جموں اور وادی کے پہاڑی علاقوں میں سیلابی ریلوں اور مٹی کے تودے گرنے کا امکان
سرینگر //وادی میں پچھلے 2 روز سے لگاتارگرمی بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں ایک بار پھر لوگوں کے پسینے چھوٹ رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے عیدالاضحی کے موقعہ پرجموں وکشمیرمیں موسلادھار بارشیں ہونے کی پیشگوئی کی ہے ۔محکمہ موسمیات نے ہفتہ کے روز جموں وکشمیر میں گرج چمک کیساتھ تیز بارشیں اور کہیں کہیں تیز ہوائیں چلنے نیز ژالہ باری ہونے سے متعلق تازہ موسمیاتی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے کشمیراورجموں کے صوبائی کمشنروں کوایک خط روانہ کیاگیا ہے ،جس میں یہ امکان یااندیشہ ظاہرکیا گیاہے کہ تیز اورموسلا دھار بارشیں ہونے کے نتیجے میں ٹنل کے آرپارکچھ علاقوں میں ندی نالوںمیں طغیانی آسکتی ہے ۔محکمہ موسمیات نے بحیرہ عرب اوربحیرہ بنگال سے اُٹھے والی ہوائوں کاذکر کرتے ہوئے کہاہے کہ جب شمالی بحیرہ عرب کے سمندر اورخلیج بنگال سے اُٹھنے والی تیز ہوائیں جموں وکشمیرمیں داخل ہونگی تویہاں 19جولائی سے گرج چمک کیساتھ تیز بارشوں ،تیز ہوائیں چلنے اورکہیں کہیں ژالہ باری ہونے کاامکان ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق جموں و کشمیر میں عید الاضحیٰ سے قبل شدید بارشوں اور پانی سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا احتمال ہے۔موسمیات کے ایک ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 19 سے 21 جولائی تک موسلادھار بارشیں ہو سکتی ہیں اور اس دوران سیلابی ریلے اور مٹی کے تودے بھی گر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس دوران سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل متاثر رہ سکتی ہے۔محکمہ موسمیات نے یہ بھی اندیشہ ظاہرکیا ہے کہ موسمی صورتحال خراب رہنے کے باعث 19 سے 21 جولائی تک جموں سرینگرقومی شاہراہ ، سرینگر لیہہ شاہراہ،مغل روڑ ، ڈوڈہ کشتواڑ روڈ پرٹریفک کی آمدورفت میں عارضی خلل پڑسکتا ہے۔ادھر وادی میںدرجہ حرارت میںپھر اضافہ ہوگیا ہے۔سنیچر کو سرینگر میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34.1ڈگری سلسیش ریکارڈ کیا گیا جبکہ قاضی گنڈ میں 32.0ڈگری ، کپوارہ میں 34.2ڈگری کوکرناگ میں 31.8ڈگری، گلمرگ میں 24.0اور سیاحتی مقام پہلگام میں 28.8ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ۔ادھر جموں میں7 35.ڈگری درجہ حرارت رہا ۔
فلڈ زونل کمیٹیوں کے نام سرکیولر الرٹ رہنے کی ہدایات
نیوز ڈیسک
سرینگر // جل شکتی محکمہ کے چیف انجینئر نے محکمہ موسمیات کی جانب سے 3دن تک زبردست بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر سبھی سیلابی زونل کمیٹیوں کو ہدایات دی ہیں کہ وہ الرٹ رہیں۔ان کمیٹیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کے حدود میں متحرک رہیں اور صورتحال پر نظر رکھیں۔ یہ کمیٹیاں سیلاب سے بچائو اور اس سے نمٹنے کیلئے مشینری کو تیار رکھیں اگر سیلاب کی صورتحال کہیں پر پیش آئے گی۔