غلام نبی رینہ
کنگن //4600کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہورہی 13.5کلو میٹر لمبی ایشیا ء کی سب سے بڑی سرنگ زوجیلا ٹنل کا 9جون کوآرپار ہوجانے کا امکان ہے جو اس میگا پروجیکٹ کی تکمیل کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔ذرائع نے پیر کو بتایا کہ زمینی ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈگری اس تاریخی تقریب میں شرکت کر سکتے ہیں۔تذویراتی لحاظ سے نہایت اہم زوجیلا ٹنل 9 جون کو اپنے حتمی بریک تھرو یعنی آرپار ہونے کے مرحلے میں داخل ہونے جا رہی ہے، جو کشمیر اور لداخ کے درمیان سال بھر رابطہ قائم کرنے کی کوششوں میں ایک بڑا سنگِ میل ہوگا۔منصوبے سے وابستہ حکام کے مطابق 13.5 کلومیٹر طویل یہ سرنگ سرینگر۔لیہہ قومی شاہراہ پر واقع زوجیلا درّے کے نیچے تعمیر کی جا رہی ہے اور 9 جون کو وہ آخری دھماکہ کیا جائے گا جس کے ذریعے سرنگ کے دونوں سروں کو آپس میں جوڑ دیا جائے گا۔
اس بریک تھرو کے بعد ضلع گاندربل کے بالہ تل علاقے اور ضلع کرگل کے دراس سب ڈویژن کے منی مرگ کے درمیان زیرِ زمین رابطہ مکمل ہو جائے گا۔حکام نے بتایا کہ تقریب میں مرکزی وزیر نتن گڈکری کے علاوہ قومی شاہراہوں سے متعلق اداروں، بشمول نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا ،نیشنل ہای ویز انفراسٹریکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹیڈاور تعمیراتی کمپنی میگھا انجینئرنگ اینڈانفراسٹریکچر لمیٹیڈ کے اعلیٰ افسران کی شرکت بھی متوقع ہے۔منصوبے کے ذمہ داران کے مطابق کشمیر اور لداخ دونوں اطراف سے سرنگ کی کھدائی میں مصروف انجینئرز اور مزدور 9جون کو زیرِ زمین ایک دوسرے سے ملیں گے۔ تعمیراتی ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ مرکزی سرنگ کے ’’بریک تھرو‘‘ کا عمل جون کے دوسرے ہفتے میں مکمل ہونے والا ہے۔زوجیلا ٹنل منصوبے کے ایک سینئر افسر نے کہا’’یہ بریک تھرو ایک تاریخی لمحہ ہوگا۔ اس کے بعد سرنگ کی اندرونی لائننگ، وینٹی لیشن سسٹم اور دیگر تکمیلی کاموں میں تیزی لائی جائے گی۔ یہ ٹنل لداخ کو سال بھر قابلِ رسائی بنائے گی اور برفانی تودوں کے خطرے والے زوجیلا درّے کا متبادل فراہم کرے گی، جو ماضی میں ہر سال کئی مہینوں تک بند رہتا تھا‘‘۔ تعمیراتی کمپنی میگا انجینئرنگ انفراسٹرکچر کے جنرل منیجر شیو کمار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ٹنل کی کھدائی کا کام تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9جون کو مرکزی وزیر نتن گڈکری ٹنل کی تعمیراتی کام کا جائزہ لے کے لئے آرہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی وزیر تعمیراتی کام کا جائزہ ایسٹ پورٹل سے لیں گے۔ادھر بی جے پی کے ایک وفد، جس میںجنرل سیکریٹری اشوک کول بھی شامل تھے ،نے زوجیلا ٹنل کے ویسٹ پورٹل پر ٹنل کے کام کاج کا جائزہ لیا۔سابق چیف ایگزیکٹو کونسلر لداخ تاشی گلسن نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سنیچر کو بی جے پی کے ایک وفد نے زوجیلا ٹنل کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا جہاں پر وفد کو بتایا گیا کہ 9جون کو ٹنل کا بریک تھرو کیا جارہا ہے۔ تاشی گلسن نے بتایا کہ انہوں نے ٹنل میں ہورہے کام کے بارے میں وزیراعظم نریندر مودی تک جانکاری پہنچائی ہے۔ تاشی نے بتایا کہ وزیراعظم جموں و کشمیر اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے سنجیدہ ہیں۔ تاشی نے کہا ہے کہ ٹنل مکمل ہونے کے بعد لداخ کرگل دراس اور دیگر مقامات میں سیاحت اور تجارت کو بڑے پیمانے پر فروغ ملے گا ۔تاشی نے بتایا کہ ٹنل کو بریک تھرو کے روز اگرچہ مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ اور ہائی وے نتن گڑکری کی آمد کے بارے میں سرکاری طور پر اطلاع موصول نہیں ہوئی لیکن شاید بریک تھرو کے روز ان کی آمد متوقع ہے ۔ تاشی نے بتایا کہ زوجیلا ٹنل لداخ کے لئے لائف لائن ہے کیونکہ موسم سرما کے دوران لداخ شاہراہ بند رہنے کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ آنہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہوائی جہاز کی ٹکٹ مہنگی ہونے سے عوام پریشان ہے لیکن ٹنل مکمل ہونے سے عوام کے مشکلات حل ہونگے۔