اب جب کہ امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی افغانسان سے جانے میں مصروف ہیں،تو ایسے میں آگے کی صورت کیا ہوگی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اب افغانستان میں خانہ جنگی ہونے جارہی ہے اور بعض کا خیال ہے کہ اب اس زمین پرالله کا قانون نافذ ہوگا۔ جبکہ بعض مبصروں کے مطابق خانہ جنگی شروع ہوگئی ہے۔خیر جتنے منہ اتنی باتیں، مگر ایک بات تو طے ہے کہ اب افغانستان میں امن کی فضاضرور پیداہوگی۔ ظاہر ہے کہ اتنے برسوں کے دوران امریکا اور اس کے نیٹو اتحادیوں سمیت کچھ ہمسایہ ممالک نے اپنی بدنیتی کے ساتھ طالبان کے خلاف دشمنی اور افغانستان پر جارحیت کا جو خطرناک کھیل جاری رکھااور بہیمانہ طریقہ اپنایا، وہ اُن کے کام نہیں آیاتو پھرانہوں نے افغانستان میں بعض افغانیوں مختلف قسم کی مراعات ،تحفظات ،آسائشات ، پیسے اور دوسری چیزوں کے لالچ دے کر افغان طالبان کے خلاف اُکساکر خون ریزیوں اور تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری رکھا ۔ غرض کہ اس سب کچھ کرنے کے باوجود بھی وہ اپنے ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکےاور باآخر تھک ہاریہاں سے غلو خلاصی چاہنے لگے۔ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ الصمد ہے جو چاہتا ہے کردیتا ہے،انسان کو مصائب و آلام میں مبتلا رکھ کر آزمائشوں میں ڈالتا ہے،نجات کے لئے انتظار کرواتا ہے،اور پھر انصاف بھی کرتا ہے۔کچھ ایسی ہی صورتحال افغانستان میں رہی۔ اس زمین کو کھنڈر بنانے والے آج اپنی ناکامیوں پر شرم کے مارے لال پیلے ہو رہے ہیں۔ کھربوں روپے صرف کرنے کے باوجود انہیں وہ سب کچھ نہیں ملا، جو وہ چاہتے تھے۔
اب آگے کی صورتحال یہی ہے کہ افغان طالبان کے لئے سب سے پہلا کام جو وہ شدت کے ساتھ کرنے میں مصروف ہیں، یعنی پورے افغانستان پر اپنا کنٹرول حاصل کرناہے۔ اور اس کے دوسرا اہم کام اس زمین پر پھر سے اسلامی طرزِحکومت قائم کرنا ۔ گویا۱۹۹۷-۲۰۰۱ء تک افغانستان میںجو طرزِ عمل کی باوقار حکومت قائم تھی،اُسے دوبارہ بحال کرنا ہے۔جس میں کسی کو بھی کسی کا حق نہ مارنے کی اجازت نہیں ہوگی اورانصاف کا بول بالا ہوگا، جیسے کہ اوریا مقبول جان کہتے ہیں کہ جب میں افغانستان گیا تو وہاں کی نظامِ حکومت کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ ایک اور اہم کام یہ بھی کرنا ہے کہ وہ اپنی زمین کو غیر ملکی مفادات یا نقصانات کے لئے استعمال ہونے نہیں دے گی۔ جبکہ اُن کاابتدا سے ہی ایک بڑا مقصد رہا ہے کہ افغانستان سے ساری غیر ملکی فوجیں نکل جائیں،اس کے بعد وہ ملک کی مضبوطی کے لئے سرگرم عمل ہو جائے گی۔انہیں احسا س ہوچکا ہےکہ آج تک جانے انجانے میں دوسروں کے معاملات کو ترجیح دے کراپنا ملک خسارے کے سوا کچھ حاصل نہ کر سکا تو ایسے میں دانائی بھی اسی میں ہے کہ پہلے اپنی پوزیش ٹھیک ہو جائے، پھر دوسرے معرکے بڑی آسانی سے جیتے جا سکتے ہیں۔
