یوکرین تنازعہ

 کیف//فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے ماسکو اور کیف کے درمیان ہنگامی طور پر مصالحت کار کا کردار ادا کرتے ہوئے روس کے ساتھ یوکرین کے معاملے پر تناؤ کم ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔ مغرب ان خدشات کو کم کرنے کے لیے کوششوں میں مصروف ہے کہ ماسکو اپنے سابق سوویت ہمسایہ ملک پر حملہ کرسکتا ہے، اسی تناظر میں ایمانوئیل میکرون نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ کریملن میں پانچ گھنٹے طویل اجلاس کے ایک دن بعد یوکرین کے صدر ولڈیمیر زیلینسکی سے کیف میں مذاکرات کیے۔فرانس کے رہنما نے کہا کہ وہ مشرقی یوکرین میں بڑھتے ہوئے تنازع پر ماسکو اور کیف کے درمیان مذاکرات کے امکانات کو دیکھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مغرب اور روس کے مابین کشیدگی کم کرنے میں ٹھوس اور عملی حل کی طرف پیشرفت ہوسکتی ہے۔انہوں نے ولڈیمیر زیلینسکی کے ساتھ اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ 'ہم تناؤ کی جس کیفیت سے گزر رہے ہیں اس کو کم نہیں سمجھا جاسکتا۔'انہوں نے کہا کہ ہم اس بحران کو چند گھنٹوں کی بات چیت سے حل نہیں کر سکتے، اس مسئلے میں پیشرفت کو دیکھنے کے لیے کئی دن، ہفتے اور مہینے لگ سکتے ہیں۔فرانسیسی صدر نے کہا کہ ولادیمیر پوٹن نے کہا کہ اس صورتحال میں روس تناؤ کو بڑھانے کا ذریعہ نہیں بنے گا حالانکہ یوکرین کی سرحد پر ایک لاکھ فوجی اور فوجی سامان موجود ہے۔وہ یقین دہانیوں کے بعد برلن پہنچے جہاں پر وہ پولینڈ کے صدر اندریز ڈوڈا اور جرمن چانسلر اولاف شولز کو بریفنگ دیں گے جو حال ہی میں واشنگنٹن سے واپس پہنچے ہیں۔یورپ رہنما نام نہاد ویمر فارمیٹ اجلاس میں شرکت کریں گے جہاں پر وہ مشترکہ لائحہ عمل پیش کریں گے۔ولڈیمیر زیلینسکی نے کہا کہ وہ برلن میں اعلیٰ عہدیداران کے ساتھ علیحدہ بات چیت کے حوالے سے پْرامید ہیں جس سے یوکرین، روس، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں کے ساتھ اجلاس کی راہ ہموار ہوسکتی ہے جس کا مقصد ماسکو کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے ساتھ کیف کے رکے ہوئے امن منصوبے کو بحال کرنا ہے۔روسی صدر نے ایمانوئیل میکرون کے ساتھ بات چیت کے بعد نیٹو اور امریکا سے سیکیورٹی گارنٹی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ماسکو ایسے سمجھوتے کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