رحیم رہبر
’’اس طرح ایک ایک کرکے میرے آسمان پر سب تارے غائب ہوگئے چاند نے اپنا چہرہ سیاہ پروے سے ڈھانپ لیا! ہر سُو خموشیاں پھیل گئیں۔۔۔۔ ایک انوکھا کوت دیکھ کر آنسو پلکوں میں ہی تھم گئے۔ تنہایوں نے مجھے گھیر لیا۔ میری نگاہیں صحرا کی نذر ہوگئیں۔ میں کل تک ایک ہنستا کِھلتا گلستان تھا کہ دفعتاً صحرا بن گیا۔ اس کرب میں راستہ ہی بھول گیا، اس گداگر کی طرح جو خالی کشکول ہاتھ میں لئے انجان راہوں پہ بکھر جاتا ہے اور ٹوٹ کر پھر خراماں خراماں راہ چلتے اپنی ہی لاش کی چوکیداری کرتا ہے۔‘‘
اس کی آنکھیں اشکبار تھیں اُس نے اپنے میلے اُونی کوٹ کے اندر جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک سوکھی روٹی نکالی۔ کچھ لمحوں میں وہ اس سُوکھی روٹی کو کھا گیا، شائد وہ کئی دنوں کا بھوکا تھا۔
’’آپ کا نام کیا ہے؟‘‘ میں نے اس بزرگ سے پوچھا۔
’’یہاں میرا کوئی نام نہیں ہے۔‘‘ وہ دھیمی آواز میں بولا۔
’’میں۔۔۔۔میں سمجھا نہیں‘‘۔
’’تجھے میرے نام سے کیا لینا دینا ہے؟‘‘ اس نے غصے میں کیا۔
’’اس میں غصے کی کیا بات ہے جی! آپ کا کوئی نام تو ضرور ہوگا۔‘‘
میں نے انکساری سے پوچھا۔
اُس نے کھردری داڑھی پہ اپنا دایاں ہاتھ پھیر دیا اور بولا۔
’’وہاں مجھے سب شاہ جی کہتے تھے۔ میرا صلی نام کبیر ہے۔‘‘
شاہ جی نام سنتے ہی مجھے وہ کربناک منظر آنکھوں کے سامنے آگیا جب دو گائوں پانی کے مسئلے پہ ایک دوسرے سے اُلجھ گئے۔ کئی درجن لوگ زخمی ہوئے۔ آخر کار شاہ جی نے ہی اس دیرینہ مسئلے کا حل کیا۔ شاہ جی یقیناً ایک دانا انسان تھے۔ وہ لوگوں میں لقمان نام سے مقبول تھے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے پاس آئوٹ تھے۔
اب میری سوچ کے کنواس پہ اور بھی بہت سارے سوالات اُبھر کر آرہے تھے۔
’’کہاں کھوگئے آپ؟‘‘ شاہ جی نے پوچھا۔
’’جی! کہیں نہیں۔۔۔ میں یہاں ہی ہوں۔ آپ کے روبرو۔‘‘
’’تب وہ تینوں بیٹے ہمارے ساتھ تھے۔ ہمارا گھر ایک مسکراتا دبستان تھا۔ میری شیک حیات پوشہ شادماں رہا کرتھی۔ اپنے پرائے اس کو محبت سے ’’پوشہ دید‘‘ کہتے تھے۔ تینوں بیٹوں کی شادیاں ہم میاں بیوی نے دھوم دھام سے انجام دی۔۔۔ پھر۔۔۔۔!‘‘
شاہ جی خاموش ہوگئے۔
’’پھر ۔۔۔پھر کیا ہوا جی؟‘‘ میں نے شاہ جی سے پوچھا
’’پھر دھیرے دھیرے میرے آسمان پہ کے سب تارے غائب ہوگئے۔ تینوں بیٹے ایک کے بعد ایک ہمیں چھوڑ کر چلے گئے! اس سانحہ کے چند دنوں بعد پوشہ دید نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا۔‘‘
’’کیا پوشہ دید بھی آپ کو چھوڑ کر چلی تھی؟‘‘
’’ہاں۔۔۔ہاں۔۔۔۔ اُس سے بیٹوں کی جدائی برداشت نہیں ہوئی۔ وہ حویلی کے تمام کمروں میں فراق کے نغمے گنگناتے ہوئے فرش کو چومتی تھی، پھر کمروں کی دیواروں سے لپٹ جاتی تھی۔ ایک عرصہ تک وہ اسی عمل کے ساتھ سرگرداں رہی۔۔۔ آخر کار اُس نے چیخنا چلانا بند کیا۔اپ وہ خاموش تنہا بیٹھی تھی اور حویلی کے در و دیواروں کو تکتی رہتی تھی۔ اسی حالت میں ایک دن اس کی موت واقع ہوئی۔‘‘
’’جی! اب یہاں آکر آپ کیا محسوس کرتے ہو؟‘‘
’’میں یہاں پہ خاموش ہوں۔ یہاں کی Uniformityیکسانیت مجھے اچھی لگتی ہے۔‘‘
اُس نے نم دیدہ آنکھوں سے کہا۔
’’سر! مجھے معاف کیجئے۔ْ میں نے دیر سے آپ کو پہنچانا۔ آپ میرے محبوب اُستاد کبیر سر ہیں۔ آپ ہمیں نفسیاتPhsycologyپڑھاتے تھے۔ مجھے آپ کی وہ نصیحت آج بھی یاد ہے۔ جو آپ نے اپنی الوداعی تقریر میں کہی کہا تھا۔ ’’اتنے دانا ہوجائو کہ لوگوں کو معاف کرو لیکن اتنے بے وقوف نہ بنو کہ اُن پہ دوبارہ بھروسہ کرو۔‘‘
“Be good enough to forgive people, but do not be stupid enough to trust them again.”
سر!آپ سے رخصت ہونے سے قبل میرے لائق آپ کا کیا حکم ہے؟‘‘
بزرگ شاہ جی کبیر سر نے مجھے حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا اور بولا۔
’’یا مجھے اپنا عزت نفس لوٹائو یا اس اولڈ ایج ہوم سے آزاد کرو۔‘‘
“Either return my egohood or free me from thsi oldage home.”
���
آزاد کالونی پیٹھ کانہامہ ماگام، کشمیر
موبائل نمبر؛9906534724