یادوں کے جھروکے سے 4

ہاں میری کچھ یادیں تندوتلخ بھی ہیں۔ سب لوگ پران کشور صاحب اور سومناتھ سادھو صاحب جیسے نہ تھے۔یادیں بہت ہیں، کچھ میرے ساتھ ہی قبر میں جائیں گی کیونکہ انہیں ظاہر کردیا تو نہ جانے کیا ہو گا! 
خیرعمر کے نقارے پر وقت کی ضربیں پڑتی رہیں اور ہم بڑے ہوگئے۔ ایسا ہوا جیسے کسی شاعر نے کہا ہے   ؎
ہم بڑے ہوگئے
مسکراہٹ، تبسم، ہنسی، قہقہے
سب کے سب کھو گئے
ہم بڑے ہوگئے
ذمہ داری مسلسل نبھاتے رہیں
بوجھ اوروں کا خود ہی اُٹھاتے رہیں
اپنا دُکھ سوچ کر روئیں تنہائی میں
محفلوں میں مگر مسکراتے رہیں
کتنے لوگوں سے اب مختلف ہوگئے
ہم بڑے ہوگئے
اور کتنی مسافت ہے باقی ابھی
زندگی کی حرارت ہے باقی ابھی
وہ جو ہم سے بڑے ہیں سلامت رہیں
ان سبھی کی ضرورت ہے باقی ابھی
جو تھپک کرسلاتے تھے، خود سو گئے
ہم بڑے ہوگئے
ختم ہونے کو اب زندگانی ہوئی
جانے کب آئی اورکب جوانی ہوئی
دیکھتے دیکھتے کیا سے کیا ہوگئے
جو حقیقت تھی اب وہ کہانی ہوئی
منزلیں مل گئیں
ہم سفر کھو گئے
ہم بڑے ہو گئے
ہم بڑے ہو گئے
یہ غالباً 1987ء کا سال چل رہا تھا۔ کرن نگر سری نگر میں ایک بڑے معروف کمیونسٹ لیڈر جناب علی محمد صاحب کی رہائش گاہ واقع تھی۔ وہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ مرحوم غلام محمد صادق کے پرسنل سیکریٹری بھی رہ چکے تھے اور ایجوکیشن سیکرٹری کے طور بھی کام کیا تھا۔ یہاں کے ترقی پسند ادیبوں سے اُن کے گہرے مراسم تھے۔ وہ کشمیر کے معروف افسانہ نگار مرحوم اخترؔ محی الدین کے بھی دوست تھے۔ ہم تقریباً ہر سنیچروار کو اُن کے مکان پر جاتے اور وہاں ادبی محفل منعقد ہوا کرتی تھی۔ چائے وغیرہ کا انتظام بھی ہوتا تھا۔ اخترؔ صاحب وہاں اپنی کشمیری ناول ’’جہنمک پَنُن پَنُن نار‘‘ کا مسودہ لے کرآتے تھے اور ہمیں اس ناول کی لمبی قسطیں سنایا کرتے تھے۔ ہم اخترؔ صاحب سے اُن کے ناول کو قسطوں میں سنتے رہے ، ایک دن میں نے اُن سے پوچھا کہ حضرت مجھے آپ کی یہ کہانی سن کر ایسا لگتا ہے گویا یہ ایک سچی کہانی ہے، صرف نام بدل دئے گئے ہیں؟ اخترؔ صاحب نے کہا کہ ہاں کچھ سچے واقعات ہی اس ناول کو لکھنے کے محرکات بنے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہاں ایک دورِ حکومت میں ایسا بھی ہوتا تھا کہ کوئی حسین لڑکی راستے سے گزر رہی ہے کہ کسی اوباش قسم کے نوجوان نے اُسے ستانا اور پریشان کرنا شروع کردیا، بے بس لڑکی تنگ آکر مدد کے لئے اِدھر اُدھر نظر دوڑاتی تو اُسے قریب ہی وردی میں ملبوس کوئی پولیس اہل کار نظر آتا اور وہ اُسے مدد کے لئے یہ کہہ کر پکارتی جناب یہ لڑکا