۔1996ء کا اسمبلی الیکشن

پچھلے   دنوں جموں و کشمیر کے سابقہ وزیر اعلی عمر عبداللہ کا ایک بیان میڈیا و سوشل نیت ورکنگ سائٹس پہ موضوع بحث بنا رہا۔ موصوف کا یہ کہنا رہا کہ اگر 1996ء میں اُن کے والد وزیر اعلی کا منصب نہ سنبھالتے تو اخوان المسلمین کا سرغنہ ککہ پرے وزیر اعلی بن جاتا ۔ ککہ پرے کا اصلی نام گر چہ محمد یوسف تھا لیکن وہ اِسی نام سے معروف تھا ۔عمر عبداللہ نے بھی اُنہیں اپنے بیان میں اُسے ککہ پرے کے نام سے یاد کیا ہے۔عمر عبداللہ کے اس بیا ن سے عوامی حلقوں میں 1996ء کے الیکشن کی یار تازہ ہوئی۔اس الیکشن سے جڑے واقعات کشمیر کی تاریخ کا ایک حصہ ہیں بلکہ جو کچھ بھی اُس کے پس منظر و پیش منظر میں ہوا اُسے تاریخ کا ایک ایسا باب قرار دیا جائے جو متنازعہ ہونے کے ساتھ ساتھ کافی تلخ بھی رہا تو مبالغہ نہ ہو گا۔ 1996 ء کے الیکشن کا پس منظر اور پیش منظر آج ہماری تجزیہ کاری کا موضوع ہے کیونکہ اُس سے جڑے واقعات کے تجزیے سے ہم عمر عبداللہ کے بیان  کے معانی کی تہوں تک پہنچ سکتے ہیں ۔
 اخوانی کلچر کو یاد کرنا آج بھی کئی رستے ہوئے زخموں کو کریدنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اخوان المسلمین گر چہ جنگجویانہ سر گرمیوں کی پیداوار تھی لیکن یہ ایجنسی کی ہدایات اور مدد سے جنگجویانہ صفوں میں رخنے ڈالنے کے کام آئی جس سے ہزاروں کی تعداد میں ایسے شہری بھی متاثر ہوئے جن کا بظاہر جنگجوئیت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ریاستی سرکار اور وردی پوشوں کی سر پرستی میں کوئی ایسی حد نہ تھی جسے اخوان نے پار نہ کیا ہواور ایسے میں اخوانیوں نے ایسے سیاہ کارنامے انجام دئے جو کشمیر کو ایک خوں آشام تاریخ کے سوگوار صفحات دئے۔1996ء کے الیکشن کے پس منظر کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ 1989/90ء میں جنگجوئیت کے آغاز سے 1996ء کے الیکشن تک ریاست میں مین اسٹریم کی سر گرمیاں معطل ہو کے رہ گئی تھیں ،مین اسٹریم میں دیکھا جائے تو بیسویں صدی کے اختتام تک نیشنل کانفرنس ایک جانی پہچانی جماعت رہی۔ 21ویں صدی کے آغاز سے پی ڈی پی کے معرض وجود میں آنے سے مین اسٹریم کی سیاسی سپیس کا بٹوارہ ہو گیا۔ کئی سیاسی حلقوں کا یہ ماننا ہے کہ مین اسٹریم کے بٹوارے میں ایجنسیوں کا ہاتھ تھا اور غرض یہ تھی کہ مین اسٹریم کی کوئی جماعت اِس قدر سیاسی طاقت کی حامل نہ رہے کہ وہ ریاستی اداروں سے اپنی بات منوا سکے۔ اِس بحث میں پڑے بغیر کہ 21ویں صدی میں مین اسٹریم کی سیاسی سپیس کی صورت حال کیا رہی ،ہم ایک ایسے دور کا تجزیہ کر رہے ہیں جہاں نیشنل کا نفرنس کم و بیش مین اسٹریم کی سیاسی سپیس پہ چھائی رہی، گر چہ یہ بھی صحیح ہے کہ 1984ء میں نیشنل کانفرنس کا بٹوارہ ہوا اور اِس جماعت کے بطن سے میں عوامی نیشنل کا نفرنس کا جنم ہوا جس کی قیادت فاروق عبداللہ کے بہنوئی غلام محمد شاہ نے سنبھالی۔
