سرینگر // جموں و کشمیر میں ہیموفیلیا بیماری سے جوج رہے 460سے زائد مریض بنیادی ڈھانچہ ، ماہر معالجین کی عدم موجودگی، فیکٹروں کی کمی اورکورونا مخالف ٹیکہ کاری ترجیحات میں شامل نہ کرنے کی وجہ سے سخت مشکلات سے دو چار ہیں۔ ہیموفیلیا بیماری کے عالمی دن کے موقع پر کشمیر میں ہیموفیلیا مریضوں کی انجمن ’’ہیموفیلیا ایسوسی آیشن آف کشمیر‘‘ کے صدر سیدماجد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ہیموفیلیا مریضوں کی تعداد میں ہر سال 8نئے بیماریوں کا اضافہ ہوتا ہے اور وادی میںیہ تعداد 350تک پہنچ گئی ہے جن میں 100بچے بھی شامل ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ ہماری کوشش تھی کہ ہم اس بیماری کی وجہ سے ہونے والے مختلف اعضاء کے کٹائو(amputation) کو کم کرسکیں لیکن وہ تبھی ممکن ہے، جب ہیموفیلیا بیماری کے علاج کیلئے ماہر ڈاکٹردستیاب ہوں ‘‘۔انہوں نے کہا ’’ اس کے علاوہ فیکٹروں کی کمی ہمیشہ رہتی ہے ‘‘۔ماجد کا کہنا تھا کہ پچھلے ایک ماہ سے P12فیکٹر دستیاب نہیں ہے اور میڈیکل سپلائی کارپوریشن اس معاملہ کو نظر انداز کررہی ہے‘‘۔ ماجد نے بتایا ’’ فیکٹروں کیلئے سرکاری رقومات کی دستیابی کے باوجود بھی مریضوں کو وقت پر فیکٹر نہیں ملتا جسکی وجہ سے انہیں پلازمہ تھرپی لینی پڑتی ہے جو کبھی کبھار مختلف بیماریوں کی وجہ بن جاتی ہے‘‘۔ ماجد نے بتایا ’’ ہیموفیلیا مریضوں کیلئے نہ تو ایم آئی آر، نہ سی ٹی سیکین اور نہ دیگر سہولیات دستیاب ہیں اور اسلئے عام مریضوں کی قطارمیں ہی انہیں تشخیصی ٹیسٹوں کیلئے انتظار کرنا پڑتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہیموفیلیا مریضوں کو ابھی بھی ترجیح گروپ میں شامل نہیں کیا گیا ہے اور مرکزی اور نہ ریاستی سرکار نے اس حوالے سے قوائد و ضوابط وضع کئے ہیں ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ ہیموفیلیا مریضوں کو ویکسین دینے کیلئے سرکار کو قوائد و ضوابط وضع کرنے چاہئے تھے‘‘۔انہوںنے بتایا ’’ ہیموفیلیا مریضوں کیلئے طبی سہولیات ایسی عمارت میں رکھی گئی ہیں جس کو عالمی بینک نے سال 2014میں غیر محفوظ قرار دیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس بلڈنگ میں فیکٹر کو سٹور کرنے کیلئے کولڈ سٹوریج کا انتظام نہیں ہے جسکی وجہ سے فیکٹر بھی غیر موثر ہوجاتا ہے۔ جموں صوبے کا تذکرہ کرتے ہوئے ماجد نے بتایا ’’ جموں صوبے کے 160ہیموفیلیا مریضوں کی صورتحال کافی ابتر ہے ، یہاں مریضوں کو 4ماہ بعد فیکٹر دستیاب ہوتا ہے جبکہ طبی سہولیات کا بھی کوئی خواطر خواہ انتظام نہیں ہے‘‘۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں شعبہ ہیمٹولوجی کے سربراہ ڈاکٹر بلال نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’فیکٹروں کیلئے میڈیکل سپلائی کارپوریشن کو رقومات واگذار کی گئی ہیں لیکن اس کے بائوجود بھی چند فیکٹر دستیاب نہیں ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ اس حوالے سے ہم نے میڈیکل سپلائی کارپوریشن کو کئی خطوط بھی لکھے لیکن کوئی جواب نہیں آیاہے‘‘۔ ڈاکٹر بلال نے بتایا ’’ جہاں تک ویکسین کا سوال ہے ، ہمیں ان سے اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا اور ٹیکہ کاری کیلئے انجمن کی جانب سے بھی کوئی درخواست نہیں دی گئی ہے‘‘۔