۔2014کے آس پاس :
انتخابی مہم کے بیچ میںمجھے یہ معلوم ہوا کہ کسی بھی اجلاس میں کہیں بھی ، آزادی ، خودمختاری اوردفعہ 370 کے معاملات کبھی نہیں اٹھائے گئے۔ مجھ سے ایک بار نہیں پوچھا گیا کہ ان پر میرا موقف کیا ہے۔ یہاں تک کہ لوگوں،کسانوں ، دکانداروں ، تاجروں اور زرعی مزدوروں کے ساتھ نجی گفتگو میں بھی نیشنل کانفرنس کے 'خودمختاری' کے مطالبے یا Pپی ڈی پی کے '' خود حکمرانی '' کے تصور کا ذکر کبھی نہیں ہوا ، یہاں تک کہ سرسری طور بھی نہیں۔
اس کی وجہ جو نکلی وہ بالکل آسان سی تھی: لوگ مسئلہ کشمیر کے حل میں مین سٹریم پارٹیوں کا کوئی کردار نہیں دیکھ رہے تھے۔ یہ جماعتیں صرف حکمرانی تک محدود تھیں اور شہری حقوق کے علمبردار جان لیوس کے الفاظ میں ، "اچھی پریشانی" کے بارے میں تھیں ،اس سے زیادہ مزید کچھ نہیں اور نہ اس سے کچھ کم! اس کے ساتھ واضح طور پر علیحدگی پسندی کا جذبہ تھا جسے محسوس اور دیکھاجاسکتا تھا۔ زندہ یا مہلوک عسکریت پسندوں کے افراد خانہ کی عزت کی جاتی تھی۔ انھیں ہمیشہ "گاؤں کے بزرگ" کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہیں جو معاشرتی متحرک حرکت کے ساتھ ہوتا تھا۔اتنے سارے برسوںکے دوران معاشرتی طور پر عسکریت پسندی روزمرہ کی ایک رسم بن چکی تھی۔
وہی لوگ جو انتخابی ریلیوں میں شرکت کرتے تھے،وہی عسکریت پسندوں کے جنازوں میں بھی شامل ہوتے تھے۔ ان کے ذہن میں ان دونوں کے مابین کوئی تنازعہ نظر نہیں آتا تھا۔ پہلی انفرادی ذمہ داری تھی جو مادی ضرورتوں سے پیدا ہوتی تھی ، جبکہ مؤخر الذکر ایک اجتماعی خواہش تھی جو سیاسی تاریخ کی ایک خاص تفہیم کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔ان دونوں جہانوں میں باہم کوئی افہام یا صلح جوئی نہ تھی لیکن لامحالہ ایک ساتھ موجود تھے۔ البتہ بیچ میں بے شک ان دومختلف دنیائوں کے مابین تصادم کے مواقع بھی پیش آئے ۔
مقامی سیاسی کارکنوں کی سطح پر بی جے پی کا وجود ہی نہیں تھا۔ نہ ان کے علاقہ میں اور نہ ہی ان کے ذہنوں میں۔ کسی بھی سیاسی کارکن یا حامی نے بی جے پی کو ایک مخالف کی حیثیت سے نہیں دیکھا ، ایک سنجیدہ دشمن کے طور دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پی ڈی پی کارکنوں کیلئے یہ نیشنل کانفرنس یا کانگریس ہی تھی جو مخالف تھی اور ان کے لئے پی ڈی پی ہی مخالف تھی۔ نچلی سطح پر سیاست ، بہت زیادہ مقامی ہونے کی وجہ سے اعلیٰ سطحی نظارے سے بالکل مختلف ہے۔ کوئی حیرانگی کی بات نہیں کہ پارٹی سطح پر بی جے پی کو واحد بڑے مخالف کے طور پر دیکھا اور زیر بحث لایاجاتاتھا!
