تین بڑے منصوبوں میں سے صرف کرناہ پر کام جاری، مہورہ اور نیو گاندربل فائلوں میں قید
اشفاق سعید
سرینگر //سمارٹ میٹروں کی تنصیب کے بعدجموں و کشمیر میں 24گھنٹے بلا تعطل بجلی فراہمی کے دعوئوں کے برعکس زمینی حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 76برسوں میں مقامی حکومت یہاں کے آبی وسائل سے صرف 254.1میگاواٹ بجلی پیدا کرنے میں کامیاب ہو سکی ہے، وہ بھی ایسے منصوبوں ، جو سرما کے موسم میں تقریباً بیکار ہوجاتے ہیں۔موسم سرما میں پانی کی سطح کم ہونے کے باعث یہاں کے پن بجلی منصوبوں سے پیداوار 50میگاواٹ سے بھی کم رہ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں شہری اور دیہی علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔بجلی کی قلت کے پیش نظر محکمہ بجلی یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ وہ ناردن گرڈ اور بیرونِ ریاست سے مہنگے داموں بجلی خریدنے پر مجبور ہے۔
کشمیر میں موجود پن بجلی منصوبے
کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے تحت وادی میں قائم پن بجلی منصوبوں میں،لوئر جہلم 105میگاواٹ، اپر سندھ فرسٹ 22.6میگاواٹ ،نیو گاندربل 15میگاواٹ، اپر سندھ دوم 105میگاواٹ ،پہلگام 4.5میگاو اٹ، اورکرناہ 2میگاواٹ شامل ہیں، جن کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 254.1میگاواٹ بنتی ہے۔ تاہم سرما میں ان منصوبوں سے بجلی کی پیداوار نہایت محدود ہو جاتی ہے۔ بجلی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے برسوں قبل مہورہ، نیو گاندربل اور کرناہ کے تین بڑے منصوبوںکو منظوری دی گئی تھی، مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس وقت صرف 12میگاواٹ کرناہ پن بجلی پروجیکٹ پر ہی عملی طور پر کام جاری ہے، جس کی تکمیل میں مزید دو برس لگنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب مہورہ اور نیو گاندربل جیسے اہم منصوبے آج بھی ٹینڈرنگ کے مرحلے میں ہی اٹکے ہوئے ہیں، حالانکہ ان کا اعلان دہائیوں قبل کیا جا چکا ہے۔
یو ٹی کے منصوبے، مگر فائدہ محدود
یو ٹی سطح پر کل 12پن بجلی منصوبے ہیں جن کی مجموعی صلاحیت 1137.68میگاواٹ ہے۔ ان میں سے بھی بیشتر منصوبے موسم سرما میں کم پیداوار دیتے ہیں۔چناب طاس پر قائم چنینی، بغلیہارسمیت منصوبوں کی مجموعی صلاحیت 934.3میگاواٹ ہے، جبکہ راوی طاس پر سیوا سیکنڈ پروجیکٹ کی صلاحیت 9میگاواٹ ہے۔ اگرچہ حکومت نے 201میگاواٹ کے پانچ نئے منصوبوں کے لیے ڈیڈ لائنز مقرر کی ہیں، لیکن زمینی سطح پر صرف دو منصوبوں پر ہی کام جاری ہے، جبکہ باقی یا تو ٹینڈرنگ میں پھنسے ہیں یا فنڈز کی کمی کا شکار ہیں۔دریائے چناب پر ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع میں مجوزہ لوئر کلنائی (48میگاواٹ)منصوبہ بارہا ٹینڈرنگ اور ڈیڈ لائنز کے باوجود نامعلوم وجوہات کی بنا پر رکا ہوا ہے۔اسی طرح 93میگاواٹ نیو گاندربل پروجیکٹ کا اعلان 1996میں کیا گیا تھا اور جس کی لاگت 800کروڑ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے ،آج بھی کاغذوں تک محدود ہے، حالانکہ زمین کی نشاندہی، سروے اور ابتدائی مراحل برسوں پہلے مکمل ہو چکے ہیں۔ سرنکوٹ کے پرنائی پن بجلی پروجیکٹ (37.5میگاواٹ) پر اگرچہ تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں، مگر تاحال بجلی کی پیداوار شروع نہیں ہو سکی۔ اس منصوبے کی نئی ڈیڈ لائن 2027مقرر کی گئی ہے۔ تاریخی مہورہ پن بجلی پروجیکٹ، جس کی بنیاد 1886میں رکھی گئی تھی ،کو ازسرِنو تعمیر کر کے 10.5میگاواٹ تک بڑھانے کے دعوے بار بار کئے گئے، لیکن یہ منصوبہ بھی اب تک ٹینڈرنگ کے مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ اسے جنوری 2026تک کمیشن کیا جائے گا۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا وادی میں بجلی کی مہنگی خرید واقعی ایک ناگزیر مجبوری ہے،یا پھر وافر آبی وسائل کے باوجود پن بجلی منصوبوں کی سست رفتاری، تاخیر اور انتظامی ناکامی کشمیر کو سرما میں اندھیروں کے حوالے کر رہی ہے؟عوام آج بھی اس سوال کے واضح جواب کے منتظر ہیں۔