یہ’ کرائم برانچ کشمیر ٹیم ‘ ہے

 جموں//ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے کٹھوعہ معاملہ کے ملزمان کے حق میں نکالی جانے والی ریلیوں کو نیشنل میڈیا کی طرف سے پھیلائی جانے والی غلط اطلاعات کی مہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیلی ویژن چینلوں نے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا اور اس سلسلہ میں جو ویڈیو ان چینلوں نے چلائے ان کے ساتھ چھیڑ خانی کی گئی تھی۔ وکلاء نے صفائی دی کہ نیشنل میڈیا نے حالات کی یکطرفہ اور غلط عکاسی کی۔ ریاست کے دورہ پر آئی ہوئی بار کونسل آف انڈیا کی ٹیم نے جمعہ کے روز جموں ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے ساتھ ملاقات کی اور اس بارے میں تفاصیل طلب کیں کہ وہ کٹھوعہ معاملہ کے ملزمین کے حق میں کیوں کر ریلیاں منعقد کرتے رہے ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ روز بار کونسل ٹیم نے کٹھوعہ ضلع عدالت کے علاوہ رسانہ کا دورہ کر کے ملزمان کے حق میں کئے جا رہے احتجاج میں شامل افراد کے ساتھ بھی ملاقات کر کے ان سے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ وہ کس بنا پر معاملہ کی تحقیقات سی بی آئی سے کروانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بی سی آئی ٹیم، جس کی قیادت سابق کونسل چیئر مین ترون اگروال کر رہے ہیں جب کہ کؤ چیئر مین ایس پربھاکرن اور راماچندرا جی شاہ، ممبران رضیہ بیگ بار کونسل آف اترا کھنڈ و ایڈوکیٹ نریکش دیکشت شامل ہیں، نے جموں کے وکلاء کو وکیل صفائی دیپکا سنگھ راجوت اور ایڈوکیٹ طالب چودھری کو ہراساں کئے جانے کی بھی وجوہات طلب کیں۔ بار ایسو سی ایشن صدر بی ایس سلاتھیا نے میٹنگ کے بعد ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ وکلاء نے قومی میڈیا کی طرف سے اس سلسلہ میں کی گئی غلط رپورٹنگ کے بارے میں بار کونسل کی ٹیم کو بتایا ۔ انہوں نے بتایا کہ 5رکنی ٹیم نے بار ایسو سی ایشن جموں کی جنرل ہائوس میٹنگ میں شرکت کی جس میں قریب 1000وکیل موجود تھے اور انہوں نے کونسل کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کے جوابات دئیے ۔ سلاتھیا کے مطابق کونسل ٹیم کی طرف سے وکیل صفائی دیپکا سنگھ راجوت کو عدالت میں پیش ہونے سے روکے جانے کے بارے میں پوچھے جانے پر وکلاء نے بتایا کہ خاتون وکیل کو کبھی بھی روکا نہیں گیا اور اس کے دستاویزی ثبوت پیش کئے کہ وہ دو بار عدالت میں سماعت کیلئے بلا روک ٹوک حاضر ہوئیں۔ بار کونسل کو رجسٹر دکھایا گیا جس میں وکیل صفائی نے دو بار دستخط کئے ہیں۔ سلاتھیا نے بتایا کہ انہوں نے ٹیم پر واضح کیا کہ جہاں دیپکا کٹھوعہ عدالت میں متاثرہ فریق کی پیروی نہیں کر رہی ہیں وہیں طالب حسین ابھی تک ایڈوکیٹ نہیں بنے ہیں کیوں کہ انہوں نے مطلوبہ ڈگری حاصل نہیں کر رکھی ہے ۔ اس مشہور ویڈیو ، جس میں بی ایس سلاتھیا اسالٹ رائفلیں و بم استعمال کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، کے بارے میں ٹیم کو بتایا گیا کہ اس ویڈیو کے ساتھ چھیڑ خانی کی گئی ہے جب کہ انہوں نے صرف یہی کہا تھا کہ اگر جموں کے نوجوانوں کے ساتھ انصاف نہ ہوا تو ان کا بھی کشمیری نوجوانوں کی طرح استحصال کیا جا سکتا ہے ۔ سلاتھیا نے مزید کہا کہ ’’ہمارے وکلاء نے ٹیم کو بتایا کہ وہ اس لئے احتجاج کر رہے ہیں کیوں کہ انہیں ’کرائم برانچ کشمیر ٹیم ‘ پر کوئی بھروسہ نہیں ہے اس لئے وہ کٹھوعہ معاملہ کی سی بی آئی تحقیقات کی مانگ کر رہے ہیں‘‘۔