۔16 ؍مارچ 1846ء۔۔۔۔ بیع نامۂ امرتسر!

 دہقان و کشت وجوئے و خیا باں فروختند
قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند!
علامہ اقبالؒ کا یہ مشہور و معروف قطعہ شعربیع نامہ امرتسر کی دلدوز داستاں کی عکاسی ہے ،بے دردیٔ زمانہ کی داستان،تسلط آمیزی کی انتہا،جب انگریز غاصبوںنے انسانیت،شرافت اورحساسیت کو پاؤں تلے روند کے اپنی حیوانیت،رذالت و شقاوت کا بھر پور مظاہرہ کیا! قوم کاشمر کی نیلامی ہوئی جب کہ اس قوم کا ایک فرد بھی اس خرید و فروخت میں موجود نہیں تھابلکہ اس قوم کو بھیڑ بکریوں کی مانند امرتسر کی منڈی میں گلاب سنگھ ہاتھ بیج دیا گیا ۔ یہ انگریزوں کی سیاسی منڈی کا بدترین سودا قرار پایا۔تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی میں یہ نظر آتا ہے کہ جو سودا 16مارچ 1846ء کے روز امرتسر کی سیاسی منڈی میں قرار پایا اُس کی شروعات ایک ہفتہ پہلے ہی ہو چکی تھی۔لاہور کے خالصہ دربار نے انگریزوں کی تجارتی کمپنی ایسٹ انڈیا کمپنی سے جنگ ہارنے کے بعد 9مارچ1846ء کے روز عہد نامہ لاہورکی دفعہ چہارم کے تحت اخراجات جنگی کے عوض کشمیر انگریزوں کے حوالے کیا تھا۔عہد نامہ لاہور، ایسٹ انڈیا کمپنی اور خالصہ دربار کے مہاراجہ دلیپ سنگھ کے مابین قرار پایا۔صغر سنی کے سبب مہاراجہ دلیپ سنگھ کی سر پرستی اُن کی والدہ رانی جنداں انجام دے رہی تھی اور انگریزوں سے سلسلہ جنبانی اُسی کی وساطت سے انجام پذیر ہوا۔ عہد نامہ لاہور فارسی زباں میں تحریر ہوا ہے جس کا اُردو ترجمہ بشرح زیر ہے:
دفعہ چہارم عہد نامہ لاہور:چونکہ انگریزی سرکار نے لاہور کی ریاست سے جنگ و تصادم کے اخراجات کی تلافی کے لئے دفعہ سوم کے تحت ڈیڑھ کروڑ روپیہ طلب کیا   اور سرکار لاہور کے پاس سارا زر دینے و انگریزی سرکار کی دل جمعی (دل رکھنے) کی لیاقت و صلاحیت نہیں ہے لہذا مہاراجہ صاحب نے قلعہ جات و ممالک وکوہستانی علاقوں کے حقوق جو دریاے بیاس و سندھ کے بیچوں بیچ ہزارہ کی جانب پڑتے ہیں ہزارہ و کشمیر سمیت ایک کروڑ روپیہ کے عوض جو کہ زر مطلوبہ (ڈیڑھ کروڑ) کا حصہ ہے  سرکار دولتمدارکمپنی بہادر کو ہمیشہ کیلئے تعویض کیا ہے ۔
 کل رقم واجب الادا ڈیڑھ کروڑ میں سے ایک کروڑ روپیہ کے عوض کشمیر و ہزارہ سمیت دیگر قلعہ جات و علاقہ جات کے منجملہ حقوق انگریزی سرکار کے نام ہو گئے ۔ اِس سرکار کی نمائندگی کے فرائض کمپنی بہادر (ایسٹ انڈیا کمپنی) تاج و تخت برطانیہ کے حکمنامے کے مطابق دے رہی تھی ۔