مجھے پریشان کررہا ہے! پولیس والا آتا اور اوباش قسم کے نوجوان کو دو چار تھپڑ ماردیتا اور پھر کالر سے پکڑ کر اپنے ساتھ لیتے ہوئے لڑکی سے کہتا، بہنا! آپ میرے ساتھ صرف دو منٹ پاس والے تھانے تک آؤاور وہاں یہی بات تھانیدار صاحب سے کہہ دینا کہ یہ بدمعاش آپ کو کیسے پریشان کررہا تھا، پھر دیکھنا اس کو ہم نانی کا دودھ یاد دلادیں گے تاکہ آئندہ کسی اور بہن کو پریشان نہ کرے! لڑکی کو تھانے تک آنے کے لئے آمادہ کیا جاتا اور تھانے میں آکر اُس کی بے توقیری کی حدیں پار کی جاتیں اور پھر بلیک میل کرکے اُس سے سراغ رسانی کا کام کروایا جاتا۔اس طرح کچھ لوگوں کو مبینہ طور پار بھی سراغ رسانی کے لئے بھیج دیا گیا، وہ نوجوان جو اوباش لڑکے کا رول کیاکرتا تھا، دراصل پولیس کا ہی آدمی ہوتا تھا۔
 میں اختر صاحب سے ان کے ناول کی لمبی قسطیں سن کر اکثر اُکتایا کرتا تھا۔ برداشت کا مادہ میرے اندر بہت کم ہے۔ اس اعتبار میں میں نے اخترؔ صاحب میں برداشت کا مادہ بہت پایا ہے حالانکہ دیگر معاملات میں اُن کا صبر بہت زیادہ نہ تھا اور وہ بہت جلد اپنا ردِعمل ظاہر کرتے تھے ، غصہ بھی انہیں جلد آتا تھا۔ دوسروں کی تخلیقات سننے میں اُن میں برداشت کا بہت مادہ موجود ہونے پر ایک اور واقعہ یاد آیا۔ میں اپنی کشمیری کہانیوں کے پہلے مجموعے ’’پُھن تہ دَگ‘ ‘کو چھاپنا چاہتا تھا اور خواہش یہ تھی کہ اخترؔ صاحب اس کا پیش لفظ لکھیں۔ چنانچہ میں نے یہ بات اقبال فہیمؔ سے کہی، انہوں نے فوراً کہا چلو اخترؔ صاحب کے گھر چلتے ہیں۔ فہیمؔ میں ایک بُری بات یہ ہے کہ وہ وعدہ نبھانے میں تھوڑے سے بے احتیاط ہیں مگر جو چیز انہیں دوسرے ادیبوں سے ممتاز کرتی تھی وہ اُن کا دوسروں کی مدد کے لئے ہمیشہ تیار رہنا تھا (اب پتہ نہیں وہ عادت باقی ہے کہ نہیں)۔ دوسری بات جو میں نے فہیمؔ میں پائی ،یہ ہےکہ گھر سے باہر ہو تو قناعت پسند ہیں مگر کوئی اُن کے گھر جائے تو مہمان کی بڑی خاطر داری کرتے ہیں۔ ویسے میں نے عام ادیبوں کو کنجوس پایا ہے ،الا ماشا اللہ! فیاضی میں راقم الحروف نے مجید عاصمیؔ صاحب کو اعلیٰ درجے پر پایا ہے۔ رفیق رازؔ صاحب کو مجھ پر خرچ کرنا پڑے تو دل کھول کر کرتے ہیں مگر دوسروں پر اُن کا ہاتھ زیادہ نہیں کھلتا۔ ایک دن بشیر اطہرؔ صاحب، جو خود بڑی فیاضانہ طبیعت رکھتے ہیں، نے مجھ سے کہا کہ میں رازؔ صاحب کے دفتر گیا تھا تو وہاں رازؔ صاحب نے چائے کا کپ پلا دیا، پھر کچھ کام پڑا تو کچھ دنوں کے بعد دوبارہ رازؔ صاحب کے دفتر جانا پڑا ، رازؔ صاحب نے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ میرے دفتر کو لوگوں نے’ ’ڈی سی آفس‘ ‘بنا دیا۔ ’’ڈی سی آفس‘ ‘اس وجہ سے بھی مشہور ہوتا ہے کہ وہاں لوگوں کو اکثر آنا جانا پڑتا ہے ۔چنانچہ’’ سستانے ‘‘کے لئے لوگ اکثر وہاں کے کینٹین میں چائے پینے چلے جاتے ہیں۔ شاید میرے بغیر رازؔ صاحب کی ایسی باتیں بیان کرنے پر کوئی جرأت نہ کرسکے! جن دنوں وہ ریڈیو کشمیر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھے اور بشیر اطہرؔ صاحب وہاں نیوز سیکشن میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے اور اُن کی مرحومہ اہلیہ نیوز ڈائریکٹر تھیں، انہی دنوں میں ریڈیو گیا تھا اوروہاں رازؔ صاحب سے بھی ملنے اُن کے کمرے میں گیا ۔ اسی دوران وہاں اطہرؔ صاحب بھی آگئے تو میں نے انہیں رازؔ صاحب کی موجودگی میں ہی بیس پچیس سال پہلے کی رازؔ صاحب کی یہ’’چائے والی بات ‘‘یاد دلادی جس پر ہم دونوں ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگئے اور اسی کیفیت میں زور سے ایک دوسرے کو گلے لگالیا۔ رازؔ صاحب کی طبیعت میں بھی جلال جلدی آتا تھا اور اُن کی تیز طبیعت کے باعث بہت کم لوگ اُن کے قریب جاسکے، مگر اب وقت کے تند وتیز طوفانوں نے طبیعت میں قرار لایا ہے اور وہ تیزی جاتی رہی ہے۔
بہرحال اقبال فہیمؔ صاحب اور میں اخترؔ صاحب کے گھر واقع سِکہ باغ لال بازار سری نگرچلے گئے۔ اخترؔ صاحب گھر پہ ہی موجود تھے۔ وہ گرم جوشی سے ملے۔ ہم اِدھر اُدھر کی باتوں میں مشغول ہوگئے۔ اسی دوران چائے بھی آئی اور ہم نے چائے بھی پی لی۔ بات چیت یہاں کے ادب ، ادیبوں کی فطرت اور اُن سے جڑے کچھ تلخ اور شیرین واقعات کے گرد ہی گھومتی رہی اور اخترؔ صاحب اپنی زندگی کے حوالے سے بھی بہت باتیں بتا گئے ۔ اس واقعہ کوبہت عرصہ گذرگیا ہے، اب وہ باتیں یاد نہیں، بس کچھ دُھندلا ساتاثر حافظے میں موجود ہے۔ میں نے اخترؔ صاحب کے سامنے اپنے آنے کا مدعا بیان کیا۔ میرے ساتھ کہانیوں کا مسودہ بھی تھا۔ اخترؔ صاحب نے کہا یہ کہانیاں مجھے سنادو۔ میں نے سنانا شروع کردیا۔ آج تک میں نے ادیب کی بات چھوڑیئے، کسی عام انسان میں بھی برداشت کا ایسا مادہ نہیں دیکھا ہے جیسا اخترؔ صاحب میں پایا ۔ وہ بڑے اطمینان سے میری کہانیاں سنتے رہے اور ساتھ ساتھ مشورے بھی دیتے رہے۔ جب میں نے انہیں اپنی کشمیری کہانی ’’مجرم‘‘ سنائی تو اختر ؔصاحب نے کہا اس کا عنوان ’’گوبر چُھ مجرم!‘‘ رکھ دینا ۔ چنانچہ اسی عنوان سے یہ کہانی اب میری کتاب میں موجود ہے۔ یہ کہانی سن کر اخترؔ صاحب نے کہا تھاکہ جب میں نے پہلی بار یہ کہانی سنی تو میری خواہش ہوئی کہ کاش یہ کہانی میں نے لکھی ہوتی!
