ہندوپاک افواج کے مابین سرحدی جنگ بندی معاہدہ

  کہا بندوقیں خاموش ہونے سے سکون سے سو سکتے ہیں

 راجوری+پونچھ// راجوری اور پونچھ کے سرحدی باشندوں نے ایک ایسے وقت کا خواب دیکھا ہے جس میں ہندوستانی اور پاکستانی فوج کی بندوق خاموش ہوجائے اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا اعادہ کیا جائے۔ہاٹ لائن پر ڈی جی ایم او سطح کی بات چیت جمعرات کو ہندوستان اور پاکستان کی فوج کے مابین ہوئی جس میں دونوں فریقوں نے سرحدوں پر جنگ بندی کے عزم کا اعادہ کیا۔راجوری کے گاؤں ایل او سی نائکا پنجگرائین کے ذاکر حسین نے بتایا"ہم یہی مطالبہ برسوں سے کر رہے ہیں" ۔انہوں نے مزید کہا "فائر بندی کی خلاف ورزی اور کنٹرول لائن پر فائرنگ اور گولہ باری ہماری زندگی کی سب سے بڑا رکاوٹ ہے اور اس کا خاتمہ ایک خواب کی طرح ہونا ہے"۔ راجوری کے علاقے ڈونگی ایل او سی کے ایک شخص سریش شرما نے بتایا کہ فائرنگ اور گولہ باری کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔شرما نے کہا"فائرنگ اور گولہ باری سے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ وردی والے مردوں کے لئے بھی تکلیف ہے اور سرحدوں پر جنگ بندی سے یہ سب ختم ہوگا" ۔میندھر کے بالاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص جاوید اختر نے کہا"ایل او سی کے علاقوں میں بسنے والے لوگوں کے دکھوں کا کوئی خواب بھی نہیں دیکھ سکتا جن کو ہر روز نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے"۔انہوں نے دونوں اطراف کی فوجوں کے ساتھ ساتھ حکومتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ڈی جی ایم او سطح کی بات چیت میں کئے گئے معاہدہ کو من وعن نافذ کیا جائے۔سماجی و سیاسی کارکن شاہپور فیض اکبر راٹھور نے سرحد پر بندوقوں کے خاموشی کو انسانیت کا خراج قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانوں کے خون خرابہ کسی  بھی مسئلے کاحل نہیں ہے بلکہ بات چیت سے کوئی بھی مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بات چیت کا راستہ آگے بڑھاکر دونوں پڑوسی ممالک کو اتحاد کی راہیں ہموار کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عرصہ دراز بعد جو پیش رفت ہوئی ہے یہ ایک خوش آئیند پیشرفت ہے اس سے سرحد کے دونوں اطراف کے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔اس دورانجموں مسلم فرنٹ نے پاک بھارت جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ صدر قاضی عمران نے کہا کہ انسانوں کی خونریزی کا کوئی حل نہیں ، بات چیت ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ اس تاریخی معاہدے سے سرحد کے دونوں اطراف کے لوگوں کو فائدہ ہوگا جو ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔جے ایم ایف جنرل سکریٹری ، محمد صادق نے بھی معاشرے کے ہر طبقے اور مذہبی سربراہوں سے معاشرے میں امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لئے مل کر کام کرنے کی اپیل کی۔