یہ کیسا پردیس؟

واہ!کیا کاریگری ہے،کیا حسن ہے،کیا دلکش نظارہ ہے۔باخدا!بہت ہی فرصت سے بنایا ہے بنانے والے نے
ارے او میرے بھائی کس کی بات کر رہے ہو ۔آفاق نے عامر کو ترچھی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا
ہا ہا۔ارے یار اس کائنات کی،اس کے حسن کی، اس کے بنانے والے کی بات کر رہا ہوں ۔عامر نے جواب دیا
ویسے مجھے تمہیں ایک خوشخبری دینی ہے۔ آفاق نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا 
خوشخبری کس چیز کی۔ عامر نے پوچھا
یہی کہ مجھے نوکری مل گئی ہے اور میں ماں بابا کو بھی ساتھ لے جانے والا ہوںکیونکہ میں نے پہلے ہی ارادہ کر لیا تھاکہ اگر مجھے نوکری ملی تو میں اسی جگہ جا کے بس جائوں گا۔اب میں کل نکل رہا ہوں، مجھے بھولنا نہیں۔میں کہیں بھی رہوں تم ہمیشہ میر ے دل کے پاس رہو گے۔آفاق نے جواب دیا۔
یار یہ تو بہت ہی زیادہ خوشی کی بات ہے اور بھولنے کی تو تم بالکل بات ہی مت کرو۔ویسے یار دوسری جگہ۔۔۔عامر نے  سوالیہ انداز میںآفاق سے پوچھا۔
ایسا کچھ نہیں ہوگا زیادہ مت سوچ۔ماں بابا کو ایک اچھی زندگی دینے کا خواب آج شرمندئہ تعبیر ہو رہا ہے بس تو مجھے اب رخصت دے ،چل اب اُٹھ پھر دیر ہو جائے گئی مجھے تیاریاں بھی کرنی ہیں۔آفاق نے کہااور رخصت لے کر اپنے گھر کی اور چل دیا۔
دوسرے دن عامر نے آفاق اور اس کے ماں بابا کو ائر پورٹ پر الوداع کیا اور واپس اپنے گھر چلا آیا۔
دونوں کی دوستی کو ایک عرصہ گزر چکا تھا اور دونوں ایک دوسرے کی جان تھے۔ پورے شہر میں دونوں کی دوستی کی مثالیں دی جاتی تھیں، ایسی یاری کو پورا شہر سلام کرتا تھا۔
کچھ دن گزر جانے کے بعدعامر کو ایک انجان نمبر سے فون کال موصول ہوئی جیسے ہی اس نے کال رسیو کی تو اپنے دوست کی آواز سُن اسکی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔سلام دعاء کے بعد عامر نے آفاق سے ماں بابا کی خیرت پوچھی اور اُس کی نوکری کے بارے میں اور دیگر باتیں بھی کی۔
مجھے تو دن رات بس یہی فکر لگی رہتی ہے کہ تم کیسے ہو،ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ تم مجھ سے اتنا دور دوسرے ملک میں ہو، جہاں اپنے مذہب کے علاوہ اور بھی کئی دھرموں کے لوگ رہتے ہیں۔کیا پتا وہاں رنگ و نسل یا مذہب کی بنیاد پر تجھے اور تمہارے ماں بابا کو ستایا نہ جائے۔ عامر نے اپنی فکر وتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
ارے میرے یار ،میرے بھائی ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔یہاں ہم جیسے اور بھی بہت سارے لوگ رہتے ہیں اور کسی کو کسی کے مذہب ،ذات پات اور رنگ و نسل سے کوئی واسطہ نہیںہے تم بے وجہ پریشان ہورہے ہو’’آفاق نے اُسکو اطمینان دلاتے ہوئے کہا۔
اگر ایسی بات ہے تو میں بے فکر ہو کر رہتا ہوں۔ آفاق نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فون کاٹ دیا۔
