گذشتہ ماہ کے آخری ہفتے میں بھارت اور پاکستانی افواج کے مابین ہوئی بات چیت اور اس کے پس منظر میں بدلی صورتحال کے بعد اب پاکستان ’دہشت گردی‘کی علامت ملک نہیں ہے اور نہ بھارت کوئی ‘فسطائی‘ سٹیٹ ۔اب تو خیر سگالی بیانات اور نیک خواہشات کے تبادلوں کا موسم ہے، یہاں تک کہ ’اٹوٹ انگ کا راگ‘ بھی خاموش ہے اور ’شہ رگ کی تسبیح‘ بھی بند ۔ با لفاظ دیگر نئی دلی اور اسلام آباد کے مابین تازہ ہنی مون ابھی تک صحیح سمت میں جارہا ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی فوج بھی اب مخاصمت نہیں چاہتی ہے اور وہ اس کا کھل کر مظاہرہ کررہی ہے۔پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا نے اسلام آباد میں سیکورٹی سے متعلق منعقدہ ایک تقریب کے دوران عالمی و علاقائی حالات، تبدیلیوں اور حرکیات کے تجزیے پر مبنی جو خطاب کیا، وہ اہمیت کا حامل تھا۔ تقریب کے پہلے روز پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے جو تقریر کی، اصل میں باجوا کی تقریر اُسی کی باز گشت تھی۔ یعنی پاکستانی حکومت اور فوج بھارت کے ساتھ تعلقات کو لیکر اس وقت ایک ہی پیج پر ہیں۔باجوا نے اپنی تقریر میں کہا’’بھارت اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ ماضی کو دفن کرکے آگے بڑھیں‘‘۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو اپنے مسائل حل کرنے کیلئے افہام و رفہیم کی راہ اختیار کرنی چاہئے۔اس سلسلے میں باجوانے خاص کر مسئلہ کشمیر کا تذکرہ کیا۔بعد ازاں اسلام آباد اور نئی دلی کے مابین پانی کے تنازع کو لیکر باضابطہ بات چیت کا آغاز ہوگیا جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک نے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی ٹھان لی ہے۔
جنوب ایشیا کے ساتھ دلچسپی رکھنے والے مبصرین اور تجزیہ نگار اس بات کو لیکر بگلیں بجانے میں مصروف ہیں کہ دو نیوکلیائی ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں اور یوں ایک نیا عالمی منظر نامہ بھی تشکیل پارہا ہے ،یا کم سے کم اس میں خاص تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔یہ تبدیلیاں چونکہ بیجنگ ،واشنگٹن اور ماسکو تک بھی محسوس کی جارہی ہیں اس لئے نہ صرف اہمیت کی حامل ہیں بلکہ دور رس نتائج کی حامل بھی ۔
ماہرین جنوب ایشیا نے تو یہاں تک کہنا شروع کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دوسرے دور اقتدار کے بارے میں پہلے ہی پیش گوئیاں کررہے تھے کہ یہ غیر معمولی ہوگا اور اس میں وہ (مودی) مسائل کو’ حل ‘کرنے کی طرف خصوصی توجہ دیں گے۔ وزیر اعظم مودی نے اپنے دوسرے دور حکمرانی کے آغاز میں ہی جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کا خاتمہ کرکے خطے میں ہلچل پیدا کی ۔اس سلسلے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کے اندر چین کے زیر کنٹرول اکسائی چن کو بھی ’آزاد‘ کرانے کی بات کا جواب دینے کیلئے بیجنگ نے لداخ میں پیشقدمی کی۔جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ بیجنگ کا اس طرح فوجی سطح پر سرگرم ہونا نئی دلی کیلئے ناقابل یقین تھا ،اس لئے نئی دلی چاہتی ہے کہ وہ بیجنگ تک گئے پہلے پیغام کو نہ صرف درست کرے بلکہ اس میں یہ اضافہ بھی کرے کہ کشمیر بھی خطے کا ہی ایک مسئلہ ہے تاہم اس میں اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں کا کوئی رول نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ نئی دلی نے بیجنگ کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھتے ہوئے ایک معاہدہ عمل میں لایا جس کے بعد اب نئی دلی پاکستان کے ساتھ رشتوں کی بحالی کے کام میں لگ گیا ہے ۔بھارت اور چین کی بات چیت میں نئی دلی اور اسلام آباد کے رشتوں کا کتنا تذکرہ آیا ہوگا؟ اس کے بارے میں محض اندازے لگائے جاسکتے ہیں البتہ ایسا لگتاہے کہ بیجنگ نے نئی دلی کو اس کے وسیع مارکیٹ کی تجارتی و اقتصادی اہمیت کے بارے میں بخوبی واقف کرایا ہے۔بیشتر مبصرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ نئی دلی اور اسلام آباد کو شاید اس صورتحال کا خوب احساس ہوا ہے اور دونوں ایک ایسی راہ پر گامزن ہیں جس کی منزل زیادہ سے زیادہ تجارتی سرگرمیاں اور اقتصادی منفعت کا حصول ہے اور بے شک ایسا خطے کے مسائل کو حل کرکے ہی ممکن ہے۔بیجنگ کو بھی بھارتی مارکیٹ کی افادیت کا ٹھیک اندازہ ہے اور اسی لئے اب اُسے اُروناچل پردیش نظر نہیں آتا اور سکم میں بھی مکمل خاموشی چھائی ہے۔
