یوم عاشورہ کے روزہ کی فضیلت

چاند کی سالانہ گردش ایک بار پھر اپنا دورہ تمام کر کے نئے سفر کا آغاز کر رہی ہے ،قربانی کا برکتوں میں ڈوبا ہوا مہینہ ختم ہو چکا ہے اور اب اسلامی جنتری کے حساب سے سال کا پہلا مہینہ محرم اپنی بے پناہ فضیلت اور تاریخ انسان کے اہم واقعات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہم پر سایہ فگن ہیں اور ہم غیرت مند اور شیردل مجاہدین کی قربانیوں اور شہادتوں کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ جنہوں نے اسلام اور نظام اسلام کی بقاء و تحفظ کی خاطر باطل قوتوں کے سامنے اپنے عزم و استقلال کی ایسی سد سکندری کھڑی کردی تھی جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی، جہاں تک ماضی کی فضیلت کا تعلق ہے تو اس کے ثبوت میں ایسے بے شمار احادیث موجود ہیں کہ انسان اگر ان کو عملی زندگی میں اُتارے تو ان کی زندگی میں عجیب و غریب انقلاب آ سکتا ہے چنانچہ حدیث میں ہی آتا ہے:
''عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افضل الصیام بعد رمضان شہرا اللہ المحرم'' (الحدیث) 
)  ترجمہ:( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے بعد صیام رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ محرم کا ہے مسلم شریف کی حدیث ہے کہ صوم عاشورہ سے پچھلے ایک سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور یہی صوم عاشورہ ہے جو رمضان المبارک کے روزہ فرض ہونے کی وجہ سے عاشورہ کا روزہ نفل بن گیا، جس کا جی چاہے رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔ رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کے بعد عاشورہ کا فرض روزہ نفل بن گیا تھا، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم عاشورہ کا نہ حکم دیا اور نہ اس کی ترغیب دی۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ دس محرم کو روزہ رکھتے ہیں تو پ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ آپ اس دن روزہ کیوں رکھتے ہیں؟تو یہودیوں نے جواب دیا کہ یہ بہت عظیم دن ہے، اسی دن اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کو فرعون سے نجات دی اور فرعون کو مع لاؤ لشکر کے غرق کردیا، بس حضرت موسی علیہ السلام نے شکریہ کا روزہ رکھا، لہٰذا ہم بھی ان کی اتباع میں اس تاریخ کو روزہ رکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''فنحن احق اولیٰ بموسیٰ فمنکم''  (بخاری شریف)  
 چنانچہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہود کے علاوہ نصاریٰ بھی عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے اور یہ دونوں صرف دس محرم کو ہی روزہ رکھتے تھے، لہٰذا آپؐ نے ان کی مخالفت کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو نو اور دس کو روزہ رکھوں گا یا دس گیارہ کو روزہ رکھوں گا_۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ:
’’عن ابن عباس قال: ما رایت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یتحری صیام یوم فضلہ علی غیر ہذا الیوم یوم عاشوراء  وہذا شہر رمضان‘‘
( ترجمہ: )حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ کسی دن روزے کو اس کے علاوہ پر فضیلت دیتے ہیں سوائے عاشورہ کے روزے اور ماہ رمضان کے روزے کے۔ عاشورہ کے دن اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے بھی بے شمار فضائل احادیث میں ذکر کئے گئے ہیں چنانچہ حدیث میں یہ ٹکڑا موجود ہے۔
 ''من وسع علی عیالہ واہلہ یوم عاشوراء وسع اللہ علیہ سائر سنتہ''
    یعنی جو شخص عاشورے کے دن کشادہ دلی سے خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ پورے سال اس کے لئے فراخی کا دروازے کھول دے گا_۔یوم عاشورہ کے تعلق سے یہ کام فضائل اپنی جگہ مسلم ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر ہر شخص کو اپنی عملی زندگی میں تبدیلی لانی چاہئے۔
موبائل نمبر:8755158160