پونچھ//سرحدی ضلع پونچھ کے سیاسی سماجی حلقوں نے ہند وپاک کے مابین سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے پر عملدر آمد کے تازہ فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔صدر تنظیم علماءاہل سنت والجماعت پونچھ و نائب مہتمم جامعہ ضیا ءالعلوم پونچھ مولانا سعید احمد حبیب نے ہند وپاک کے فوجی سطح کے راوبط اور جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انتہاءخوش آئند اور مثبت پیش رفت قرار دیا۔انہوں نے کہا تجدیدی معاہدہ نہ صرف جموں وکشمیر کے لوگوں کے حق میں ہے بلکہ یہ پورے بر صغیر کےلئے ایک خوش خبری ہے بالخصوص سرحد کے مکینوں کیلئے یہ راحت کی خبر ہے۔انہوں نے ہند و پاک کے سربراہاں سے اپیل کی کہ وہ اس عارضی جنگ بندی کو مستقل اور پائیدار دوستی میں تبدیل کریں تاکہ پورا بر صغیر امن اور خوشحالی کی راہ پر چل سکے اور کشمیری عوام کو اس عذاب سے نجات مل سکے۔انہوں نے کہا عالمی تناظر میں ہندوستاں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا کے مسائل کے حل کیلئے اپنے کردار کو ادا کرے ۔انہوں نے پاکستان کو بھی یاد دلایا کہ وہ اپنی ستر سالہ پالیسی کا جائزہ لے کر اپنا محاسبہ کرے کہ اس کے اقدامات سے خود اسے اور بر صغیر کو اور کشمیری عوام کو کیا حاصل ہوا۔انہوں نے سرحدی عوام کی طرف سے حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ جنگ بندی سے سرحدی آبادی کو زبردست خوشی حاصل ہے۔ بار ایسوسی ایشن پونچھ کے سابق صدر اور ہیو مین رائٹ تنظیم پونچھ کے صدر ایڈوکیٹ محمد زمان نے بھی کہاکہ ہندو پاک کشیدگی کے باعث کافی خون خرابہ ہوا ہے اب اس تشدد کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ہو رہی بات چیت کوسراہتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ یہ بات کامیابی سے ہمکنار ہو گی۔کانگرس کے سینئر لیڈر محمد تاج میر نے کہا کہ سرحدوں پر جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدر آمد ہونا دونو ممالک کی عوام کےلئے نہایت ضروری ہے کیونکہ دونوں اطراف سے سرحدوں پر انسانی جانوں کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ ایڈوکیٹ ناحیدہ اختر اور سرحدی گاو¿ں مندھار کے حافظ محمد شاہ نے کہا ،ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے ڈی جی ایم اوز کی طرف سے جاری مشترکہ بیان پر من و عن عمل کیا جائیگاجس کی انہیں کافی اُمید ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے سرحدوں کے قریب قیام پذیر آبادیوں کو اپنی زندگی امن و امان سے جینے کا موقع فراہم ہوگااور وہ بنا کسی خطرے کے اپنی معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