طارق رحیم
کپوارہ// شمالی کشمیر کے ہندواڑہ سب ڈویڑن کے نچھامہ علاقے میں واقع ہیلتھ سینٹر گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے ایک رہائشی مکان کے دو کرائے کے کمروں میں کام کر رہا ہے، جبکہ مقامی لوگ طویل عرصے سے اس کے لیے علیحدہ پختہ عمارت کی تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ علاقے میں بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔مقامی باشندوں نے محکمہ صحت کے خلاف شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بارہا مطالبات کے باوجود ہیلتھ سینٹر کی مستقل عمارت تعمیر نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی افراد کے مطابق چند برس قبل اس ہیلتھ سینٹر کو ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹر کا درجہ دیا گیا، تاہم اس کی عمارت کی تعمیر کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ایک مقامی باشندے مجید احمد نے بتایا،’’یہ ہیلتھ سینٹر 1986 سے ایک رہائشی مکان میں قائم ہے۔ ہم نے متعدد مرتبہ متعلقہ حکام کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرائی، لیکن آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ مقامی لوگوں نے محکمہ صحت کو مفت زمین فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی، مگر اس کے باوجود محکمہ مستقل عمارت کی تعمیر میں دلچسپی نہیں لے رہا۔علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ہیلتھ سینٹر میں ایمبولینس کی سہولت بھی موجود نہیں، جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خصوصاً موسم سرما میں جب علاقہ شدید برفباری کی لپیٹ میں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہمارا گاؤں شدید برفباری والا علاقہ ہے۔ سردیوں میں اگر کوئی طبی ایمرجنسی پیش آ جائے تو ہمیں مریض کو کندھوں پر اٹھا کر ایک مخصوص مقام تک لے جانا پڑتا ہے، جہاں سے گاڑی کے ذریعے اسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔‘‘مقامی باشندوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ نچھامہ ہیلتھ سینٹر کے لیے فوری طور پر مستقل عمارت تعمیر کی جائے اور عوام کی سہولت کے لیے ایک ایمبولینس بھی فراہم کی جائے تاکہ علاقے کے لوگوں کو بہتر طبی خدمات میسر آ سکیں۔