کل رقم واجب ڈیڑھ کروڑ میں سے ایک کروڑ کے عوض کشمیر و ہزارہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو سپرد کرنے کے بعد باقیماندہ رقم پچاس لاکھ روپیہ کا حساب و کتاب دفعہ پنجم کے تحت قرار پایا ، اِس کے علاوہ دفعہ چہارم میں دفعہ سوم کا ذکر بھی ہوا ہے ۔یہ دونوں دفعات اگر چہ مستقیماََ کشمیر سے متعلق نہیں ہے لیکن موضوع سے مطابقت رکھنے کی خاطر یہ دفعات بھی منعکس کی جاتی ہے اور ذکر شاید اسلئے بھی مناسب ہے کہ اِن دفعات سے انگریزوں کی عیاری ، مکاری و سیاہ کاری عیاں تر ہوتی ہے۔
دفعہ سوم عہد نامہ لاہور :مہا راجہ صاحب دو دریاؤں ستلج و بیاس کے بیچ کا ملک اور مذکورہ دو دریاؤں کے قریب و جوار میںکوہستانی علاقے کواِس اقرار کے ساتھ کمپنی بہادر کو منتقل کرتی ہے کہ سرکار لاہور کا مذکورہ ملک پہ کوئی دعوہ نہیں رہے گا  ۔
دفعہ پنجم عہد نامہ لاہور:مہاراجہ صاحب اِس عہد نامہ کے حسن انعقاد(تشکیل پانے) سے پہلے ہی پہلے ہی پچاس لاکھ روپیہ انگریزی سرکار کو پہنچا دیں گے۔
دفعہ چہارم اور اُس سے منسلک اِن دو دفعات کے ذکر سے یہ بات واضح ہو گئی کہ کشمیر کو دربار لاہور سے جنگی تاوان کے عوض لیا گیا لیکن اِس سامراجی کھلواڑ کو ایک اور سیاسی پینترے سے کیسے اختتام تک پہنچایا گیا اُ س کی تہہ تک پہنچنے کیلئے اِسی عہد نامے کی بارہویں دفعہ کا مطالعہ ضروری ہے،جس کے وسیلے کنار میدان کے ایک اور کھلاڑی ،جموں کی ڈوگرہ شاہی کے راجہ گلاب سنگھ کو میدان میں اتارا گیا۔راجہ گلاب سنگھ خالصہ دربار کے باجگذار تھے لیکن جونہی اُنہوں نے دیکھا کہ خالصہ دربار رو بہ زوال ہے تو اُنہوں نے انگریزوں سے ساز باز شروع کر کے دغا بازی کی ایک بد ترین مثال قائم کی۔عہد نامہ لاہور کی بارہویں دفعہ میں اُنکی سیاہ کاری درج ہے:
 دفعہ بارہ عہد نامہ لاہور :راجہ گلاب سنگھ کی خدمات کے مد نظر جو اُنہوں نے سرکار لاہور وسرکار دولتمدار انگلشیہ میں روابط ،دوستی و اتحاد کوبڑھانے اور ریاست لاہورکے استحکام کے لئے نمک حلالی کی راہ پہ چلتے ہوئے ادا کیں مہاراجہ صاحب (خالصہ مہاراجہ دلیپ سنگھ) قول و قرار کرتے ہیں کہ راجہ گلاب سنگھ کو کوہستانی علاقہ جات (کشمیر) مع متعلقہ کوہستانی علاقے جو سورگباشی مہاراجہ کھڑک سنگھ کے عہد سے راجہ گلاب سنگھ کے قبضے میں ہیںکی منتقلی قبول و منظور فرمائیں گے ۔ انگریزی سرکار بھی اعتراف فرماتی ہے کہ راجہ موصوف (گلاب سنگھ) کے  اقتدار با استقلال کو مذکورہ علاقوں میںپذیرائی بخشیں گے اور راجہ موصوف کو آسمانی وقار کی سرکار(یعنی انگریزی سرکار) کے متحدوں میں مانتے ہوئے ایک علحیدہ عہد نامہ عطا کر کے ممتاز  فرمائیں گے ۔