عوامی نیشنل کانفرنس نے کانگریس کے ساتھ مل کے فاروق سرکار کا تختہ پلٹا ۔غلام محمد شاہ وزیر اعلی بنے لیکن عوامی نیشنل کانفرنس کی ساکھ مشکوک ہی رہی اور مین اسٹریم پہ اکثر و بیشتر نیشنل کانفرنس کا غلبہ رہا ۔ 1986ء میں فاروق عبداللہ نے اپنی سیاسی اتھل پتھل چھوڑ کے راجیو گاندھی سے سمجھوتہ کر لیا اور واپس اقتدار میں آئے اِ س شرط کے ساتھ کہ کانگریس کیلئے اقتدار میں جگہ بنانی پڑے گی۔ اِسی سمجھوتے کے ساتھ 1987ء کے الیکشن کی باری آئی۔یہ الیکشن کشمیر کی تاریخ کا ایک سنگ میل مانا جاتا ہے۔ اِس کا ذکر اس لئے ضروری ہے کہ کئی تجزیہ کاروں کی نگاہ میںاِس الیکشن میں مبینہ دھاندلی جنگجویانہ تحریک کا آغاز کا سبب بنی۔اِسی تحریک سے بعد میں ضد انقلاب یا منحرفین کا مسلح ٹولہ اخوان المسلمین کے نام سے اُبھر آیا ۔ 1987ء کے الیکشن میں محمد یوسف المعروف صلاح الدین جو آج متحدہ جہاد کونسل کے سر براہ ہیں، بھی امیرا کدل حلقے سے امیدوار تھے ۔ محمد یسٰین ملک اورعبدالحمید شیخ جیسے جنگجویانہ تحریک کے اولین رہبربہ حیثیت پولنگ ایجنٹس اس الیکشن میں شامل ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ پولیس کے غیر مہذب اور غیر منصفانہ سلوک سے دل براداشتہ ہو کر یہ جنگجویانہ تحریک کی صف اول میں شامل ہوئے۔ 1987ء کے الیکشن کے بعد فاروق عبداللہ کی کانگریس کے ساتھ کولیشن سرکار 1990ء تک قائم رہی۔جنگجویانہ سر گرمیوں کے تیز ہونے کے سبب دہلی سرکار نے جگموہن ملہوترا کو گورنر کی حیثیت سے ریاست میں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اس تعیناتی کے پیچھے دہلی سرکار کے وزیر داخلہ مفتی سید کا ہاتھ تھا جو فاروق عبداللہ کے ساتھ اپناسیاسی حساب کتاب پورا کرنے میں لگے ہوئے تھے۔
مفتی محمد سید وی پی سنگھ سرکار میں بھارت کے پہلے مسلمان وزیر داخلہ بنے۔ اپوزیشن لیڈر راجیو گاندھی کے ایماء پر فاروق عبداللہ مستعفی ہوئے ۔ویسے بھی اُن کی سرکار ریاست پہ اپنی گرفت کھو چکی تھی۔ فاروق عبداللہ نے نہ صرف وزارت بلکہ ریاست بھی چھوڑ دی ۔ اِسی کے ساتھ اُن کی جماعت نیشنل کانفرنس کی کار کردگی کیلئے کوئی موقع محل نہیں رہا چونکہ ریاست جنگجویانہ کاروائیوں سے نبرد آزما تھی۔1990ء کے آغاز سے 1996ء کے الیکشن تک صورت حال یہی رہی بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ صورت حال اِس نہج کی تھی کہ مین اسٹریم سیاست میں ایک عضوئے معطل بن کے رہ گئی۔