دفعہ 370 لوگوں کے شعور میں تھا اور بقول لا رابرٹ مصل انکی گفتگو میں نہیں۔ در حقیقت بھارت کے ساتھ کشمیر کا رشتہ اب مزید کوئی مسئلہ نہیں رہا تھا۔ اور پھر 5 اگست 2019 کا واقعہ پیش آیا۔ پورے ملک میں عوامی تاثرات کے مطابق کشمیر کو ایک بار پھرسرنو ضم کیا گیا۔اس کو دوبارہ حاصل کیا گیا اگر دوبارہ اس پر دعویداری نہیں کی گئی۔ حکومت ہند کے لئے جمہوریت اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹ کو ختم کردیا گیاتھا۔ گستاخی معاف بہت پہلے 4 دسمبر 1964 کو اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ گلزاری لال نندا نے پارلیمنٹ کو صاف طور پر بتایا تھا کہ "دفعہ 370 ، چاہے آپ اسے برقرار رکھیں یا نہ رکھیں ، اس کے مندرجات کو مکمل طور پر خالی کر دیا گیا ہے اور اس میں اب کچھ بھی نہیں رہا ہے‘‘۔ نندا کوکبھی بڑھا چڑھا کر پیش نہیںکیاگیا۔ وہ بالکل صحیح تھے۔
۔2020 کے آس پاس:
ہر شخص بغیر کسی استثنیٰ بشمول کسان ، دوکاندار ، تاجر ، زرعی مزدور ، خود کو ذلیل و خوار اور بے بس محسوس کررہاہے۔ 370 کا جن ناراضگی کے جذبے کو پروان چڑھا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں مزاحمت کے حامیوں کے حلقہ کو وسعت ملی ہے۔ پرانے لوگوں کیلئے یہ محض آئین کے آرٹیکل سے زیادہ کچھ تھا ، بلکہ یہ ایک عقیدہ کا مضمون تھا۔ وہ ایک وجودی اور اخلاقی بحران میں تھے ،جیسے وہ کوئی گناہ کرکے جی رہے تھے۔
دفعہ 370 کا پھر سے جنم ہوا ہے اور یہ پھر سے بازیاب ہوا ہے ۔ اس بار نظریے یا مسئلے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک مثال کے طور پر۔ ایک اور دھوکہ دہی کی مثال کے طور ، دونوں مین سٹریم جماعتوں اور "ہندوستان" کے ذریعے۔ بھارت کے ساتھ کشمیر کا رشتہ اب ایک بار پھر بات چیت میں واپس آچکا ہے لیکن فی الحال زیادہ اونچی آواز میں۔
اب تک اس کا احساس ہونا چاہئے تھا ، لیکن ا س کا احساس نہیں ہوا ہے کہ ان کی خواہشات اور منصوبوں کے برعکس دفعہ 370 کو منسوخ کرنے سے علیحدگی پسند سیاسی نظریہ کو کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔اُن کیلئے یہ "خودمختاری کی ضمانت" کے بجائے "کنٹرول کا ایک ذریعہ" رہا ہے۔ اس نے انہیں ایک نیا جواز فراہم کیا ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر اس سے لوگوں میں علیحدگی کے جذبات کو تقویت ملی ہے۔ مقامی سیاست میں اس کا اظہار کس طرح پایاجائے گا ،یہ ایک بہت ہی اہم امر ہے۔ایک سال گزر جانے کے بعد ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ایک سایہ کو مارنے کی کوشش میں اس کے عکس کو ہی مزید تیز اور بھڑکایاگیاہے۔
فی الوقت اگر کوئی سیاسی سپیس سکڑ چکی ہے تو وہ مین سٹریم سیاست کی ہے ۔اُن سیاسی جماعتوں کی ،جن کی بنیاد کشمیری قوم پرستی کی نہیں بلکہ نسل پرستی کی سیاست رہی ہے۔ اپنی انتہائی شکل میں یہ غیر متزلزل وفاق کی سیاست رہی ہے۔
5 اگست کی کارروائی نے ، پیری اینڈرسن کے الفاظ میں ان کی "کہانی"،جو ایک ایسا سماجی ڈھانچہ تھا جو ان کے سیاسی وجود کو اہمیت دیتا تھا، کوہی ختم کر دیا ہے۔ جموں و کشمیر میں مین سٹریم سیاسی قیادت کی حدود کو بے دردی سے بے نقاب کردیا گیا ہے۔ حیرت کی بات نہیں ہے کہ گزشتہ ایک سال میں کچھ ناکام کوششوں کے باوجود کوئی سیاسی تشکیل عمل میں نہیں آئی ہے۔