عمران خان نے بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہاں تک کہا ہے کہ بھارت کو وسطی ایشیا ء تک تجارتی رسائی کیلئے پاکستان کی اہمیت قبول کرنی چاہئے۔یعنی نئی دلی اور اسلام آبا، دونوںکی نظریں وسطی ایشا ء پر مرکوزہیں ۔ اس سلسلے میں اگر چہ اسلام آباد سی پیک کے ذریعے بھارت سے دو قدم آگے ہے تاہم سی پیک کے دوسرے پارٹنر یعنی چین کی اپنے مفادات کیلئے خواہش ہے کہ دنیا کا ایک بہت بڑا مارکیٹ (بھارت) بھی اس اقتصادی راہداری کا حصہ بنے ۔بیجنگ کو اس ضمن میں اپنے دیرینہ دوست اور سی پیک کے پارٹنر ،پاکستان کے تحفظات کا علم ہے، اس لئے وہ ایسے اقدامات کی حمایت کررہا ہے جس سے دونوں کی ہار یا جیت کے بغیر ہی ان کے مابین موجودمسائل حل ہوسکیں۔ ادھر وزیر اعظم مودی بھی چاہتے ہیں کہ وہ اپنے دوسرے دو اقتدار میںملک کو ایک ایسی پٹری پر ڈال سکیں جس سے اُس کا وسیع مارکیٹ زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کرسکے اور اس کیلئے اُس کے پاس کئی متبادل موجود ہیں، لیکن ان میں سب سے زیادہ ملکی مفادات کے حق میں وسطی ایشیاء تک بلا خلل رسائی کا متبادل ہے جس کی چابی چین اور پاکستان کے پاس ہے۔واقف کار حلقوں کے مطابق مودی جانتے ہیں کہ خطے میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ ٹکرائو کی پالیسی ترک کرکے وہ نہ صرف اس چابی کا استعمال کرسکتے ہیں بلکہ ملک کی سرحدوں کو بھی محفوظ بنا سکتے ہیں، اس لئے وہ بیجنگ اور اسلام آباد کے ساتھ تعاون کیلئے تیار دکھائی دے رہا ہے۔اس باہمی تعاون سے جونئی صورتحال فی الوقت تیار ہورہی ہے اس میں مسائل کے حل کی راہ صاف صاف دکھائی دینے لگی ہے۔اس راہ کے اندر بھارت ،پاکستان اور چین کی سرگرمیاں نمایاں ہیں جبکہ ماہرین ماسکو اور واشنگٹن کے سائے بھی دیکھ رہے ہیں۔اس راہ میں فی الوقت کسی مقامی یا غیر مقامی نان اسٹیٹ کھلاڑی کارول نظر نہیں آرہا ہے ،البتہ آگے چل کر اس راہ کے اندر کس طرح کی سرگرمیاں انجام دی جائیں گی اور کون کون ان میںشامل ہوگا؟ اس کے بارے میں ابھی سے قیاس آرائی کرنا قبل از وقت ہوگا۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ملک کے فوجی سربراہ کی تقریر کا تجزیہ کرتے ہوئے میڈیا اداروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا ’’ پاکستانی قیادت نے نئے پاکستانی ویژن کے تحت لوگوں کی اقتصادی و معاشی ترقی کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ اسلام آباد نے خطے میں تنازعات کا حصہ بننے کی بجائے امن و استحکام کے لئے کی جانے والی کاوشوں میں حصہ دار بننے کا شعوری فیصلہ کیا ہے اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے اسے اقتصادی مرکز کے طور پر دنیا کے سامنے لایا جارہا ہے‘‘۔
بھارت اور پاکستان کے مابین حالیہ فوجی سطح کی بات چیت کے نتیجے میں پیدا ہوئی صورتحال اور دونوں طرف کے لب و لہجے میں آئی تبدیلی سے یہی عندیہ مل رہا ہے کہ نئی دلی اور اسلام آباد نے ایک ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔بے شک ایسا کرکے پورے خطے کی صورتحال تبدیل ہونے والی ہے جس میں چین کی سرگرمیوںکیلئے میدان مزید صاف دکھائی دے رہا ہے۔چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کو کس حد تک واشنگٹن برداشت کرے گا ؟اس بحث میں اُلجھے بغیر یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اسلام آباد اور نئی دلی کی کوششوں کو کوئی تیسری طاقت صرف اُسی وقت سبوتاژ کرسکتی ہے جب ان میں ماضی کی طرح اخلاص کی کمی ہو۔چونکہ اسلام آباد کی طرف سے ’ماضی کو دفن ‘کرکے آگے بڑھنے کی بات کہی گئی ہے جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ موجودہ تعاون سنجیدگی پر قائم ہے ۔اگر ایسا ہے تو جنوب ایشیا ء کے مستحکم مستقبل کی پیشگوئیاں صحیح ثابت ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