موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی کشمیر میں ایک نئی چہل پہل دیکھنے کو ملتی ہے۔اس سلسلے میں لوگ موسم سرما کی لمبی قید سے نکل کر اپنے کھیت کھلیانوں اور باغات کا رخ کرتے ہیں۔یوں نئے سال کی نئی آن بان شروع ہوتی ہے اور کام کاج کا سلسلہ بھی۔لوگ سپرے موٹرز کو زنگ آلودہ سٹور رومز سے نکال کر ان کا معائینہ کرتے ہیں اور چھڑکائو کے لئے تیار بھی۔باغات میں کیمیاوی کھاد ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بازار میں دستیاب دوائیاں اور کھادیں معیاری ہیں ؟ لوگ جن ڈیلروں پر بھروسہ کرتے ہیں ،کیا وہ واقعی ایماندار اور مخلص ہیں ؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب محکمہ باغبانی جموں وکشمیر کو دینا چاہئے کیونکہ دولت کمانے کی لت میں کاروباری کسی بھی حد تک گر جاتے ہیں۔غیر معیاری اور نقلی ادویات کا دھندا ہمارے سماج میں سب سے زیادہ مقبول دھندا ہے۔راتوں رات رئیس بننے کی دوڑ میں تاجر زندگیوں کا سودا کرتے ہیں اور زہر بیچ کر ترقی کے منازل طے کرتے ہیں۔
باغبانی اس کڑی کا ایک آسان اور محفوظ نشانہ ہے کیونکہ درخت تو بولتے نہیں ہیں اور باغبانوں کو علم نہیں ہے کہ وہ پہچان سکیں کونسی دوائی معیاری ہے اور کونسی جعلی۔تاجر لوگ بھی زمینداروں کی اس معصومیت کا بھر پور ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور سستی داموں پر ملنے والی دوائیاں اور کیمیاوی کھادیں اونچے داموں پر بیچ کر بے پناہ دولت کما تے ہیں۔پھر چاہئے میوہ باغات تباہ ہوں یا برباد ،ذمہ دار بیچارہ ان پڑھ کاشت کار ہی ہوتا ہے۔
آج کل بازاروں میں سینکڑوں کمپنیوں کے ہزاروں ایجنٹ اس مشن پر ہیں کہ زیادہ سے زیادہ دکانداروں کو اپنی غیر معیاری ادویات بیچنے کی طرف مائل کر سکیں اور کاروبار کو ابال دے سکیں۔لالچ انسان کو اندھا بناتی ہے اور اندھاپن دوسروں کی بھلائی برائی سے لاپرواہ بناتا ہے۔بازاروں میں جو کھادیں دستیاب ہیں وہ معیاری ہیں یا غیر معیاری کوئی نہیں جانتا۔لوگ ریت خریدتے ہیں یا دھول معلوم نہیں۔اسی طرح کونسی دوائی معیاری ہے اور کونسی دوائی جعلی یہ بھی مبہم ہے۔لوگ بس خرید کر استعمال میں لاتے ہیں۔پھر جب اچانک کوئی بیماری ظاہر ہوتی ہے یا اثمار برباد ہوجاتے ہیں تو کاروباری یا تو موسم کو دوش دیتے ہیں یا کسان کو غافل ٹھہراتے ہیں۔کسان بیچارہ بھی یہی سمجھتا ہے کہ اس سال موسم ٹھیک نہیں تھا یا خود کو کوستا ہے کہ اس نے وہ دوائی نہیں چھڑکی۔یہ معمول کئی دہائیوں سے جاری ہے۔اب یہ بہانے پرانے ہوچکے ہیں۔
کاروباریوں کی عیاری اور مکاری اب افشا ہوچکی ہے۔کب تک چلے گا یہ مکارانہ سلسلہ۔کئی سال پہلے اخبارات میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک کاروباری کو خالی لفافوں سے بھری ٹرک کے سمیت پکڑا گیا۔پوچھا جاسکتا ہے کہ آخر کسی کمپنی کے وہ خالی لفافے کہاں سے آئے اور کس لئے ؟ ظاہر سی بات ہے کہ ان لفافوں میں یا تو آٹا ڈالا گیا ہوگا یا ایکسپئر دوائیاں۔کچھ بھی ہو دونوں صورتوں میں مضر ِ ثمر جنس بیچا گیا یا بیچا جارہاہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔الٹا اس ناجائز کاروبار کو اور زیادہ فروغ ملا۔
