یاس طوفان ساحل سمندر سے ٹکرایا

ہزاروں مکان تباہ، کئی ریاستوں میں الرٹ جاری

کلکتہ//یواین آئی//خلیج بنگا ل میں برپا ‘‘یاس طوفان’’ اڑیسہ کے بالاسورسے ساحل سے صبح 9.15بجے ٹکرانا شروع کردیا ہے ۔وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کہا کہ بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے ۔ممتابنرجی نے کہا کہ بنگال میں سیلاب کی صورتحال ہے ۔ ممتا بینرجی نے صحافیوں کو بتایا کہ طوفان سے مٹی سے بنے تقریباً 20 ہزار گھر اور عاضی پناہ گاہوں کو نقصان پہنچا۔خلیج بنگال کے جزیرہ ساگر کے نشیبی علاقوں اور سیاحتی قصبے ڈِگھا میں سمندر کا پانی داخل ہوگیا، جہاں پولیس اسٹیشن کو شدید نقصان پہنچا۔پولیس کا کہنا تھا کہ اس نے منگل کو اس نے اڑیسہ کے ضلع جگت سنگھ پور کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے کے بعد 10 افراد کو ریسکیو کیا۔اڑیسہ حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے تین اضلاع میں کورونا ٹیسٹنگ، ویکسی نیشن اور گھر گھر جاکر ہیلتھ سروے معطل کردی تھی۔وزیر اعلی نے کہا کہ مشرقی مدنی پور میں 51 ڈیموں کو نقصان پہنچا ہے ۔ مشرقی مدنی پور سے اب تک 3.6لاکھ افراد کو نکالا جا چکا ہے ۔ 
ضرورت پڑنے پر فوجی دستے تعینات کیے جائیں گے ۔ممتا بنرجی کی رپورٹ کے مطابق ، ساحلی علاقے میں 60 کلومیٹر پشتے تباہ ہوگئے ہیں۔ بہت سے ڈیم ٹوٹ چکے ہیں۔ یہاں تک کہ نندی گرام بھی سیلاب کی زد میں آگیا ہے ۔سمندری طوفان ‘یاس’ نے اوڈیشہ کے بالیشور میں تباہی مچانے کے بعد مغربی بنگال کے کئی ساحلی اضلاع میں قہر برپا کیا ہے اور تیز ہواؤں اور آندھی کے ساتھ تیز بارش سے یہاں کافی نقصان ہوا ہے ۔سمندری طوفان یاس کا بدھ کی صبح اوڈیشہ میں بالیشور کے جنوب اور دھرم کے شمال میں لینڈ فال کا عمل شروع ہوگیا۔خصوصی ریلیف کمشنر پی کے جینا نے بتایا کہ 10 ساحلی اضلاع سے تقریبا 5.80 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات اور طوفان سے محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے ۔ ریاستی حکومت پہلے ہی نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کی 52 ٹیموں ، اوڈیشہ ڈیزاسٹر رسپانس فورس کی 60 ٹیموں اور فائر خدمات کی 206 ٹیموں کے ساتھ ہی چار ہزار دیگر امدادی عملے کو اس طوفان سے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور راحت کاموں پر تعینات کرچکی ہے ۔