امید کی جارہی ہے کہ ریاستی درجہ کی بحالی کے آس پاس انتخابی سیاست کا نیاماڈل سامنے آئے گا۔اسی لئے ایسی خبریں آرہی ہیں کہ دفعہ 370کو منسوخ کرنے سے کہیں زیادہ لوگ یونین ٹریٹری میں تنزلی کے بارے میں زیادہ "تکلیف اور رسوائی" محسوس کررہے ہیں۔ایسا ہوبھی سکتا ہے اور شاید نہیں بھی ہوسکتا ہے۔
کورونا وباء کے عروج تک چھ مہینوں تک پورے ملک میں دفعہ 370 کی بے شرم منسوخی کو ایک 70 سالہ وعدے کی تکمیل کے طور پر دیکھا جارہاتھا اور یہ سمجھا جارہا تھاکہ ایسا کرکے ایک تصور شدہ تاریخی غلطی کو درست کیا گیااور ہندو راشٹر کو سرنو فریم کرنے کے سیاسی بیانیہ کو عزت بخشی گئی۔کورونا کی وبائی مرض نے ا نتہائی تیزی کے ساتھ یہ سارا تصور ہی درہم برہم کردیا۔
ایک سال بعدایک عظیم طاقت اپنی پوری زور آزمائی پر ہے ۔ عمارت کو منہدم کرنے کے بعد اب سہاروں کو منظم طریقے سے ختم کیا جارہا ہے۔ 31 مارچ 2020 کو سابق ریاست جموں وکشمیر کے ریاستی قوانین کو یونین ٹریٹری کی حیثیت سے اپنے نئے قد کے ساتھ موافق بنانے کی مشق کے ایک حصے کے طور پر حکومت ہند نے 109 میں ترمیم کی اور 29 ریاستی قوانین کو منسوخ کردیا۔
اہم بات یہ ہے کہ آئینی طور پر ضمانت شدہ ڈومیسائل حقوق کی جگہ لبرل ڈومیسائل قواعد اور شرائط و ضوابط نے لے لی ہے۔ اس سے کشمیری عوام کے ذہنوں میں زبردست عدم تحفظ پیدا ہوا ہے جومکمل طور پر بے بنیاد بھی نہیں ہیںکہ آبادیاتی تبدیلی کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
2011کی مردم شماری کے مطابق ریاست میں 28 لاکھ "بیرونی مزدور" کام کر رہے تھے جو کل آبادی کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ اس تعداد کو سیاق و سباق میں اگر دیکھیں تو یہ لداخ کی آبادی سے 10 گنا زیادہ ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ 1990 کی دہائی کے بعد سے جموں و کشمیر میں ہیں۔ اصولی طور پر وہ جموں و کشمیر کے ڈومیسائل سٹیٹس کے لئے اہل ہوں گے۔
مزید یہ کہ ایک حد بندی کمیشن بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ اس سے مسلم اکثریتی خطے میں نمائندگی کے کردار میں تبدیلی آئے گی۔ انتخابی ڈیموگرافی میں یقیناتبدیلی آئے گی اگر اسمبلی کے انتخابات میں صرف 25 فیصد بیرونی مزدورہی ووٹ دیتے ہیں جس کے اب وہ ڈومیسائل قواعد کے تحت حقدار بھی ہیں۔
پچھلے ایک سال میں جس طرح سے کشمیر کو پامال کیا گیا ، اس نے لوگوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ خصوصی پوزیشن کی تنسیخ، ریاست کی دو حصوں میں تقسیم ،یونین ٹریٹری میں تنزلی، ڈومیسائل قانون میں تبدیلی ، انتخابی حلقوں کی حد بندی ، فوج کے استعمال کے لئے "اسٹریٹجک علاقوں" کو نوٹیفائی کرنے،چھ ماہ کا سیاسی لاگجام کے بعد وبائی لاک ڈاؤن ، رابطے کی پابندی اور لگاتار پابندیوں نے کشمیریوں کو جسمانی ، نفسیاتی ، مالی اور سیاسی طور پر متاثر کیا ہے۔ جس طرح سے معاملات کشمیر میں ہیں ، وہ اس مرحلے کی طرف گامزن ہے جہاں البرٹ کیموس کے الفاظ میں "آپ کا وجود ہی سرکشی ہے"۔
(مصنف جموں و کشمیر کے ماہر معاشیات اور سابق وزیر خزانہ ہیں۔آراء ان کی ذاتی ہیں اور ان سے ادارے کا کلی یا جزوی طور متفق ہونا لازمی نہیں ہے۔زیر نظر مضمون آئوٹ لُک رسالہ کے شکریہ کے ساتھ شائع کیاجارہا ہے۔)
��������