عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//ملک بھر میں جون کے مہینے کے دوران بڑھتی ہوئی گرمی اور تعطیلات کے باعث شہری آبادی کی بڑی تعداد نے پہاڑی سیاحتی مقامات کا رخ کیا ہے، جس کے نتیجے میں کشمیر سمیت مختلف ہل اسٹیشنوں میں سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ہاسپیٹیلٹی اور بیک پیکر ہاسٹل چین ’زوسٹل‘ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال جون میں شملہ میں بکنگز میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 76 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ سرینگر، ترتھن ویلی اور گینگ ٹوک جیسے مقامات پر سیاحوں کی آمد میں تقریباً 95 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق سرینگر اور وادی کشمیر مسلسل ملک کے پسندیدہ سیاحتی مقامات میں شامل ہیں اور ملک کے مختلف بڑے شہروں خصوصاً بنگلورو، ممبئی، پونے، دہلی این سی آر اور حیدرآباد سے بڑی تعداد میں سیاح کشمیر کا رخ کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خوشگوار موسم، قدرتی حسن اور بہتر سفری سہولیات نے کشمیر کو گرمی سے نجات حاصل کرنے کے خواہشمند سیاحوں کے لیے اولین انتخاب بنا دیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق زوسٹل کے مختلف پہاڑی مقامات پر مجموعی بکنگز میں سال بہ سال 7 سے 9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ تقریباً 48 فیصد مسافروں نے روانگی سے صرف تین دن قبل اپنی بکنگ مکمل کی۔
یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب سیاح طویل منصوبہ بندی کے بجائے فوری اور مختصر نوٹس پر سفر کو ترجیح دے رہے ہیں۔زوسٹل اور زو ورلڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اویرل گپتا نے کہا کہ اس سال جون میں پہاڑی مقامات کے لیے بکنگز میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اور تقریباً نصف مسافروں نے سفر سے 72 گھنٹے قبل ہی اپنی بکنگ کرائی۔ ان کے مطابق روایتی ’’ارلی برڈ‘‘ بکنگ کا رجحان کمزور پڑ رہا ہے اور لوگ فوری فیصلے کرتے ہوئے مختصر وقت میں سفر اختیار کر رہے ہیں۔دوسری جانب ہوٹل صنعت سے وابستہ اداروں نے بھی اپریل تا جون کے دوران سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد کی تصدیق کی ہے۔ مختلف سیاحتی مقامات پر ہوٹلوں میں قیام کی شرح عام دنوں کے مقابلے میں 15 سے 18 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سیاح اب صرف معروف مقامات تک محدود نہیں رہے بلکہ نسبتاً کم معروف پہاڑی علاقوں کی جانب بھی توجہ دے رہے ہیں۔ اگرچہ شملہ سب سے زیادہ بک ہونے والی منزل رہی، تاہم کئی نئے مقامات پر بھی سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔سیاحتی ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر کے لیے یہ رجحان خوش آئند ہے کیونکہ سری نگر اور وادی کشمیر ایک بار پھر ملکی سیاحتی نقشے پر نمایاں حیثیت اختیار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بنیادی ڈھانچے، ٹریفک نظام اور سیاحتی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے تو جموں و کشمیر آنے والے برسوں میں ملک کی سب سے بڑی سیاحتی منزل بن سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق غیر میٹرو شہروں سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور اس سال جون میں زوسٹل کے پہاڑی مقامات پر آنے والے 67 فیصد سیاح غیر میٹرو علاقوں سے تعلق رکھتے تھے، جو گزشتہ سال 65 فیصد تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ملک میں اندرونی سیاحت کے مسلسل فروغ کی عکاسی کرتا ہے۔