نوٹ:اراجہ کھڑک سنگھ رنجیت سنگھ کے بعد 1839ء میں خالصہ مہاراجہ بنے۔اُنہوں نے جموں کے قریب و جوار کے کوہستانی جو ہماچل پردیش کی جانب پڑتے ہیں راجہ گلاب سنگھ کی تحویل میں دئے تھے۔
عہد نامہ کی بارہویںدفعہ نے بیع نامہ امرتسر کی اساس فراہم کی اور اگلے سو سال کیلئے تاریخ کشمیر رقم ہوئی اِس دفعہ کے ساتھ دفعہ تیرہویں دفعہ بھی جڑی ہوئی ہے جو خالصہ دربار و گلاب سنگھ کے آ ئندہ روابط کے بارے میں ہے ۔ یہ دفعہ بھی کشمیر سے اِس حد تک جڑی ہوئی ہے کہ عہد نامہ لاہور میں قول و قرار کے باوجود لاہور سرکار کشمیر چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوئی اور انجام کار گلاب سنگھ کو کشمیر لاہور کے تعین شدہ گورنر سے چھیننے کیلئے انگریزوں کی فوجی امداد لینی پڑی۔
 دفعہ تیرہ عہد نامہ لاہور :اگر اتفاق سے سرکار لاہور و راجہ گلاب سنگھ کے بیچ لڑائی جھگڑے کی نوبت آئے مہا راجہ صاحب والی لاہور اقرار کرتے ہیںکہ جھگڑ ے کو کمپنی بہادر کے اہل کار کے سامنے پیش کریں گے و اہل کار اعلی ترین حاکم،گورنر جنرل کی طرف سے مقرر شدہ ثالث جھگڑے کو رفع کرنے کیلئے جو بھی کریں گے مہاراجہ صاحب والی لاہو رکو خاطر جمعی کے ساتھ قبول و منظور ہو گا۔
جب شیخ امام الدین، کشمیر میں سرکار لاہور کے آخری صوبیدارسے فوجی مزاحمت پہ فریڈرک کرے بارنٹ ریزیڈنٹ لاہور نے باز پرس کی تو اُس نے خالصہ دربار کے وزیر سلطنت لعل سنگھ کے تین دستخطی خطوط پیش کئے جن میں اُس سے حکم دیا گیا تھا کہ تفویض (تحویل) کشمیر کو منسوخ سمجھواور ’’چونکہ تم نمک خوار قدیم اس سرکار کے ہوتم کو چاہیے کہ کشمیرکو ہر گز خالی نہ کرواور اگر اِس امر میںتمہاری جان بھی جاتی رہے تو عین سعادت سمجھو‘‘ شیخ امام الدین کو معافی دی گئی اور راجہ لعل سنگھ کو بر طرف کر کے پہلے آگرہ پھر ڈیرہ دون بھیجا گیا۔
عہدنامہ لاہور پہ ہنری ہارڈنگ ،گورنر جنرل ، جو کہ سرکار دولتمدار انگلشیہ کی جانب سے اِس امر پہ مامور ہوئے تھے،دلیپ سنگھ،مہاراجہ سرکار لاہور اور اُن کے سات وزیروں کے دستخط ہیں۔ اِس عہد نام کی سولہ دفعات میں جن چند دفعات کا تعلق کشمیر سے ہے اُنہیں منعکس کیا گیا ہے۔عہد نامہ لاہور کے ایک ہفتے بعد بیع نامہ امرتسر کے سیاہ اوراق تاریخ میں منعکس ہوئے۔ یہ بیع نامہ جو فارسی زباں میں تحریر ہوا ہے کے ابتدائی کلمے بشرح زیر ہیں:
یہ عہد نامہ سرکار دولتمدارکمپنی انگریز بہادر و مہاراجہ گلاب سنگھ ،رئیس جموںکے فیمابین،فریڈرک کرے با رنٹ صاحب بہادر و میجر لارنس صاحب بہادر کے وسیلے سے سفارتاََ  اصالتاََ مہاراجہ گلاب سنگھ کی موجودگی میں دفعات تکمیل پائے۔
