یوکرائن تنازع کے سفارتی حل کی کوششیں | فرانسیسی صدر روسی ہم منصب سے ملاقات کے بعد یوکرائن روانہ

کیف// روس یوکرائن تنازع کے سفارتی حل کے لیے کوشاں فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون ماسکو میں صدر ویلادیمیر پوٹن سے اہم ملاقات کے بعد کیف کے لیے روانہ ہو گئے جہاں وہ اپنے یوکرائنی ہم منصب سے بھی بات چیت کریں گے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون روس اور یوکرائن کے تنازع کے سفارتی اور سیاسی حل کے لیے دونوں ملک کے دورے پر ہیں اور جنگ کے امکانات کے خاتمے کے لیے پْر امید بھی ہیں۔فرانسیسی صدر گزشتہ روز ماسکو پہنچے تھے جہاں انھوں نے اپنے روسی ہم منصب سے تنازع کے حل کے لیے 5 گھنٹوں پر محیط ملاقات کی۔ جس میں یوکرائن سے تصفیے کے لیے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں فرانسیسی صدر نے کہا کہ روسی صدر کو ٹھوس سیکیورٹی ضمانت سے متعلق تجاویز دی ہیں جسے صدر پوٹن نے تناو? کے خاتمے کے لیے مددگار قرار دیا ہے۔فرانسیسی صدر نے مزید کہا کہ روس یوکرائن تنازع کے حل میں آنے والے چند دن فیصلہ کن ثابت ہوں گے جس کے دوران فریقین سے بات چیت اور مل جل کر آگے بڑھنے کی اشد ضرورت ہو گی۔روسی صدر سے ملاقات کے بعد فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون یوکرائن پہنچ گئے جہاں وہ اپنے ہم منصب سے ملیں گے اور صدر ویلادیمیر پوٹن سے ہونے والی بات چیت سے ا?گاہ کریں گے۔دوسری جانب جرمنی کے چانسلر یوکرائن کے صدر سے ملاقات کے بعد چند اہم تجاویز کے ساتھ واشنگٹن پہنچ گئے ہیں جہاں وہ امریکی صدر سے ملاقات کریں گے۔
 
 
 

برطانیہ کا مزیدفوج پولینڈ کی سرحد پر بھیجنے کا اعلان

لندن//یواین آئی// برطانوی وزیر دفاع بین ویلس نے کہا ہے کہ برطانیہ مزید 350 فوجی اہلکار پولینڈ کی سرحد پر بھیجے گا۔ برطانوی وزیر دفاع نے یہ بات مشرقی یوروپ میں جاری روس یوکرین تنازع کے تناظر میں کہی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نئی فوجی نفری پہلے سے موجود 100 برطانوی فوجیوں کے دستے کو مضبوط کرے گی۔ برطانوی وزیر دفاع بین ویلس نے کہا کہ فوجیوں کی تعیناتی کا مقصد مضبوط اشارہ دینا ہے کہ برطانیہ اور پولینڈ ساتھ کھڑے ہیں۔ادھرامریکی محکمہ دفاع کے ہیڈکوارٹر پینٹاگن نے کہا ہے کہ ناٹو کے مشرقی حصے کو روس سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ایک پریس بریفنگ میں پیر کے روز پینٹاگن کے پریس سکریٹری جان کربی نے کہاکہ ‘‘ناٹو کے مشرقی حصے کو براہِ راست روس سے کوئی خاص خطرہ نہیں ہے ۔ تاہم، ہم جو کچھ دیکھ سکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جنوبی علاقے اور کریمیا کے ساتھ بیلاروس سمیت یوکرین کی سرحدوں پر بڑی تعداد میں فوجی دستوں کو متحرک کیا ہے ۔"یوکرین اور بیلاروس کی سرحدوں پر روسی فوجیوں کے جمع ہونے پر بات کرتے ہوئے مسٹر کربی نے کہا کہ روس نے تعینات فوجیوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا ہے ۔مسٹر کربی نے کہاکہ " صلاحیت تعداد سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے ۔ یعنی سرحد پر نظر آنے والی صرف فوج یا ان کی گاڑیاں ہی اہم نہیں ہیں بلکہ توپ خانے ، طویل فاصلے تک مار کرنے والے مارٹر، فضائی اور سطح پر مارکرنے والے میزائل کے ساتھ ہی خصوصی آپریشن بھی اپنی اہمیت رکھتے ہیں"۔