بہرحال میں کہانیاں پڑھتے پڑھتے تھک گیا مگر اخترؔ صاحب کے اطمینان وسکوت میں کوئی فرق نہ آیا۔جب میں نے ساری کہانیاں سنادیں تو اخترؔ صاحب نے کہا کہ آپ جب ان کی کتابت کرواؤ گے تو کتابت کے بعد مجھے دے دینا، میں انہیں دوبارہ پڑھوں گا، میرے دوبارہ پڑھنے سے ایک تو تمہاری کہانیوں کی پروف ریڈنگ بھی ہوگی اور اُسی وقت اس پر پیش لفظ بھی لکھوں گا۔ پھر میں نے وہ مسودہ کتابت کے لئے ایک کاتب کو دے دیا مگر چار سال تک وہ مجھے آج کل کرتا رہا ، نہ ہی کتابت کرتا تھا، نہ ہی ایڈوانس رقم واپس کرتا تھا، نہ ہی مسودہ سونپتا تھا! اُس کے پاس جاتے جاتے گویا میرے جوتے گھس گئے۔ڈانٹ ڈپٹ سے بھی اللہ کے اُس بندے پر کچھ اثر نہیں ہوتا تھا۔ وہ مہاشئےبڑی عجیب مٹی کا بنا تھا ۔ میں بہت عاجز آگیا۔ اسی دوران کشمیر میں ملی ٹنسی شروع ہوچکی تھی اور عروج پر جا پہنچی تھی۔کرفیو، کریک ڈاون، سخت قسم کی ہڑتالیں روز کا معمول تھا، اب اُس کاتب کے گھر جانا میرے لئے مشکل بن گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نثار بالا صاحب، جو ریڈیو کشمیر میں لائبریرین ہیں، کے برادر اصغر عزیزم اعجاز صاحب کو اجر عظیم عطا کرے ، انہوں نے ہی پھر اُس کاتب سے وہ مسودہ واپس لایا۔ بعد میں ،میں نے اُس مسودے کو جناب محی الدین ریشی صاحب کو لکھنے کے لئے دے دیا جنہوں نے کچھ دنوں میں ہی یہ کتاب مکمل کرکے مجھے دے دی ، مگر میں اپنی سیمابی طبیعت کے باعث اسے اخترؔ صاحب کو پیش لفظ لکھنے کے لئے نہ دے سکا اور ۱۹۹۷ء میں اسے چھاپ دیا۔ اُن دنوں میں دہلی میں مقیم تھا، وہاں رازؔ صاحب سے ملاقات ہوئی تو پہلی کاپی انہی کو دی۔محترم محی الدین ریشی صاحب کا کوئی افسانہ میں نے آج تک نہیں پڑھا ہے اور نہ اُن کی کوئی تحریر ہی پڑھنے کا موقع ملا ہے ،ا س لئے میں اُن کی ادبی حیثیت اور ادبی مقام کے حوالے سے کوئی رائے زنی نہیں کرسکتا مگر متعدد کاتبوں سے واسطہ رہنے کی بناپر یہ وثوق کےساتھ کہہ سکتا ہوں کہ انہیں میں نے ایک با اصول اور اچھا انسان پایا ہے اور کسی کتاب کی کتابت کرتے وقت یہ اسکرپٹ کے ساتھ پورا انصاف کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں، عام کاتبوں میں ایسی خصوصیات کم ہی پائیں۔
اخترؔ محی الدین صاحب نے ایک دن ایک مخصوص دور حکومت کے لوگوں کے حوالے سے مجھے بتایا تھا کہ اُس دور میں غنڈہ گردی عروج پر تھی۔ اُس دورِ حکومت کے ایک واقعے کے بارے میں اخترؔ صاحب نے مجھے بتایا کہ اُن غنڈوں نے وومنز کالج کی کچھ خواتین لیکچرار کو اپنے جال میں پھانس رکھا تھا، ایک دن اُن سے کچھ خوب صورت طالبات کے حوالے سے یہ ہدایت دی گئی تھی کہ ان لڑکیوں کو پریکٹیکل یا دوسرے بہانے سے کالج میں چھٹی ہونے کے بعد بھی روکے رکھیں، چنانچہ اُن لیکچرار صاحبان نے ایسا ہی کیا، بعد میں یہ غنڈے آئے اور کالج میں ہی اُن لڑکیوں سے دست درازی کی گئی۔ اخترؔ صاحب نے مجھے بتایاکہ اُن معصوم لڑکیوں کی چیخ وپکار سے پورا کالج گونج رہا تھا! 
