جموں//جموں وکشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم نے گزشتہ روز وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اور وزیر مملکت برائے خزانہ انوراگ ٹھاکر کی پریس کانفرنس دیکھنے کے بعد ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ان کی یہ پریس کانفرنس وزیراعظم نریندر مودی کے اعلان کردہ 20لاکھ کروڑ روپے کے معاشی پیکج کا مقصد پہنچانے میں ناکام رہی ۔پنتھرس سربراہ پروفیسر بھیم سنگھ نے وزیر خزانہ محترمہ سیتا رمن کی اس تقریر کو انتخابی تقریر قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس غیرفطری 20لاکھ کروڑ کی پیش کش میں نہ تو کوئی منصوبہ بندی کا خاکہ ہے اور نہ ہی معاشی جرات۔انہوں نے کہاکہ اس ملک کی تقریباًً 85فیصد آبادی کسانوں کو فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے معاشی پیکج کی ضرورت ہے۔مراعات یافتہ طبقہ کو ملک میںجاری ٹنڈرو پر قرض دینے سے ملک میں غربت دور کرنے میں کیسے مدد ملے گی جبکہ ملک کی اکثریت دیہات میں مقیم ہے اور تعلیم اور روزگار کی سہولت کے بغیر زندگی گزار رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک وزیراعظم اور ان کی وزیر خزانہ غربت سے دوچار گاوں میں رہنے والے ہزاروں لوگوں /بے روزگار نوجوانوں تک اپنی اسکیموں کے فوائد نہیں پہنچائیں گے تب تک ’آتم نربھر بھارت ‘ کا مشن بھی حاصل نہیں کیا جاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کا آتم نربھر بھارت ملک کا نعرہ صر ف دس سے پندرہ فیصد آبادی کے لئے ہے جو کبھی گاوں نہیں گئے اور نہ ہی صدیوں سے گاوں میں رہنے والی 80فیصد لوگوں کی زندگی کے بار ے میں کچھ جانتے ہیں۔پروفیسر بھیم سنگھ نے وزیراعظم کو یاد دلایا کہ انتخابات/انتخابی نعروں سے اعلی طبقہ کے سیاستدانوں /وزراکو اگلے کورونا وائرس سے نجات نہیں مل سکتی جب ہندستان کے عوام ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور امتیازی سلوک کے خلاف بغاوت کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔نہ ہی کوئی معاشی پیکج اور نہ ہی مفادات کی رعایت موقع پرست سیاسی مفادات کو مستقبل میں انہیں کنٹرول کرنے کی اجازت دے گی۔پروفیسر بھیم سنگھ نے طلبا سے نیشنل پنتھرس اسٹوڈنٹس یونین میں شامل ہونے کی پرزور اپیل کی جس سے تمام کے لئے انصاف اور مساوات کی سیکولر اور جمہوری تحریک کو مضبوطی ملے ۔