مغربی ایشیاء میں جنگ نے بڑے بڑے ممالک کوایندھن کی قلت سے دوچار کیا
یواین آئی
بالوترا//وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں جنگ کے باعث پوری دنیا میں پیدا ہونے والی ہلچل کے سبب آج بڑے بڑے ممالک ایندھن کی قلت سے دوچار ہیں، لیکن اس بڑے توانائی بحران پر 21ویں صدی کے نئے ہندستان کی قوت ارادی اور مؤثر حکمت عملی اور ہر سطح پر درست فیصلوں کی بدولت ملک اس بحران سے نکلنے میں کامیاب رہا۔ مودی نے ہفتہ کے روز یہاں ضلع بالوترا کے پچپدرا میں ریفائنری اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا کی جنگ نے پوری دنیا میں توانائی کے سب سے بڑے بحران کو جنم دیا۔ آج بڑے بڑے ممالک ایندھن کی قلت سے نبرد آزما ہیں، لیکن اکیسویں صدی کے نئے ہندستان کے عزم اور اس کی کوششوں نے ان چیلنجوں پر قابو پا لیا۔انہوں نے کہا کہ ہندستان نے ہر سطح پر درست فیصلے کیے اور بحران کا بروقت درست اندازہ لگایا اور مؤثر حکمت عملی تیار کی۔ ملک کے وسائل کے متوازن استعمال اور سفارتی کوششوں کے مثبت استعمال کے باعث ملک اس بحران سے نکلنے میں کامیاب رہا۔ انہوں نے کہا کہ جب عوامی طور پر بعض طاقتیں افواہ اور خدشات پھیلانے میں مصروف تھیں، اس وقت دن رات اس بات پر کام کیا جا رہا تھا کہ صورتحال کو کس طرح سنبھالا جائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جنگی حالات نے گیس کی سپلائی کو کافی حد تک متاثر کیا تھا، اس لیے بحران شروع ہوتے ہی ریفائنری کی صلاحیت پر زور دیا گیا۔ رسوئی گیس کے لئے ایل پی جی تیار کرنے کی ہدایت دی گئی اور سات دن میں ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور 35 ہزار ٹن کے مقابلے میں وہ بحران کے دوران 54 ہزار ٹن تک ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی رسوئی گیس کے لئے پی این جی کنیکشن بڑھانے کی مہم چلائی گئی اور بہت کم وقت میں تقریباً 11 لاکھ گھروں کو پی این جی کنکشن سے جوڑ دیا گیا۔ مودی نے کہا کہ جنگ کے باعث پٹرول اور ڈیزل کا بحران بھی شدید تھا اور خام تیل کی قیمتیں 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 بیرل تک پہنچ گئی۔ درآمد کے راستے بھی متاثر ہوئے تھے اور دنیا میں تیل کی قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد اضافہ ہو گیا۔ کئی ممالک میں تو ڈیزل اور پٹرول کوٹے کی بنیاد پر ملنا شروع ہوگیا لیکن ہندستان میں ایک دن کے لیے بھی ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