تیسرا اہم کام دشمن کیطرف سے طالبان کی مسخ شدہ تصویر کو دھونا: جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ بیس سالہ طویل جنگ میں اپنوں اور غیروں دونوں نے بلواسطہ یا بلا واسطہ افغان طالبان کو وحشی قرار دینے کا پروپیگنڈہ جاری رکھا ۔ یہ اسلئے کیا گیا کہ لوگ طالبان سے خوف زدہ رہیں، ان کی آواز کو نہ سُنیںاوران کی حکمتِ عملیوں اور انکے رول سے نفرت کریں مگر سچ تو سچ ہی ہوتا اور بالآخر سچ کی ہی جیت ہوتی ہے۔ شائد اب دنیا سمجھ رہی ہے کہ طالبان کی اصل حقیقت کیا ہے ،وہ جہاں جاتے ہیں، عزت سے ہمکنار ہوجاتے ہیں۔ ہندوستان بھی طالبان سے بات کر چکا ہے۔ بھارت کا شہری ہونے کے ناطے مجھے بھی یہ سوال پوچھنے کا حق ہے کہ کیوں ہندوستان نے ان سے بات کی۔ ان لوگوں نے ہندوستان کا جہاز اغوا کر کےقندھار پہنچا دیا۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوا، مگر اب یہ بات نکھر کر سامنے آگئی ہے کہ وہ کیسے لوگ ہیں۔اس لئے اب افغانستان میں فو ج کشی کی صورت حال کو جاری رکھ کر بے گناہوں کا خون بہانااور افغان طالبان کو بدنام کرنا کسی کے لئے کوئی فایدہ مند یا بامقصد کام ثابت نہیں ہوسکتا۔
طالبان نے اپنے وسائل کا بھرپور فائیدہ اُٹھانےکی بھی حکمت عملی تیار کرلی ہے، اس ضمن میں انہوں نے چین کوافغانستان میں کام کرنے کی دعوت دی ہے۔ اربوں ڈالرمالیت کے معدنیات اس زمین کے اندر موجود ہے۔جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ہی وسائل کا استعمال ممکن بنایا جاسکتا ہےاور یہ بات امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ ان ممالک کی چین کے ساتھ تو شروع سے تنائو اور ٹکرائو کی صورت حال چلی آرہی ہے۔ اب جبکہ چین افغانستان میں سرمایہ کاری کرنے کا پلان بنا رہا ہے تو اُن کے لئےاِس سےبُری خبراور کیا ہوسکتی ہے۔اس لئے اس وقت نازک صورت حال ہے جس سے طالبان کو ہوشیار رہنے کی اشد ضرورت ہے۔ اغیار کسی طور پرچین کی نیند نہیں سوسکیں گے۔ وہ طاق میں رہیں گے کہ کب موقع ملے اور وہ پھر سے افغانستان کو خانہ جنگی کی آماجگاہ بناسکیں۔ اور اگر وہ اس میں کامیاب ہوگئے تو نہ صرف افغانستان بلکہ دیگر کئی ممالک کے لئے بہت ہی نازک صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔یہ چنگاری پورے ساؤتھ ایشیا کے لئے خطرناک آگ ثابت ہوسکتی ہےجو پورے ایریا کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دسکتی ہے۔
اب اور معصوم بے گناہوں کا خون نہیں بہایا جائے۔ اب امن کی ہی جیت کے لئے کوششیں ہونی چاہئے۔ افغانستان، ہندوستان، پاکستان، چین، ایران وغیرہ کے لئے سنہرا موقع ہے کہ وہ آپسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر سوچیںاور امن کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کریںکیونکہ یہی وقت کا تقاضاہے۔ ان سبھی ممالک کے موقع غنیمت ہے کہ وقتکی نزاکت کا فایدہ اُٹھایا جائے کیونکہ گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔
حاجی باغ،زینہ کوٹ
رابطہ۔7889346763