فاروق عبداللہ اِس زمانے میں کبھی لندن،کبھی یورپی شہروں اور کبھی امریکہ وجینوا میں کشمیر کے ضمن میں بھارتی نکتۂ نگاہ کا دفاع عالمی کونسلوں میں کرتے رہے۔فاروق عبداللہ کی اُس زمانے میں ہند نواز کارکردگیوں کو آنے والے وقت کیلئے سیاسی سرمایہ کاری کے روپ میں پرکھنا چاہیے ،فارسی کے اس مقولے کے متراوف کہ داشتن بکار آید یعنی رہ جائے تو کام آئے گی۔بیسوی صدی کے آخرے دَہے میں ریاست میں جو کچھ ہو رہا تھا وہ عالمی نظروں سے پوشیدہ نہیں تھا اور عالمی کونسلوں میں بھارتی رول کے بارے میں تیکھے سوالات بھی پوچھے جاتے تھے۔یہ وہ دور تھا جب بل کلنٹن کی امریکی انتظامیہ میں اسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ رابن رافیل مسلٔہ کشمیر کے ضمن میں برصغیر میں رواں دواں تھی۔ اس دور میں ریاست جموں و کشمیر میں افسپا کاراج تاج تھا ورجمہوری عمل کا فقدان اپنے عروج پر تھا۔ 1990ء کے آغاز سے 1996ء کے الیکشن تک ریاست میں آئین ہند کی دفعات 356/357کے تحت صدارتی راج تھا چونکہ جموں و کشمیر آئین کے سیکشن 92کے تحت گورنر راج چھ مہینے کے عرصے سے زیادہ نہیں رہ سکتا ۔چھ مہینے کے بعد صدارتی راج لاگو ہوتا ہے گر چہ یہ گورنر کی نگرانی میں ہی عمل پذیر ہوتا ہے۔
 26مئی1990 ء سے 13مارچ  1993ء تک گریش چندر سکسینہ گورنر رہے اور 13مارچ 1993ء سے 2مئی 1998ء تک جنرل کے وی کرشنا راؤ نے یہ عہدہ سنبھالا ۔جہاں گریش چندر سکسینہ بھارت کے خارجی جاسوسی ادارے ’را‘ کے سابقہ سر براہ تھے وہی کرشنا راؤ بھارتی فوج کے سابقہ سر براہ تھے۔پہلے ایک سابقہ جاسوسی سر براہ اور اُس کے بعد سابقہ فوجی سر براہ کی بہ حیثیت گورنر تعیناتی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ریاستی ادارے پہلے جنگجویانہ کاروائیوںسے نبٹنے کیلئے جاسوسی جال کو محکم بنانا چاہتے تھے اور اُس کے بعد فوجی کاروائیوں کو تیز سے تیز تر کرنا چاہتے تھے ۔اِس سے گر چہ ایک حد تک مطلوبہ نتائج حاصل کئے گئے لیکن جنگجویانہ کاروائیوں پر کاملاََ روک نہیں لگائی جا سکی۔ جہاں شروعات میں جنگجویانہ کاروائیاں جے کے ایل ایف (JKLF) کی گرفت میں تھیں ،وہی بعد میں حزب المجاہدین میدانِ عسکریت پر حاوی رہی۔ جنگجو تنظیموں کی باہمی رسہ کشی کو شہ دے دے کر جنگجوؤں کی صفوں میں رخنہ اندازیاںہوئیں ۔ ایک مر حلے پر جے کے ایل ایف (JKLF) نے عسکریت ترک کر کے سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا ، جنگجوؤں کی صفوں کچھ افراد نے بھی علحیدگی اختیار کر کے اخوان المسلمین کے جھنڈے تلے جمع ہو کر اپنے پرانے ساتھیوں کے خلاف قتل وخون کا محاذ قائم کیا ۔یہ آپسی رنجشوں کا شاخسانہ بھی تھا اورخفیہ ایجنسیوں کی کارستانیاں بھی ۔ اس سے ریاستی اداروں کو جنگجوؤںکے خلاف ایک موثر ہتھیار ملا۔اخوان المسلمین کی کاروائیوں سے عام شہری بھی بری طرح متاثر کہ ہر ایک کشمیری اخوانیوں سے خوف زدہ بھی رہا اورنالاں رہے۔