 دفعہ اول بیع نامہ امرتسر :دیار کشمیرو ہزارہ اور جمع ملک کوہستانی جو دریائے راوی و سندھ کے بیچ میں ہزارہ کی جانب واقع ہے جس کے مشرق میں دریائے سندھ و مغرب سے دریائے راوی واقع ہوا ہے مع علاقہ چمبہ سوائے لاہول کے جو منجملہ سرکار لاہور نے نو مارچ ۱۸۴۶؁ء کے روز ا نگریزی سرکار کو عہد نامہ کی دفعہ چہارم کے تحت تسلیم کیا ،مہاراجہ گلاب سنگھ کو نسل در نسل و پشت در پشت اُن کی اصلی مرد ا ولادوں کو ہمیشہ کیلئے مستقل اختیار کے ساتھ عطا کیا گیا۔ 
دفعہ دوم بیع نامہ امرتسر:اُن علاقہ جات کی مشرقی حدود جو اِس عہد نامہ کی دفعہ اول کے بموجب مہاراجہ گلاب کی تحویل میں دئے گئے اُن امانت داروںکی تجاویز پہ جو انگریزی سرکار و مہاراجہ گلاب سنگھ کی طرف سے مقرر کئے جائیں گے تعین وتشخیص دیا جائے گا اور ملاحظہ کے بعد ایک علیحدہ اقرار نامہ میں درج کیا جائے گا۔
دفعہ سوم بیع نامہ امرتسر:مہاراجہ گلاب سنگھ مندرجہ بالا دفعات میں اُن کو عطا شدہ ملک کے بدلے میں مبلغ پچھتر لاکھ روپیہ نانک شاہی انگریزی سرکار کو دے گی پچاس لاکھ روپیہ انعقاد عقد پہ اور پچیس لاکھ روپیہ انعقاد عقد کی تاریخ کے چھ مہینے کے اندرفقط۔
دفعہ چہارم بیع نامہ امرتسر:حدود ملک مہاراجہ گلاب سنگھ انگریزی سرکار کی رضایت کے بغیر کبھی بھی تبدیل و تغیر نہیں ہو گا۔
دفعہ پنجم بیع نامہ امرتسر: اگر مہاراجہ کا سرکار لاہور یا قریب و جوار میںکسی بھی سرکار کے ساتھ احیاناََ لڑائی جھگڑا ہو جائے تو مہاراجہ موصوف اقرار کرتے ہیں کہ اہل کار سرکار کمپنی بہادر سے رجوع کریں گے و اہل کار ممدوح (گورنر جنرل) ہر چہ ثالثی کے طور پہ رفع کے لئے طے کر پاتے ہیں مہاراجہ موصوف اُن کو رغبت کے ساتھ قبول و منظور کریں گے۔
دفعہ ششم بیع نامہ امرتسر:مہاراجہ گلاب سنگھ اپنی و اپنی اولاد کی طرف سے اقرار کرتے ہیں کہ اگر انگریزوںکی فتح مندفوج کو ہستانی ملک یا ایسے ملک میں کہ جو مہاراجہ صاحب موصوف کے علاقہ جات کے قریب پڑتا ہومامور و تعین کی گئی ہوتومہاراجہ موصوف اپنی کل فوج کے ساتھ حسب الطلب انگریزی فوج کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔
دفعہ ہفتم بیع نامہ امرتسر:مہاراجہ صاحب اقرار کرتے ہیں کہ اہل کاراں کمپنی انگریز بہادر کی رضایت و اجازت کے بغیر وہ ولایت انگلستان ، فرہنگ (یورپ ) و امریکی شہریوں میں سے کسی بھی شخص کو ملازم یا نوکر نہیں رکھیں گے۔
دفعہ ہشتم بیع نامہ امرتسر:مہاراجہ صاحب اقرار کرتے ہیں دفعات پانچ،چھ اور سات اقرار نامہ جو فیمابین انگریزی سرکار و دربار لاہور گیارہ مارچ ۱۸۴۶؁ء کوطے پایا کو اُس ملک میں جو مہاراجہ موصوف کی تحویل میں دیا گیا ہے ملحوظ خاطر رکھیں گے۔گیارہ مارچ ۱۸۴۶؁ء کو طے ہوئی دفعات  پانچ،چھ اور سات کا ترجمہ بشرح زیر ہے:
