نجی اسکولوں کی انجمن کا مالی نقصان کا معاوضہ دینے پرغور کرنے کا مطالبہ
سرینگر//نجی اسکولوں کی جموں کشمیرکی انجمن نے 4جی کی بحالی کو طلاب کیلئے فائدہ مندقرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے انکساری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے فور جی کی بحالی کے ساتھ اگر ایک چھوٹی عذرخواہی ظاہر کی ہوتی ،تو وہ دردکا مدواہوسکتا تھا۔انجمن نے کہا کہ ایک سڑک کی کھدائی کی جاتی ہے یاٹیلی ویژن نشریات میں رکاوٹ آتی ہے ،تواُس وقت ٹھیکیداریاآپریٹر بھی ’’دقت کیلئے معذرت‘‘کااظہار کرتا ہے لیکن یہاں 18ماہ تک تیزرفتارانٹرنیٹ کو بند کرکے لاکھوں لوگوں کو اس سہولت سے محروم کیا گیااور اس پر کسی نے اُف تک بھی نہیں کیایاافسوس کااظہار کیا۔نجی اسکولوں کی انجمن کے صدر جی این وارنے کہا،’’فورجی انٹرنیٹ سے ہمارے طلاب کو یقینی طور فائدہ پہنچے گاجنہیں گزشتہ متعدد مہینوں سے اس سہولت سے محروم رکھ کرنقصان پہنچایا گیا۔یہ ہمارے لئے بغیر کسی خطا کے ایک اجتماعی سزاتھی اور اس سے ہم برسوں پیچھے چلے گئے ۔ہمارے اسکولوں کو بھگتناپڑا،دیگر اداروں کو مشکلات پیش آئیں کیوں کہ وہ زیادہ کام نہیں کرسکے۔‘‘انجمن نے کہا کہ انٹرنیٹ فریڈم فائونڈیشن کی طرح وہ فورجی کی بحالی کیلئے صف اول پرلڑڑہے تھے اور سپریم کورٹ میں اس معاملے پران کی عرضی کی سماعت اگلے ہفتے مقرر تھی۔حکومت نے سماعت سے قبل ہی فورجی بحال کیا کیوں کہ وہ کس بنیادپراس پرپھر پابندی عائد کرتے۔انجمن کے ترجمان نے کہا کہ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ کشمیرمیں حالات معمول پر آئے ہیں اور دوسری طرف فورجی پرپابندی کیلئے کشمیرمیں حالات کے معمول پر نہ ہونے کووجہ بتاتے تھے ۔انجمن نے انٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ سے ہوئے نقصان کا معاوضہ دینے کابھی مطالبہ کیا ۔وار نے کہا کہ انٹرنیٹ پر 18ماہ تک پابندی سے نفسیاتی اور تعلیمی نقصان کی بھرپائی نہیں ہوسکتی ،لیکن حکومت کو مالی نقصان کامعاوضہ دینے پرغور کرناچاہیے ۔انٹرنیٹ پرپابندی سے ہزاروں لوگوں کی نوکری چلی گئی ،طلاب نے بھی ہزاروں مواقع گنوا دیئے ۔اسکولوں کے اخراجات میں دوگنااضافہ ہوااور حاصل کچھ نہ ہوا۔انجمن نے کہا کہ انٹرنیٹ بنیادی حق بن چکاہے اورحکومت کو شفاف طوراس کے بلاخلل کام کاج کو یقینی بنانا چاہیے ۔