صدارتی حکو مت کا دور 1990ء سے 1996ء تک کم و بیش چھ سال پہ محیط رہا اور اِ دوران ریاست میں اُس انتخابی عمل کا فقدان رہا جس سے بھارت عالمی سطح پہ یہ دعو یٰ کرنے کی پوزیشن میں تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کی حکومت ریاستی عوام کی دسترس میں ہے، لہٰذا بھارت اس  موقع کی تلاش میں تھا کہ انتخابی عمل کو از سر نو شروع کرائے لیکن مشکل یہ تھی کہ کوئی بھی تنظیم انتخابی عمل میں شرکت کیلئے آمادہ نہیں ہو رہی تھی۔ جنگجویانہ کاروائیاں کسی بھی سیاسی سرگرمی کے مانع تھیں ۔ مین اسٹریم میں سرکاری اداروں کی نظر نیشنل کانفرنس پہ تھیں لیکن یہ آزمائی ہوئی تنظیم بھی ہچکچا رہی تھی۔واقف کار حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاستی ادارے مزاحمتی تنظیموں میں بھی کسی دھڑے کو ساتھ ملا کے ایک سویلین چہرے کو سامنے لانا چاہتے تھے۔اسی دوران بھارتی وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے افریقی ملک برکینو فاسو میں یہ بیان دیا کہ (Sky is the limit)جس کا مدعا و مفہوم یہ تھا کہ کشمیری عوام سے مفاہمت کی راہ میں وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، حتیٰ آسماں کی حد تک! اس بیان کی توضیح میں یہ بھی کہا گیا کہ آزادی سے کم کسی بھی سمجھوتے پر بات چیت ہو سکتی ہے ۔ جہاں نیشنل کا نفرنس میں یہ تاثر اُبھرا کہ بھارت سرکار کشمیر کی جنگجویانہ صورت حال کے سبب اِس قدر دباؤ میں ہے کہ اٹونامی کی گنجائش بن سکتی ہے ،وہی مزاحمتی تنظیموں کے ایک دھڑے میں یہ بات پھیلنے لگی کہ کشمیر کو بھوٹان کا سٹیٹس ملنے کی توقع ہے۔ جہاں تک بھوٹان سٹیٹس کا تعلق ہے یہ موضوع دَہائیوں میں کئی بار اُبھرا ،جب بھی بھارتی دائرے میں رہ کر کشمیر کے ممکنہ حل کا موضوع زیر بحث آیا۔ غرض اٹونامی سے لے کے بھوٹان سٹیٹس تک کئی ممکنہ حل میڈیا اور عوامی حلقوں میں منظر عام پر آئے۔ جہاں تک کشمیر میں طرف مقابل کی بات رہی وہاں نیشنل کانفرنس کے ساتھ ساتھ مزاحمتی تنظیموں کے ایک دھڑے کا نام بھی لیا جا رہا تھا۔
