۔۲۱؍ اپریل ۱۹۳۸ء۔۔۔۔۔ علامہ اقبالؒ

 ’’ فلسفۂ خودی‘‘ اقبالؔ کی فکری کائنات کا مرکز و محور ہے۔ اگر اس مرکز کو اپنی جگہ سے ہٹایا جائے تو اس فکری کائنات میں محشر بپا ہوگا۔ اس لحاظ سے اقبال کی شاعری اور فکرو فلسفہ کا جزوی مطالعہ کسی طور بھی اقبالؔ شناسی میں معاون ثابت نہیں ہو گا۔ یہا ںایک مر بوط و منضبط فکری نظام کار فر ما ہے۔ جو مبسوط اور منّظم مطالعے کا متّقاضی ہے۔ قاری، محقق یا نقاد کسی بھی موضوع کے تحت فکرِ اقبال پر اظہار خیال کرنا چاہے۔ تو اُسکے لئے لازمی ہے کہ وہ علامہ کے فکری التزام اور فنی دروبست سے کماحقہ، اَشنا ہو۔ علی الخصوص ’’فلسفۂ خودی‘‘ سے اعراض اس سلسلے میں نیم نگا ہی پر منتج ہوگا۔ 
 نظریہ خودی کی تشکیل میں تین نظریاتی منابع خاص طور سے اقبال ؔکے زیرِنظررہے ہیں اور وہ نظریاتی منابع یہ ہیں۔
 (ا)کلامِ مجید کا نظریۂ نیابت۔(۲)تصّوف کا وجود ی نظریہ (۳)نطشے کا نظریۂ فوق البشر وحدت الوجود تصوف کا ایک ایسا فلسفہ ہے کہ جس کے مطابق کائنات میں ذات ِ باری کے وجود کے سوا کوئی بھی دوسرا وجود موجود نہیں ہے اور جو موجودات اس میں پائے جاتے ہیں وہ اسی واجب الوجود یعنی اللہ تعالیٰ کے وجود کا  ہی حصہ ہیں ۔گویا اس فلسفہ کے مطابق باقی تمام مخلوقات کے وجود کی نفی کے ساتھ ساتھ انسانی وجود کی نفی بھی لازماً ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب جرمنی کے معروف فلسفی فریڈرک نطشے نے ’’فوق البشر ‘‘ کا نظریہ پیش کر کے یہ بتا دیا کہ انسان کو چاہئے کہ وہ قوی سے قوی تر ہونے کے لئے بقولِ اس کے تمام تر فرسودہ اخلاقی ،مذہبی ،روایتی اور معاشرتی بندشوں سے آزاد ہو کر قوت و تسلط کی انتہاء تک پہنچے۔بالفاظ دیگر اپنی فعالیت کے بل پر خدا کی بندگی چھوڑ کر خود خدا بن جائے۔ شہید مرتضیٰ مطہری نطشے کے نظریات پر نقد و بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’نطشے خدا اور دین کا مخالف ہے وہ یہ اعتقاد رکھتا تھا کہ دین کمزوروں نے اختراع کیا ہے تاکہ طاقت وروں کی طاقت کو محدود کر دیں۔ چنانچہ اس کے نظریے کے مطابق دین نے نوع بشر کے ساتھ جو غداری کی ہے وہ یہ ہے کہ اس نے آکر بخشش،سخاوت ، روح، مروت، انسانیت ، اچھائی وغیرہ کے مفاہیم لوگوں میں پھیلا دئے اور بعد میں طاقت ور لوگوں نے ان باتوں سے دھوکا کھایا ہے ‘‘۔ الغرض نطشے کے بر تر انسان (superman) کے لئے کسی بھی قسم کا ضابطہ ٔ اخلاق سم ِ قاتل ہے جو اس کے دل میں کمزوروں ،مجبوروں ،مسکینوں ،لاچاروں اور اپنے سے کم تر لوگوں کے تئیں ترحم کے جذبات پیدا کرے۔ وہ ہمدردی ،مروت ، مساوت و مواسات اور ایثار کو ضعف کا سر چشمہ سمجھتا ہے اورایک بے لگام طاقت و قوت کو انسان کے حق میں پسندیدہ صفت گردانتا ہے۔ اس سلسلے میں خلیفہ عبدالحکیم اپنی کتاب فکر اقبال میں لکھتے ہیں کہ نطشے کے نظریہ فوق البشر کے مطابق رحم کوئی فضیلت نہیں بلکہ حیات کش ہونے کی وجہ سے ایک مذموم صفت ہے جو کمزوروں کی اخلاقیات نے اپنی حفاظت کے لئے ایجاد کی ہے ۔ ۔۔۔ انسا ن بھی غلامانہ ذہنیت رکھتا ہے ۔ موجودہ انسان کو چاہیے کہ اپنے آپ کو منسوخ کر کے ایک نئی نوع کے خواص پیدا کرے ۔ زندگی کو فوق بشر کاانسان کا انتظار ہے ۔چنانچہ نطشے خدا کا منکر تھا ۔‘‘الغرض فلسفہ وحدت الوجود اور نطشے کے نظریہ فوق البشر کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ وجودی نظریہ کے مطابق تمام موجودات بشمول انسان اصلاً کسی بھی حقیقی اور مستقل وجود کے حامل نہیں ہیں اورجو کچھ بھی ہے وہ بس خدا ہی خدا ہے اور دوسری جانب نطشے کے نظریہ کے مطابق انسان ہی سب کچھ ہے ۔یہ یعنی نطشے انسان کو خدا کے منصب پر بٹھانے کا آرزومند ہے اور وہ یعنی وحدت الوجود کے قائل صوفیہ وجودِ انسان کو اللہ کے وجود کے ذریعے بے حقیقت کرتے ہیں۔المختصر ہر دو نظریات میں افراط و تفریط دیکھنے کو ملتا ہے اور قرآن کا نظریۂ نیابت افراط و تفریط سے منّزہ اور مبّرہ ہے جس کے مطابق بس ایک اللہ تعالیٰ کی ذات واجب الوجود ہے یعنی ایسی ذات جس کا وجود کسی کا محتاج نہیں ہے اور باقی تمام موجودات ممکن الوجود ہیں یعنی جن کا وجود ایک خالق کا محتاج ہے ۔تمام مخلوقات اللہ کے وجود سے پرے ایک حقیقی وجود رکھتے ہیں جن کے لئے عدم اور فنا لازم آتا ہے۔البتہ تمام مخلوقات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے جس کے لئے لاز م ہے کہ اس (خدا) کی بندگی میں کمال و سعادت کی راہ پر ہمیشہ گامزن رہے۔ظاہر ہے کہ علامہ اقبال ؒ میں رد و قبول کے ایک خاص ہنر سے متصف تھے، لہٰذا انہوں نے فلسفہ وحدت الوجود سے طاعت و بندگی کا عنصر لیا اور نطشے کے نظریہ فوق البشر سے انسان کی عظمت و فعالیت کا عنصر لیااور نیابت ِ الٰہی کے قرآنی نظریہ کی روشنی میں فلسفہ خودی کو پیش کیا۔ حسن ِ اتفاق سے مذکورہ دونوںا جزاء قرآن کریم کے نظریہ نیابت الٰہی میں بدرجہ اَتم موجود ہے ۔پس کہا جا سکتا ہے فلسفہ خودی دراصل قرآن کے تصّورِ نیابت ِالہیٰ کی فلسفیانہ اور بلیغانہ تفسیر ہے۔ نائب کی عظمت ور فعت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ وہ کس کے حکم سے کس کا نائب مقرر ہوا ہے۔نیز نیابت کا اصل وظیفہ کیا ہے؟ قرآن مجید میں تخلیق آدم کے تعلق سے جو تصریحات ملتی ہیں، ان کے مطابق خالق کا ئنات نے انسان کو اپنے ہی حکم سے خود اپنا نائب مقرر فرمایا ہے۔ علامہ اقبالؔ نے جب ان تینوں نظریات کا باریک بینی سے مطالعہ کیاتو وہ اسی نتیجہ پر پہنچے کہ قرآن نے انسان کو عظمت و رفعت عطا کرنے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم مسئولیت سونپی ہے۔ چنانچہ تصّوف کا نظریہ و حدت الوجود در اصل اس مسئولیت سے راہبانہ فرار ہے نیز نطشےؔ کا تصور قوق البشر باغیانہ فرار کاغماز ہیں۔ اس ’’راہبانہ فرار ‘‘ اور’’باغیانہ فرار‘‘ سے بدون اور افراط و تفریط سے منزّہ ’’نظریہ ٔ خودی‘‘ کا اصل مقصد یہی ہے کہ انسان اُس ’’باطنی کائنات‘‘ کی بو قلمونی کا چشمِ بصیرت سے مشاہدہ کرے جس کو جناب امیرؑ نے پوشیدہ ’’عالم اکبر‘‘ کہا ہے تاکہ انسان عرفانِ ذات کے جام سے سرشار ہو کر تسخیر کائنات کی پر خار و دشوار گزار مرحلے کو عبور کرکے بارگاہِ ایزدی تک رَسائی حاصل کر سکے۔ نیز اپنی شخصیت کی تعمیر کیلئے اپنی تمام تر خلاّقانہ صلاحتوں کو بروئے کار لائے۔ خودی کے آئینے میں خود شناسی و خود یابی کی جاذبِ نظر صورت دکھائی دے تو خود بخود عزتِ نفس کااحساس اُبھرے گا    ؎
جمال اپنا اگر تو خواب میں بھی دیکھے 
ہزار ہوش سے خوشتر تری شکر خوابی
یہ موج نفس کیا ہے تلوار ہے
خودی کیا ہے تلوار کی دھارہے
خلیفہ عبدالحکیم کا یہ جملہ قابلِ توجہ یہ ہے کہ’’ اقبال صرف خودی کا پیغام بر ہی نہیں بے خودی کا رمز شناس بھی ہے۔ ‘‘  پیام خودی کی ابلاغ پر باوجود اس کے اقبال کی فکری و فنی تو انائیوں کا ایک بڑا حصّہ صرف ہوا ہے، پھر بھی اقبال نے خودی کو اپنے جہانِ افکار کی مطلق العنان حاکمیت نہیں بخشی ہے۔ یہ خودی بھی ا پنی تمام تر خصائص اور امتیازات کے باوجود اُسی فکری نظام کی پابند ہے جس کا تذکرہ ابتدائی سطور میں ہوا ہے۔ واضح الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ خودی (انائے انفرادی) جب تک بے خودی (انائے اجتماعی) کے ساتھ تعلق پیدا نہ کرے اس کی تکمیل ممکن نہیں ہے۔ گویا اقبالؔ کی نظر میں جولازمی تعلق فرد کو جماعت کے ساتھ ہونا چاہئے، وہی تعلق خودی کو بے خودی کے ساتھ ہونا لازمی ہے۔ چناچہ فرد کو تمثیلی انداز میں پایند گی کا راز بتاتے ہیں  ع
پیوستہ شجر سے رہ، امید بہار رکھ 
فکرِ اقبال کی رو سے فرد کا جو ہر خودی ہے اور جماعت کا جوہر بے خودی ۔ اس لحاظ سے افراد کے مابین تعلق جماعت کا استحکام ِ ظاہری ہو تا ہے اور خودی کا بے خودی کے ساتھ پیوسطہ ہونا جماعت کے واسطے استحکام جوہری (باطنی) کا مؤجب ہوتا ہے۔ اس بحث تمہیدی کی غایت فقط یہ کہنا ہے کہ حکیم الامت افرادِ ملت کو خودی کی بٹھی میں تپا کر ان کا استعمال ملت کی تعمیر میں کرنا چاہتے ہیں   ؎
وجود افراد کا مجازی ہے ہستیٔ قوم ہے حقیقی 
فدا ہو ملت پہ یعنی آتش زنِ طلسم مجاز ہو   