دفعہ پنجم اقرار نامہ گیارہ مارچ ۱۸۴۶؁ء:انگریزی سرکار اقرار کرتی ہے کہ سرگباشی مہاراجہ رنجیت سنگھ بہادر ،سرگباشی مہاراجہ کھڑک سنگھ و سرگباشی مہاراجہ شیر سنگھ کے خاص الُخاص افراد کی سب جاگیروں کے جملہ حقوق جو کہ اُن مقامات کے اندر ہیں جو عہد نامہ مورخہ نو مارچ سنہ حال(جاری )کی آٹھویں و چہارویں دفعہ کے تحت انگریزی سرکار کے تصرف میں آ گئے ہیں،اُنہی کے پاس رہیں گے و مذکورہ جاگیریں اُن کے دور حیات میں ضبط نہیں ہونگی۔
نوٹ: یہ جاگیریں مابین دریائے ستلج و بیاس اور دریائے ستلج کے دائیں کنارے (دفعہ آٹھ) واقع تھیں ،جو کہ انگریزی سرکار کے تصرف میں آچکی تھیں۔
دفعہ ششم اقرار نامہ گیارہ مارچ ۱۸۴۶؁ء:سرکار لاہور سال  ۱۹۰۲؁ بکرماجیت کی خریف فصل کی واجبات و بقایا جات کی اپنے کارکناں کے ذریعے وصولی میںانگریزی سرکار سے اعانت و مدد کی طالب رہے گی۔
دفعہ ہفتم ا قرار نامہ گیارہ مارچ ۱۸۴۶؁ء:سرکارلاہور کو اختیار ہو گا کہ اپنے سب خزانہ،مال و ذخیرے کی جو اُن جگہوں میں ہیں جو کہ عہد نامہ نو مارچ کی دفعہ تین و چہار میں شامل ہیں کی سند کامل حاصل کرے ۔انگریزی سرکار کو یہ حق ہو گا کہ جو کچھ وہ اُس میں سے خریدنا چاہتے ہوںواجب قیمت ادا کر کے اپنے پاس رکھیں گے اور جو باقی بچے گا، اگر لاہور سرکار کی خواہش ہوانگریزی سرکار کے ملازموں کی اعانت سے نیلام ہو گا اور اُس کی قیمت لاہور سرکار رکھے گی۔ 
دفعہ نہم بیع نامہ امرتسر:انگریزی سرکار اعتراف کرتی ہے کہ بیرونی دشمنوںسے مہاراجہ گلاب سنگھ کے راج و ملک کی حفاظت کرے گی۔
دفعہ دھم بیع نامہ امرتسر :مہاراجہ گلاب سنگھ اقرار کرتے ہیں کی انگریزی سرکار کی عظمت کی بلندی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر سال ایک اونچی نسل کا گھوڑا و اعلی قسم کی پشمینہ کھالیںجن میں سے چھ نر و چھ مادہ بز (تبتی بھیڑ بکری) کی ہوں کشمیری دو شالوں کے دو جوڑے انگریزی سرکار کو نذرانے کے طور پہ پیش کئے جائیں گے۔
 یہ عہد نامہ جو دس دفعات پہ مشتمل ہے مابین فریڈرک کرے صاحب بہادر و میجر لارنس صاحب بہادر منجانب عزت ماب بڑے لقب والے رائٹ آنریبل سر ہنری ہارڈنگ جی۔سی۔بی گورنر جنرل بہادر سفارتََاور اصالتاََ منجانب مہاراجہ گلاب سنگھ قرار پایا۔عہد نامہ لاہور سے ،عہد نامہ امرتسر تک ایک ہی ہفتہ میںمیں گلاب سنگھ راجہ سے مہاراجہ بن گئے لیکن باستقلال نہیں ، پہلے باج خالصہ سرکار کو دیتے تھے ،بعد از امرتسر انگریزوں کو دینے لگے۔ 
Feedback on: [email protected]