اخترؔ صاحب جب مجھ سے اپنی کہانیوں کے بارے میں بات کرتے تو بتاتے کہ اُن کہانیوں کو لکھنے کے کیا محرکات بنے ۔ محسوس یہی ہوتا تھا کہ اُن کی اکثر کہانیوں کے پیچھے ایک حقیقی کہانی ہی پوشیدہ ہے جسے اخترؔ صاحب نے اپنے کمال کی ادبی مہارت سے فنی مبالغے کا ملمع چڑھاکر لکھا ہے۔ایک دن اخترؔ صاحب نے مجھ سے کہا کہ بچپن میں ایک دن میں اپنے والد صاحب کے ساتھ لال چوک سے گزر رہا تھا، کڑکتی دھوپ تھی، اچانک میرے والد بزرگوار کو کسی نے زور سے دھکا دے دیا اور وہ دور جاگرے، پھر میں نے دیکھا کہ دھکا ڈوگرہ سپاہی نے دیا تھا، اور پتہ چلادھکا اس لئے دیا تھاکیونکہ وہاں سے ایک سادھو گزر رہا تھا اور اُس کا سایہ میرے والد گرامی کے پیروں کے نیچے آگیا تھا، یہ بات ڈوگرہ سپاہی سے برداشت نہ ہوئی کہ سادھو کے سائے پر کسی مسلمان کے پیر پڑ جائیں۔
پہلے پہل یہاں ہیڈ پوسٹ آفس اور سی آئی ڈی آفس کے درمیان ایک بڑا مکان ہوا کرتا تھا جسے’ ’تہذیب محل‘ ‘کا نام دیا گیا تھا۔ اُس جگہ بھی یہاں کے ادباء جمع ہوکر ادبی محفلوں کا انعقاد کرتے تھے اور کوئی نوجوان قلم کارکسی نامور ادیب کی کہانی پڑھ لیتا تھا،پھر اُس پر بحث ومباحثہ وغیرہ ہوتا تھا۔پتہ نہیں آگے اُس مکان کا کیا بنا۔ یہ غالباً1986  ء کا سال تھا۔ دوردرشن سرینگر سے ڈرامہ پر گفتگو کا پروگرام ریکارڈ ہوا۔ گفتگو میں جناب ہردے کول بھارتی، جناب علی محمد لون صاحب اور میں نے حصہ لیا۔ پروگرام کی ریکارڈنگ جناب اشرف ساحل ؔکررہے تھے۔ وہ اُن دنوں پرڈیوسر تھے، بعد میں ڈائریکٹر دوردرشن بنے ۔ ڈرامہ نویس کی حیثیت میں اس سے پہلے بھی میرا دوردرشن سرینگر پر انٹرویو لیا گیا تھا اور انٹرویو یر اقبال فہیمؔ صاحب تھے۔ وہ ریکارڈنگ بھی اشرف ساحلؔ صاحب نے ہی کی تھی۔ غالباً 1985ء کا سال تھا، اس کے بعد میرا دُور درشن سرینگر سے ا یک اور طویل انٹرویو لیا گیاتھا جس کے بیچ بیچ میں میرے مختلف ٹی وی ڈراموں کے کلپ بھی شامل ِ پرواگرام تھے۔ یہ انٹرویو مجھ سے زاہد مختارؔ صاحب نے لیا تھا۔ بہرحال جب بھارتی جی، لون صاحب اور میرے ڈرامے کے موضوع پر گفتگو کی ریکارڈنگ ہورہی تھی، میں نے کسی بات پر لون صاحب اور بھارتی جی کے حوالے سے انہیں سینئر رائیٹر کہا، میں عمر کے اعتبار سے اُن دونوں سے چھوٹا تھا، لون صاحب عمر میں بھارتی جی سے بھی بڑے تھے۔ لون صاحب کو میری یہ سینئر والی بات کچھ زیادہ نہیں بھائی اور انہوں نے کہا کہ رائیٹرس میں سینئر جونیر نہیں ہوتا۔ لون صاحب کی اس بات پر مجھے بہت غصہ آیا اور چاہا کہ انہیں کہہ دوں کہ میں لوگوں کوصلاحیت کے اعتبار سے سینئر نہیں کہتا بلکہ بوڑھاپے اور عمر کے اعتبار سے سینئر کہتا ہوں، مگر پھر اپنے غصے کو اندر ہی اندر ضبط کرلیا۔ لون صاحب جلالی طبیعت کے مالک تھے اور انہیں غصہ بھی جلدی آتا تھا۔ وہ عادتاً دوسرے کی بات کاٹتے تھے اور اپنی بات کو ہی حتمی سمجھتے تھے۔ میں نے اپنے ایک کتابچے میں اُن کے حوالے سے لکھا تھا: ’’وووُن کَم لونُن زیادہ!‘‘۔ بس اتنی سی بات پر وہ اتنا تاؤ کھاگئے کہ انہوں نے ایک خط میرے نام لکھا اور پورے دو صفحات پر میری تنقید لکھی ،جو محض ذاتی حملے تھے۔ نوجوانی میں فٹ بال کھلاڑی رہ چکے تھے ،اس لئے صحت بہت اچھی تھی۔ افسوس کہ دوردوشن سرینگر سے  اُس گفتگو کےٹیلی کاسٹ ہونے کے محض کچھ ہی دن بعد وہ ۲۲ ؍دسمبر ۱۹۸۷ء کو ایک حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ لون صاحب واقعی ایک عظیم ڈرامہ نویس تھے اور ابھی تک کشمیر میں اُن کے رتبے اور قدوقامت کا ڈرامہ نویس پیدا ہی نہیں ہوا ہے۔ 