سیاسی قیاس آرائیوں کے بیچوں بیچ 1996ء کا لوک سبھا الیکشن انجام پذیر ہوا۔ نیشنل کا نفرنس پہ مختلف حلقوں کا دباؤ بنا رہا کہ وہ اِس الیکشن میں حصہ لے لیکن نیشنل کا نفرنس اِس الیکشن سے دور ہی رہی ۔اِس الیکشن میں کشمیریوں کی شمولیت نہ ہونے کے برابر تھی۔بھارت میں لوگوں نے کانگریس کے خلاف رائے دی۔ بھاجپا بھی سیاسی منظرنامے پر اثر انداز نہ ہو سکی، چناچہ ایک نان کانگریس نان بھاجپا سرکار اقتدار میں آئی جس کے سر براہ دیو گوڑا بنے ۔ اِس وزارت میں کشمیر سے مقبول ڈار بھی بہ حیثیت جونیر وزیرداخلہ شامل کئے گئے۔اُنہیں وزارت داخلہ میں منسٹر آف سٹیٹ بنایا گیا ،گرچہ سیاسی منظرنامے میں اُن کا نام غیر معروف تھا لیکن قحط الرجال میں اُنہیں بھی وزارت ملی۔ اُن کو وزارت میں شامل کرنا مین اسٹریم خاص کر نیشنل کانفرنس کو  یہ عندیہ دینا مطلوب تھا کہ سرکار ہند کے پاس کئی آپشن ہیں اور دوسرے مہروں کو بھی آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ اِسی کے ساتھ ساتھ مزاحمتی تنظیموں کے ایک دھڑے سے بات چیت کو میڈیااور عوامی حلقوں میں ڈالنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ یہ تاثر پیدا کیا جا سکے کہ ریاستی اقتدار کے دعویداروں میں نیشنل کانفرنس کے علاوہ بھی اور بھی خواستگو ار ہیں جنہیں میدان میں لایا جا سکتا ہے۔نیشنل کانفرنس کی صف اول کی لیڈرشپ میں فاروق عبداللہ کے علاوہ کئی لیڈر جن میں عطا اللہ سہروردی،غلام محمد بھدرواہی،محی الدین شاہ اور سیف الدین سوز شامل تھے، دہلی میں اس انتظار میں تھے کہ اٹونامی کی سوغات لے کے اسمبلی الیکشن میں شمولیت کی حامی بھر لیںلیکن ’’سکائی از دِی لمٹ‘‘ تو دور کی بات تھی دہلی سرکار کیلئے آئین کی دی ہوئی اٹونومی بھی نا قابل قبول تھی۔بھارت کے سرکاری حلقوں میں اندرا گاندھی کا یہ فارمولہ چھایا رہا کہ گھڑی کی سوئیوں کو واپس نہیں موڑا جا سکتا۔رہی بات نیشنل کانفرنس کی تو اِس تنظیم کے لیڈروں کا دل لبھانے یا فیس سیونگ دینے کیلئے یہ کہنا کافی تھا کہ سرکار ہند کے پاس کئی اور آپشن ہیں اور اگر اٹونامی دینی ہی دینی ہے تو مزاحمتی تنظیموں کے ایک دھڑے کو بھی شیشے میں اُتارا جا سکتاہے۔انجام کار نیشنل کانفرنس پرانی تنخواہ پر ہی کام کرنے کیلئے دلی دربار میں حاضر ہوئی اور ایسے میں 1996ء کا اسمبلی الیکشن انجام پذیر ہوا ،نیشنل کانفرنس کو اقتدار کے ایوانوں میں کئی اخوانیوں یا ضد انقلاب کے چیدہ چیدہ چہروں کو بھی ایڈجسٹ کرنا پڑا جن میں ککہ پرے کے علاوہ عثمان مجید،جاوید شاہ اور بابر بدر شامل تھے۔اسی صورت حال  1996ء کے اسمبلی الیکشن کے بعد منظر عام پہ آئی اُس کی روشنی میں دیکھا جائے تو عمر عبداللہ کا یہ بیان کوکھلا نظر آتا ہے کہ ککہ پرے کو وزیر اعلی بننے سے روکنے کیلئے فاروق عبداللہ کو سامنے آنا پڑا ،بلکہ سچ تو یہ ہے کہ 1996ء کے الیکشن کا پیش منظر نیشنل کانفرنس اور اخوان کے سنگم کی صورت میں اُبھر آیا  ۔
Feedback on: [email protected]