فردو جماعت کے باہمی ربطہ کے بارے میں اقبال کا زاویہ ٔ نگاہ معتدل اور متوازن ہے اس سلسلے میں بر گساںؔ ، نطشےؔ، شیڑ نر اور فردی آزادی کے زبردست حامی دیگر مغربی مفکرین سے شدید اختلاف رکھتے ہیں ۔ یہ مغربی فلاسفہ فرد کی نشونما کی راہ میں جماعتی آئین و اصول کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں ۔ اسی طرح علامہ اقبال ہیگل اور کارل مارکس جیسے فلسفیوں کے اشتراکی فلسفہ سے بھی بہت زیادہ متاثر نہیں ہے جس کے مطابق فرد کو جماعت پر قربان کرنا لازمی ہے اورانفرادی آزادی کو مکمل طور پر سلب کر کے جماعت اور معاشرے کو مضبوط سے مضبوط تر کرنا مطلوب و مقصودہے۔ چاہے اس سلسلے میں انسان کے ایک فطری جذبے یعنی’’ حبِ ذات ‘‘کا گلا بھی کیوں نہ گھونٹا پڑے۔یہاں پر اس بات کا ذکر موضوع کے دائرے سے باہر نہیں ہے کہ علامہ اقبال نے ان دونوںمتضاد مکاتب ِفکر کے افکار کو خوب جانچا پرکھا۔ چنانچہ اول الذکر مکتب فکر فرد کی جماعت سے مطلق آزادی اور ثانی الذکر مکتب فکر فرد کی تمام تر ضروری اور غیر ضروری فردی اور ذاتی آزادیوں کو سلب کر نے میں ہی انسانیت کی فلاح سمجھتے تھے۔ دیکھا جائے تو اس لحاظ سے دونوں مکاتب فکر کے مابین فکری لحاظ سے بعد المشرقین ہے لیکن پھر بھی ان دونوں مکاتب فکر کے مابین ایک فکری اشتراک دیکھنے کو ملتا ہے اور وہ اشتراک یہ ہے کہ دونوں مذہب اور خدا پرستی کو انسانیت کے لئے اچھی چیز نہیں سمجھتے۔ٍایک مذہب کو کمزور و ضعیف طبقہ کی حیلہ سازی کا نتیجہ قرار دیتا ہے اور دوسرا اسے زور آور اور استحصالی طبقہ کی کارستانی کہتا ہے،جب کہ علامہ اقبال ؒ  ایک پکے موحد اور خدا ترس انسان تھے ،لیکن مذہب کے نام پر تنگ نظری کا ان کے یہاں شائبہ تک نہیں ملتا ہے۔ لہٰذا انہوں جب کسی مکتبہ فکر کے فکری مبادیات کا مطالعہ کیا تو وسیع النظری کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بنیادی اختلاف کے باوجود بھی علامہ اقبال ؒ نے ان دو فلسفی مکاتب کو رد و قبول کے پیمانے میں تولا ان کے فاسد اجزا پر کڑی تنقید بھی کی اور ان کے چند ایک اچھے اجزا کو قبول بھی کیا۔ چنانچہ نطشے کے فلسفہ کا یہ پہلو انہیں بھا گیا جس کے مطابق  ایک انسان کو فعال و متحرک رہ کر اپنی شخصیت میں ضعف پروری کے عناصر کو ہرگزجگہ نہیں دینا چاہیے اور کارل مارکس کا فرد کے مقابلے میں جماعت کو ترجیح کسی حد تک علامہ اقبال کے نزدیک مستحسن ہے۔خاص طور سے غریب اور مزدور طبقے کے تئیں اشتراکیت کی ہمدردی اور سرمایہ دارانہ نظام اور استحصالی عناصر کے خلاف فکری سطح پر ا صدائے احتجاج علامہ کی نظر میں لائق ستائش ہے۔علامہ اقبال’’ رموزِ بے خودی‘‘ کے دیباچہ میں رقم طراز ہیں ’’حیات ملیہ کا انتہائی کمال یہ ہے کہ قوم کے افراد کسی آئین ِمسلّم کی پابندی سے اپنے ذاتی جذبات اور میلانات کے حدود مقرر کریںتاکہ انفرادی تباین و تناقص مٹ کر تمام قوم کے لیئے ایک قلبِ مشترک پیدا ہو جائے  ‘‘  ؎
