ایجنسیز
برسلز// یورپی یونین نے جمعہ کے روز یوکرین جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کے لیے عارضی تحفظ کی مدت میں مزید ایک سال کی توسیع کی تجویز پیش کی ہے، تاہم مستقبل میں ایسے نئے آنے والے یوکرینی شہری، جو ملکی قانون کے تحت فوجی خدمت کے پابند ہوں، اس تحفظ کے اہل نہیں ہوں گے۔روس کے خلاف چار سال سے زائد عرصے سے جاری مکمل جنگ کے دوران یوکرین کو اپنی فوج کی نفری بڑھانے کی شدید ضرورت ہے۔ اندازوں کے مطابق اب تک تقریباً چھ لاکھ فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ یوکرینی صدرولودیمیر زیلنسکی نے فروری میں کہا تھا کہ 55 ہزار فوجی ہلاک جبکہ متعدد لاپتہ ہیں۔2022 سے اب تک 44 لاکھ سے زائد یوکرینی شہری یورپی یونین کے مختلف ممالک میں پناہ لے چکے ہیں، جن میں زیادہ ترجرمنی اور پولینڈ میں مقیم ہیں۔ انہیں عارضی رہائشی اجازت نامے، رہائش، سماجی بہبود، طبی سہولیات اور بچوں کی تعلیم سمیت مختلف سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔یہ عارضی تحفظ مارچ 2027 میں ختم ہونا تھا، تاہم یورپی کمیشن نے اس میں مارچ 2028 تک ایک سال کی توسیع کی تجویز دی ہے۔یوکرین کی درخواست پر یورپی کمیشن نے یہ بھی تجویز پیش کی ہے کہ ایسے نئے یوکرینی شہری، جنہیں ملکی قانون کے تحت فوجی ذمہ داریوں کی وجہ سے یوکرین چھوڑنے کی اجازت نہیں، انہیں آئندہ عارضی تحفظ نہ دیا جائے۔یورپی یونین کے کمشنر برائے مہاجرت میگنس برونر نے کہا،’’عارضی تحفظ ایسے نئے آنے والے افراد کو نہیں دیا جانا چاہیے جنہیں یوکرینی قانون کے تحت فوجی ذمہ داریوں کی وجہ سے ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں۔‘‘یہ نئی پالیسی پہلے سے یورپ میں مقیم یوکرینی شہریوں پر لاگو نہیں ہوگی، بلکہ مستقبل میں آنے والے تقریباً 23 سے 60 سال کی عمر کے افراد کو متاثر کر سکتی ہے۔ یورپی کمیشن کو امید ہے کہ رکن ممالک کی منظوری کے بعد یہ فیصلہ آئندہ چند ہفتوں میں نافذ ہو جائے گا۔برونر نے بتایا کہ کمیشن ایک نیا منصوبہ بھی شروع کرنا چاہتا ہے جس کے تحت جنگ کی شدت کم ہونے پر اپنے وطن واپس جانے کے خواہشمند یوکرینی شہریوں کو معاونت فراہم کی جائے گی۔دوسری جانب کونسل آف یورپ کے انسانی حقوق کے کمشنر مائیکل او فلاہیرٹی نے خبردار کیا کہ یوکرینی مہاجرین، بشمول فوجی خدمت کے اہل افراد، کے تحفظ اور امداد میں کمی انسانی حقوق کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا،’’یوکرین میں زمینی حالات ابھی محفوظ اور باوقار واپسی کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ اگر مناسب حفاظتی نظام کے بغیر لوگوں سے تحفظ واپس لیا گیا تو لاکھوں افراد قانونی غیر یقینی، غربت اور غیر محفوظ، غیر رضاکارانہ واپسی کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔‘‘کونسل آف یورپ، جو یورپی یونین سے الگ ادارہ ہے، نے کہا کہ مخصوص طبقات کے لیے امداد پر عمومی پابندیاں انسانی حقوق سے متعلق خدشات پیدا کرتی ہیں۔ ادارے کے مطابق بعض افراد فوجی خدمت سے متعلق خدشات کی بنیاد پر بھی تحفظ کے طلبگار ہو سکتے ہیں، اس لیے ہر درخواست کا انفرادی بنیاد پر جائزہ لیا جانا چاہیے۔یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد یوکرینی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، لیکن اس انداز میں کہ یوکرین اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھتے ہوئے روس کی “غیر قانونی جارحیت” کا مؤثر مقابلہ بھی کر سکے۔