دوسرے اضلاع میںبھی 24گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کی کوششیں جاری :وزیر اعلیٰ
اشفاق سعید
سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ کامیاب ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر سکیم کے تحت زیرو بجلی کٹوتیوں کے بعد سرینگر میں تقریباً 48 فیصد گھرانے بجلی کی بلاتعطل فراہمی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔وزیراعلیٰ کے دفتر نے کے پی ڈی سی ایل کو سرینگر میں مزید 83علاقوں کو 24گھنٹے پاور زون بنانے پر مبارکباد دی۔انہوں نے کہا ’’اس کے ساتھ ہی، سرینگر کے 108علاقے اب چوبیس گھنٹے، بلاتعطل بجلی کی فراہمی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، جس سے 1.25لاکھ گھرانوں کو فائدہ ہو رہا ہے، جو کہ شہر کے تقریباً48 فیصد ہیں۔ اسی طرح کے اپ گریڈ دوسرے اضلاع میں 24گھنٹے بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں‘‘۔ ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سکیم، جس کو جولائی 2021 میں مرکزی حکومت کے ذریعہ شروع کیا گیا تھا، کا مقصد بجلی کی تقسیم کی افادیت کی آپریشنل کارکردگی اور مالی استحکام کو بڑھانا، تکنیکی اور تجارتی نقصانات کو کم کرنا اور قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔گرما ئی دارالحکومت سرینگر میں کے پی ڈی سی ایل اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعے لاگو کئے گئے اس منصوبے میں بجلی کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن اور سمارٹ میٹروں کی تنصیب شامل ہے۔
سمارٹ پاور میٹرنگ
ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر سکیم کے تحت2024سے اب تک 3.81لاکھ سمارٹ میٹر نصب کئے گئے ہیں جو کہ مجموعی طور پر پروجیکٹ کے ہدف کے 40فیصد مکمل ہونے کے برابر ہے۔رول آئوٹ نومبر 2020 میں شروع ہوا، جس کا ابتدائی مقصد جموں اور سرینگر کے منتخب علاقوں میں 20,000میٹر نصب کرنا تھا۔ پہلا مرحلہ بالآخر 1.5لاکھ میٹر نصب کرنے کے ساتھ 2022میں اختتام پذیر ہوا۔2024 میں شروع ہونے والے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں 2026تک 9.5 لاکھ سے زیادہ سمارٹ میٹر کا ہدف ہے۔تازہ ترین پیشرفت کے مطابق منظور شدہ 9,50,755 میں سے 3,81,671 میٹر نصب کیے گئے ہیں۔ جے پی ڈی سی ایل(جموں) نے 7,62,872کے ہدف کے مقابلے میں 1,87,894میٹر نصب کیے جبکہ کےپی ڈی سی ایل (کشمیر) نے 7,27,855 کے ہدف کے مقابلے میں 1,93,777میٹر نصب کئے ہیں۔عہدیداروں نے کہا کہ نقصان میں کمی کرنے کے مد میں4,709کروڑ روپے اور سمارٹ میٹرنگ کے تحت 1,053 کروڑ روپے کے کاموں کو آر ڈی ایس ایس کے تحت مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے،جو چار بڑی ایجنسیوںکے ذریعے لاگو کیے گئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ سمارٹ میٹرنگ سے ایسے علاقوں میں74فیصدنقصان میں کمی آئی ہے۔حکام نے پاور سیکٹر کی کارکردگی کے اشاریوں میں بھی تیزی سے بہتری دکھائی ہے۔ سپلائی اور تقسیم میںنقصانات 58فیصد2022))ے کم ہو کر اب 32فیصد ہو گئے،اور 2028 تک 12فیصد کا ہدف حاصل ہوگا۔بلنگ کی کارکردگی 56فیصدسے 66فیصد تک بہتر ہو گئی ہے نیزجمع کرنے کی کارکردگی 75فیصد سے 94فیصد تک بڑھ گئی ہے۔اس طرح کی بہتری فیڈرز پر پہلے ہی واضح ہے جہاں 100فیصد سمارٹ میٹرنگ مکمل ہو چکی ہے۔ کشمیر میں45 اور جموں میں50 ایسے فیڈر ہیں جہاں کوئی کٹوتی نہیں کی جاتی ہے کیونکہ ان فیڈروں میں کوئی نقصان نہیں ہورہا ہے۔