فرد را ربطِ جماعت رحمت است 
جوہر اور اکمال از ملت است
ترجمہ: ایک فرد کے لئے جماعت کے ساتھ اس کا تعلق سراسر رحمت ہے کیونکہ اس کے جوہر کو ملت کے ساتھ وابستگی سے ہی کمال نصیب ہوتا ہے   ؎
تاتوانی با جماعت یار باش  
رونقِ ہنگامہ احرار باش 
جہاں تک ہو سکے جماعت کا حامی و ناصر بن جا اور یوں خدا کے آزاد بندوں کی تحریک میں شامل ہو جا۔
یہ بات تو طے ہوئی کہ علامہ اقبال کی نظر میں فرد و جماعت آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔افراد کے بغیر قوم و ملت کا وجود میں آنا نا ممکن ہے ۔ اور قوم و ملت کی عدم موجودگی میں آدمیت کا حصول ایک فرد کے لئے خارج از امکان ہے۔ پروفسر یوسف سلیم چشتی روموز بیخودی کی اپنی شرح میں لکھتے ہیں کہ ’’اقبالؒ ، پروفیسر میک ڈوگل کے اس خیال سے بھی متفق ہیں کہ سوسائٹی کے بغیر فرد میں آدمیت پیدا نہیں ہو سکتی کیو نکہ جماعت ہی اس کے اندر ضبط کا مادہ پیدا کرتی ہے اور اس کو قانون کا احترام سکھاتی ہے‘‘یہی وجہ ہے کہ فرد اور قوم ایک دوسرے کے معیار کے آئینہ دار ہوا کرتے ہیں۔جہاں کوئی قوم دیگر اقوام کی بہ نسبت ممتاز اورمکرم دکھائی د ے تو جان لینا چاہے اس قوم کے افراد کا انفرادی و اجتماعی کردا شاندار اور جاندار ہو گا۔فرماتے ہیں      ؎
فرد می گیرد ز ملت احترام 
ملت از فرد می یابد نظام
ایک فرد قوم سے ہی لائق ِ تعظیم واحترام بن جاتا ہے اور ملت میں بھی افراد کے بدولت ہی ایک قومی نظام وجود میں آجاتا ہے   ؎
فرد تا اندر جماعت گم شود
قطرہ ٔ وسعت طلب قلزم شود
ترجمہ: جب ایک فرد قومی زندگی میں گھل مل جاتا ہے توگویا وہ بذات خود ملت بن جاتا ہے ٹھیک اس قطرے کی طرح جو سمندر میں مل کر سمندربن جاتا ہے جسے وسعتِ بحر کی طلب ہو۔ اس بات کو ماننے میں کوئی بھی منطق مانع نہیں ہو سکتی ہے کہ اگرا فرد کے آپسی میل جول ، انس و محبت،ایک آئین و اصول کی طاعت، ایک ہی مرکز کی جانب حرکت سے ہی اُمت کی تشکیل ممکن ہے تو ایک بہترین امت کے لئے بہترین افراد کی ضرورت ہوگی اورعلامہ اقبال کے مطابق خودی کے بغیر ایک فرد ہرگز ہرگز مطلوبہ فرد نہیں ہو سکتا ہے کہ جو خیرامت کی تشکیل میں کام آئے اور بے خودی (یعنی اجتماعی خودی)ہی اصل میں خودی(انفرادی خودی) کا سر چشمہ ہے۔یہی وجہ ہے علامہ اقبال فردِ ملت سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں   ؎
تو خودی از بے خودی نشاختی 
خویش را اندر گماں انداختی
تو اے خودی کے طلب گار! اگر تو نے اپنی (انفرادی) خودی کو بیخودی(اجتماعی خودی)سے اخذ نہ کیا تو جان لے تو نے یقینا اپنے آپ کو شک و تردد کے حوالے کردیا۔
………………….
cell : 9596465551