جموں و کشمیر کے لئے میوہ صنعت ریڈھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔اگر یہ صنعت زوال پذیر ہوئی تو یہاں کے لوگوں کی اقتصادی حالت ناگفتہ بہہ ہوگی۔محکمہ ہارٹیکلچر کو اپنے کام میں سرعت لانی ہوگی اور ایمانداری سے کام کرنا ہوگا تاکہ غیر معیاری اور جعلسازی کا یہ دھندا نہ صرف تباہ ہو بلکہ اس جرم میں ملوث مجرموں کو یادگار سبق بھی ملے۔اس سلسلے میں روزانہ بازاروں کی چیکنگ ہونی چاہئے اور باضابطہ نمونے لے کر پرکھ بھی۔تاکہ کسی بھی صورت میں معصوم اور غریب عوام جعلسازی کا شکار نہ ہوں۔یہ بات ملحوظ خاطر رکھیں کہ جو لوگ کروڑوں روپے کماتے ہیں وہ چیکنگ سکارڑ کو بھی لاکھوں دے کر کاروائی غیر موثر بنا سکتے ہیں۔
اب چونکہ جموں و کشمیر کی ایڈمنسٹریشن نے کرپشن کے خاتمے کی کوششیں تیز کی ہیں تو امید کی جاسکتی ہے کہ اس سال نقلی ادویات اور جعلی کھادوں کے دھندے پر بھی قدغن ہوگی اور معیاری ادویات کو فروغ ملے گا،میوہ صنعت کو تباہی سے بچا لیا جائے گا اور دھوکہ دہی اور جعلسازی کا خاتمہ بھی عمل میں لایا جائے گا۔
ہر قسم کی دوائیوں کو وادی میں داخل ہونے سے قبل ہی پرکھا جائے تاکہ کسی بھی صورت میں یہ دوائیاں مارکیٹ تک نہ پہنچیں۔ عام لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ ہماچل پردیش میں ملنے والی دوائیاں معیاری اور موثر ترین ہوتی ہیں۔وہاں کی گورنمنٹ نے ایسا میکانزم بنایا ہے تاکہ کوئی بھی کمپنی غیر معیاری ادویات نہ بنانے کی جرأت کرسکے اور نہ ہی محکمہ باغبانی اس کی اجازت دیتا ہے۔وہاں کی ادویات کی قیمتیں وادی میں ملنے والی ادویات کے مقابلے میں بہت کم ہیں اور موزوں بھی۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وادی میں جو دوائیاں اور کھادیں مہیا ہیں ان کی قیمتیں اونچی بھی ہیں اور غیر مناسب بھی۔ریڈیو کشمیر اور دوسرے الیکٹرانک میڈیا کو چاہیے کہ وہ سوچ سمجھ کر ادویات کی ایڈورٹائزنگ کریں کیونکہ لوگ کمپنیوں کے مقابلے میں ریڈیو اور ٹی وی پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔بہتر یہی ہوگا کہ ان کمپنیوں سے ایک حلف نامہ لے کر ہی ایڈورٹائزنگ کی جائے۔یا ان ادویات کا اشتہار کیا جائے جو معیاری ثابت ہوگئے ہوں۔
اسی طرح زرعی یونیورسٹی شالیمار سرینگرکا بھی یہ اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ صرف اور صرف معیادی ادویات کا جدول شائع کریں اور ایک مہم کے تحت لوگوں تک معیاری ادویات کی فہرست پہنچائیں اور وقفے وقفے پر بازار میں دستیاب ادویات کی جانچ پڑتال بھی کریں۔تاکہ زمیندار حضرات کسی کے بہکاوے یا دھوکے میں نہ آئیں۔
زمینی سطح پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک زمیندار تقریباً ہر ہفتے دوائیوں کا چھڑکائو کرتا ہے جس سے درختوں کی نشوونما پر برا اثر پڑتا ہے۔اس ضمن میں بھی اگر مختلف سمینار منعقد کئے جاتے تاکہ لوگوں میں بیداری پیدا ہوتی۔
اسی طرح جو نئے بیچ اور پنیریاں دریافت ہوتی ہیں ان کی بھی منڈی ضلعی سطحوں پر لگائی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔عام زمینداروں کی رسائی شالیمار یونیورسٹی کے احاطے تک نہیں ہے،اس لئے وہ زیادہ فائدہ بھی نہیں اٹھا پاتے ہیں۔دیہاتوں میں تو آج بھی دہائیوں پرانے بیچ استعمال ہوتے ہیں اور وہی روایتی طریقوں سے تیارکئے گئے بوٹے لگائے جاتے ہیں۔ دنیا بھر کے زمیندار نت نئے طریقے اپنا کر اچھی فصل بنانے میں کامیاب ہوتے ہیںجبکہ وادی میں وہی خودکار طریقے اپنائے جاتے ہیں جنہیں بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ فصل اچھی ہو۔
رابطہ ۔قصبہ کھْل ،کولگام کشمیر