہ تسلیم کرنے سے انکار کیا،انھیں بے دردی سے قتل کر دیا گیا،مگر میں اس بھیانک قتل عام کا ذمے دار حقیقی عیسائیت کو نہیں گردانتا۔اس کے مرتکب وہ حکمران اور پادری تھے جو اپنے نظریات عوام پہ تھوپ کر ذاتی مفادات کا تحفظ اور طاقت چاہتے تھے۔ اسی طرح صلیبی جنگوں کا آغاز ان عیسائی بادشاہوں اور بطریقوں نے کیا جن کی آمرانہ حکومت اور پُرآسائش طرز ِزندگی عوام دوست اسلامی تعلیمات پھیلنے سے خطرے میں پڑگئے۔
برنارڈ شا اس پر مخاطب ہوئے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ رومن چرچ کے انتہاپسندوں نے اپنے نظریات عوام پہ ٹھونسنے کیلئے مخالفین پہ بہت ظلم ڈھائے۔ عیسائیت کی اصل تعلیم کا اس قتل وغارت سے کوئی تعلق نہیںاور یہ بھی سچ ہے کہ مغرب میں اسلام کے حوالے سے کئی مغالطے پائے جاتے ہیں،مگر سوال یہ ہے کہ کیا دیگر مسلمان بھی اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ اسلام کو زبردستی نہیں پھیلایا جا سکتا؟مولانا عبدالعلیم صدیقی نے پورے اعتماد سے پھر جواب دیا کہ قرآن پاک میں ہر مسلمان کو حکم دیا گیا کہ وہ دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہ کرے،یہ میرا ذاتی نظریہ نہیں! مفسرین قرآن نے اس حکم کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
برنارڈشا بولے :گویا اس لحاظ سے اسلام اور عیسائیت میں مماثلت ہےاور ان میں مزید مماثلتیں بھی پائی جاتی ہیں۔مولانا عبدالعلیم صدیقی:آپ نے صحیح کہا۔ مماثلت کی وجہ یہ ہے کہ دونوں آسمانی مذہب ہیں۔ان کا اصل منبع خدائے برتر و بزرگ کی ذات ہے۔اسلام تمام الوہی مذاہب میں سب سے نیا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ اسلامی تعلیمات وہی ہیں جو حصرت ابراہیمؑ سے لے کر حضرت عیسیٰ ؑ تک سبھی رسولوں ؑ کو بتائی اور سکھلائی گئیں لیکن جب ان رسولوںؑ کی تعلیمات کو ذاتی مفاد کے اسیر پیروکاروں نے مسخ کر دیا،تب خدا نے آخری نبیؐ مبعوث فرمایا تاکہ وہ آسمانی تعلیم حقیقی شکل میں انسانیت تک پہنچا دیں۔یہی سچائی قران پاک میں یوں بیان ہوئی ہے: ’’اللہ نے تمہارے لیے دین کا وہی راستہ مقرر کیا جسے اختیار کرنے کا حکم (ہم نے)نوحؑ کو دیا تھااور جس کی اے نبی،ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی۔اور جس کا ابراہیم ؑ،موسیٰ ؑاور عیسیٰ ؑ کو حکم دیا تھا۔(الشوری۔13)
برنارڈ شا:آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے بہت مفید نکات بیان کیے۔اب میں عرب کے پیغمبر کو بہت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔آپ سے ملاقات میرے سفر کی حسین ترین یاد بن چکی۔ اس کے بعد برنارڈشا مہمان کو الوداع کہنے برآمدے تک آئے اور بڑےپُرتپاک انداز میں مولانا عبدالعلیم صدیقی کو رخصت کیا۔ ( بحوالہ: The Tanganyika Herald, MombasaKenya, Africa)
یہ ہے اسلام کا حسین اورسلامتی والا چہرہ جسے ایک سازش کے تحت مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہمیں دنیا کے سامنے اسلام کا یہی چہرہ رکھنا ہے۔ہمارے ہاں مولانا عبدالعلیم صدیقی جیسے علمائے کرام گزرے اور موجود بھی ہیں ۔مولانا مودودی،ڈاکٹر اسرار احمد اپنی حد تک ایک محدود میڈیا کے ہوتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ آج میڈیا ذرائع وسیع تر ہوچکے ہیںجن کو ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسے سکالر عصری تقاضوں کے مطابق استعمال کررہے ہیں مگر اسلام کے خلاف جس طرح کا پراپیگنڈا کیا جارہا ہے اس کے تدارک کیلئے ہمیں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے،اور یہ سب کرتے ہی رہنا ہوگا۔ہمارے پاس کسی بھی مذہب کے مقابلے میں اپنا نقطۂ نظر واضح کرنے کے کہیں زیادہ مواقع اور ذرائع ہیں۔ ہمیں اپنے دین کا سافٹ، امن پسند اور حقیقت پسندانہ امیج سامنے لانا ہوگا۔اس کے لئےہمیں جامعات اور مدارس کو اسلام کے امن وسلامتی کا تشخص اجاگر کرنے کیلئے استعمال کرنا ہوگا۔ہماری حکمت عملی وقتی نہیں صدیوں پر محیط ہونی چاہئے۔مدارس میں جدید علوم پڑھائے اور سکھائے جائیں۔مدارس سے تعلیم مکمل کر کے نکلنے والا ہر طالب علم شرق وغرب میں ایک مکمل سکالرمبلغ اوردین حنیف کی حقانیت واضح کرنے پر مکمل عبور رکھتا ہو۔اسی طرح کاؤنٹر اسلامو فوبیا ہوسکتاہے۔