ہڑتال میں اگر سرکار کالجوں کو بند کر سکتی ہے تو سیاحوں کو کیوں نکلنے دیا گیا:انجینئر رشید

سرینگر//اے آئی پی سربراہ اور ایم ایل اے لنگیٹ انجینئر رشید نے مبینہ پتھر بازی کے دوران چنئی کے ایک سیاح کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیریوں سے زیادہ متاثرہ خاندان کے دکھ کو کوئی نہیں سمجھ سکتا کیونکہ انہوں نے خود اس جیسے سینکڑوں نوجوان وردی پوشوں کے ہاتھوں جاں بحق ہوتے دیکھے ہیں ۔ انہوں نے کہا تاہم یہ بات بے حد افسوسناک ہے کہ واقعہ کو کشمیریوں کو بدنام کرنے کیلئے ہندوستانی میڈیا اور خود یہاں کے کچھ خود غرض سیاستدان استعمال کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ــ’’اگر سرکار لوگوں کے مال و جان کے تحفظ کے نام پر یونیورسٹیوں اور کالجوں کے علاوہ پرائیمری اسکولوں تک کو بند رکھ سکتی ہے اور انٹر نیٹ سروسز کو معطل رکھ سکتی ہے تو پوچھا جا سکتا ہے کہ اس نے سیاحوں کو ہڑتال کے دوران سفر کرنے کی اجازت کیوں دے دی ۔ کم از کم سرکار کو شوپیاں قتل عام کے بعد کوئی ایڈوائزری جاری کرکے سیاحوں کو حالات کی سنگینیت کے بارے میں خبردار کرنا چاہئے تھا ۔ ایسا نہ کرکے سرکار نے انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے ۔