۔2020میں جنگل راج کا خاتمہ ہوا : لیفٹیننٹ گورنر | وتستا سے گنگا اور لال قلعہ سے لال چوک تک سبھی مل کر ہمقدم چلیں، یہی یوم آزادی کا پیغام

سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا جموں و کشمیر میں سال 2020سے جنگل راج کا خاتمہ ہوا ،اورآج کے یوم آزادی کا یہی پیغام ہے کہ لا ل قلعہ سے لاچوک تک ہر قدم ایک ساتھ ا ٹھایا جائے۔منوج سنہا اتوار کے روزسونہ وار کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقدہ 75 ویں یوم آزادی کی تقریب کے دوران خطاب کررہے تھے ۔انہوں نے ترنگا لہرایا اور مارچ پاسٹ پر سلامی لی۔ اس موقعہ پر سکولی بچوں نے رنگا رنگ پروگرام بھی پیش کئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’’ جموں و کشمیر میں جنگل راج "2020 کی شام" ختم ہوا اور اوپرسے نچلی سطح کی جمہوریت کو تشدد سے پاک ضلع ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) کے انتخابات کے ذریعے مضبوط بنایا گیا۔ سنہا نے کہا ’’ 2019 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے جموں و کشمیر کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کیا تھا‘‘۔ا نہوں نے کہا ، "عام شہریوں کی امیدوں اور امنگوں کو پورا کرتے ہوئے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا’جموں و کشمیر کے ساتھ ہندوستان کی روح جڑی ہوئی ہے ۔ وتستا سے گنگا تک اور لال قلعہ سے لال چوک تک سبھی مل کر ہمدم چلیں، یہی اس 75 ویں یوم آزادی کا پیغام ہے ‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا’’میں آپ کو بھروسہ دلانا چاہتا ہوں کہ جموں و کشمیر کی ایک انچ زمین بھی کسی باہری شخص کو نہیں دی جائے گی، ہاں ہم نے رجعت پسند قوانین میں تبدیلیاں لائی ہیں، یہاں سیب کے درخت لگانے اور کاٹنے کے لئے حکومت سے اجازت لینی پڑتی تھی، اب کوئی بھی کسان اجازت حاصل کئے بغیر اپنے زمین میں سیب کے درخت لگا سکتا ہے ‘‘۔منوج سنہا نے کہا کہ جمہوریت کے واجپائی کے اصول کو جموں و کشمیر میں کئی دہائیوں سے زمین پر پنپنے نہیں دیا گیا۔ملی ٹنسی کو امن اور ترقی کے لیے ایک لعنت قرار دیتے ہوئے سنہا نے کہا کہ پڑوسی ملک نوجوانوں کو اکسانے کی بدنیتی پر مبنی کوشش کر رہا ہے ، لیکن نوجوانوں کو گمراہ کرنے والوں کو مناسب جواب دیا جائے گا۔سنہا نے مزید کہا کہ آپ کی قابلیت ، توانائی اور بے مثال صبر کے ساتھ جموں و کشمیر کا خوشحال مستقبل ہوگا۔انہوں نے فوج ، نیم فوجی دستوں اور جموں و کشمیر پولیس کے بہادر سپاہیوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنی بہادری ، جرات اور قربانی سے ہندوستان کی وحدت ، سالمیت کو برقرار رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ جموں و کشمیر پولیس کو یوم آزادی کے موقع پر 257 بہادری ایوارڈ ملے ہیں جن میں اشوک چکر ، کیرتی چکر اور شوریہ چکر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ان لوگوں کی کہانیاں جنہوں نے آزادی کے اس امرت کے لیے قربانیاں دی ہیں وہ ایک نئے اور دوبارہ متحرک جموں و کشمیر کو بیدار کریں گی۔