اب ایسے ہی دو دو،چار چار دن کے بعد ان کی آپس میں بات ہوا کرتی تھی، جو عامر کو مطمئن رکھنے کے لئے کافی تھی کہ اُس کا دوست ٹھیک ہے۔
اب کی بار ایک مہینہ گزر جانے  تک عامر کو آفاق کی جانب سے کوئی بھی فون کال موصول نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے وہ پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔شام کو عامر اکیلے اسی جگہ بیٹھا تھا جہاں وہ اور اُس کا دوست اکثر بیٹھا کرتے تھے اور خوب ہنسی مذاق کیا کر تے تھے۔عامر ان ہی یادوں میں محو من ہی من ہنس رہا تھا کہ اچانک اُس کو آفاق کی کال موصول ہوئی۔عامر نے ہیلو کہا تو دوسری طرف سے آواز آئی
میں بہت پریشان ہوں ،تمہیں پتا  بھی ہے کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے، خود تو عیش کی زندگی گزار رہے ہواور یہاں مجھے اکیلے مرنے کے لئے چھوڑ دیاتم نے۔ عامر نے بھرے ہوئے گلے سے کہا۔
جو سوچا تھا پہلے تو سب ٹھیک ویسے ہی گزرا لیکن پچھلے کئی مہینوں سے سب جیسے سب کچھ بدل سا گیا ہے۔آفاق نے دھیمی آواز میں کہا۔
کیا مطلب!سب خیرت تو ہے نا،ماں بابا ٹھیک تو ہیں؟عامر نےپوچھا
میرے یار زندگی اگر رہی تو ضرور ملیں گے اور یہ کہتے ہوئے آفاق نے فون کاٹ دیا۔
عامر گہری سوچ میں ڈوب گیا اور اس کے دماغ میں ایک الجھن سی پیدا ہو گئی۔
رات کو عامر نے جواب دیکھاکہ ایک بڑی سی کشتی میں آفاق کے والد کا جنازہ لے جا رہا ہے اور وہ ننگھے پائوں پھٹے ہوئے کپڑوں میں اس کشتی کے پیچھے چلا جا رہا ہے۔ یہ دیکھتے ہی اچانک اُس کے منہ سے زور دار چیخ نکل جاتی ہے اور وہ ایک دم سے بے دار ہو کر خود کو پسینے میں شرابور ہو کر پاتا ہے اور سوچ میں پڑھ جاتا ہے کہ اُس نے یہ کیا دیکھا۔
اگلے دن آفاق اپنے والد کے ہمراہ پاس والی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لئے چلے گئے۔اس مسجد کے قریب ایک تالاب تھا جس میں ایک سفید رنگ کا اژدھا لوگوں کے لئے وبال جان بن گیا تھا جوں ہی سب لوگ نماز پڑھنے میں مشغول ہو گئے تو وہ اژدھا تالاب سے نکل کر مسجد کی طرف رینگنے لگا اور وہاں پہنچتے ہی صف در صف نمازیوں کو اپنا نوالہ بنا تا گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے وہاں تہلکہ مچ گیااور پوری مسجد مرثیہ گاہ میں تبدیل ہو گئی۔
عامر نماز سے فارغ ہو کر جب گھر آیا تو اُس نے نیوز دیکھنے کے لئے رموٹ سے ٹی وی کو آن کیااور  دل دہلانے والی خبر اُس نے  ٹی وی پر دیکھی کہ اس کا دوست آفاق اور اس کے والد ایک حادثے کا شکار ہو گئے ہیںتو وہ اپنے حواس ہی کھو بیٹھااور اس کے ہاتھ سے رموٹ گر گیا اور دھیمی آواز سے آفاق کا نام لیتے ہوئے غش کھا کر فرش پر گر پڑا۔
رابطہ؛سنٹرل یونیورسٹی کشمیر، 
صفاپورہ مانسبل گاندربل ،موبائل نمبر؛9149824839