برصغیر ہند و پاک میں جب بھی دو قومی نظریے کا راگ چھیڑا جاتا ہے تو بات قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت اور فلسفہ ٔ سیاست پر آ جاتی ہے جنہیں اس نظریے کا موجد مانا جاتا ہے ۔اس کے ثبوت میں پاکستان کا ذکر کیا جاتا ہے جس کو ایک آزاد ملک کی حیثیت میں کو دنیا کے نقشے میں لانے میں قائد کا کردار کلیدی رہا۔ ہندوستان کے پس منظر میں دو قومی نظریے کا مدعا و مفہوم یہ رہا ہے کہ ہندو و مسلمان دو علحیدہ قومیں ہیں جن کا ایک ہی ملک میں ایک ساتھ رہنے کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ یہ مختلف المذاہب اور مختلف التمدن ہیں ۔ تاریخ کے گہرے مطالعے اورتجزیئے سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح سے بہت پہلے دوقومی نظریے کے بیج بوئے جا چکے تھے اور اُنہوں نے یہ نظریہ ایک ایسی صورت حال میں اپنایا جب سیاسی طور پہ اُن کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔اس حقیقت کو سمجھنے کیلئے قائد اعظم محمد علی جناح کے سیاسی سفراور دو قومی نظریے کی ابتداء اور ارتقا کا مطالعہ نا گزیر ہے ۔
قائد اعظم محمد علی جناح اپنی سیاسی زندگی کے آغاز میں ہندو مسلم اتحاد کے زبر دست داعی تھے اور ا س معاملے میںحد یہ تھی کہ بلبل ہند کہلانے والی سروجنی نائیڈو نے قائد کو ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کے شایان ِشان لقب سے نوازا۔ قائد اعظم کے سیاسی سفر کا آغاز اُن کے برطانیہ میں طالب علمی کے زمانے کے دور ان ہوا ۔ 3 189ء میںہندوستان کی ایک قابل قدر سیاسی ہستی دادا بائی نیروجی برطانوی پارلیمنٹ کی نشست کے لئے الیکشن لڑ رہے تھے جب قائد اعظم وہاں لنکنز اِن میںوکالت کی تعلیم میں مشغول تھے ۔ قائد اعظم نے دادا بائی نیروجی کی حمایت میں کافی جانفشانی کی جو اپنے مدمقابل سے صرف اور صرف تین ووٹوں کی بر تری سے پارلیمنٹ کی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ قانون کی ڈگری سے فارغ ہو کرقائد اعظم ہندوستان واپس لوٹ آئے اور کانگریس میں شمولیت اختیار کی، یہاں آپ گوپال کشن گوکھلے کے کردارا ور سیاسی افکار سے متاثر ہوئے اور اُن کے پیرو اور حامی بنے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ قائد اعظم کانگریس کے ممبر گاندھی سے بہت پہلے بنے ۔یہ وہ زمانہ تھا جب کانگریس پہ گوپال کشن گوکھلے اور بال گنگادر تلک کا غلبہ تھا ۔جہاں گوپال کشن گوکھلے سیکولر نظریے کے حامی تھے ،وہیں بال گنگادر تلک کی سیاسی فلاسفی کے بارے میں مسلمان ہند کی صفوں میں خدشات اور تحفظات پائے جاتے تھے۔اُس زمانے کے مسلم سیاسی لٹریچر میں بال،پال اور لال سے خبردار رہنے کی تاکیدیںپائی ہیں:بال یعنی بال گنگادر تلک ،پال یعنی بپن چندر پال اور لال ،لالہ لاجپت رائے سے منسوب تھا۔
قائد اعظم محمد علی جناح اس حد تک سیکولر نظریے کے حامی تھے کہ بال گنگادر تلک کے بارے میں مسلمانانِ ہند میں خدشات وشبہات کے باوجود 1916ء وہ میں اُن کا قانونی دفاع کرنے کے تیار تھے جب تلک پر غداری کے الزام میں مقدمہ زیر سماعت تھا۔1918ء میں جب گاندھی جی نے مسلمانوںکی حمایت میں خلافت موؤمنٹ شروع کی تو قائد اعظم نے ا س کاساتھ دینے سے گریز کیا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ ان دنوں سیاست میں مذہبی امور کی آمیزش کے بڑے خلاف تھے۔قائد اعظم کا اس تحریک سے دور رہنا دُرست فیصلہ ثابت ہوا جب اتا ترک مصطفی کمال پاشا نے عثمانی خلافت کا خاتمہ کیا ۔چونکہ عثمانی خلافت میں وہ دم نہیں رہا تھا جس سے تُرکوں کا دفاع ممکن ہو سکتا، نیز مغربی طاقتیں خلافت کے مندوبین سے ایک کے بعد دوسری رعایت لے رہے تھے۔ قائد اپنے سیاسی مربی گوکھلے کی 1915ء میں وفات کے بعد قائد اعظم اُن کے سیاسی نظریات کی پیروی میں ہندو مسلم اتحاد کیلئے انتھک کام کر تے رہے۔ اپنی وفات سے پہلے گوکھلے کی سیاسی وصیت میں ہندو و مسلم کے مابین سیاسی طاقت کا توازن آبادی کے تناسب پہ محیط رہا۔ اُن کی وصیت کو عملی جامہ پہنانا قائد اعظم کی ترجیحات میں شامل رہا،البتہ اس میں قدم بہ قدم مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ گاندھی جی1915ء میں جنوبی افریقہ میں اپنے قیام کے اختتام پر ہندوستان آئے اور بہت جلد کانگریس کے سیاسی امور پہ چھا گئے ۔اُن کا سیاسی گراف جس سرعت سے اوپر جا رہا تھا، اُسی تناسب سے کانگریس میں قائد اعظم کا سیاسی گراف نیچے جا رہا تھا،حالانکہ یہ بھی صحیح ہے کہ 1916ء میں لکھنو پیکٹ میں ہندوؤں و مسلمانوں میں سیاسی اتفاق قائدکی ذاتی کوششوں کی مرہون منت رہا ۔اس پر سروجنی نائیڈو نے اُنہیں سفیر ہندو مسلم اتحاد کے فخریہ لقب سے نوازا۔ اپنی سیاسی کوششوں کے باوجود قائد اعظم کانگریس میں گاندھی کی ستیہ گرہی سیاست سے اپنے آپ کوہم آہنگ نہیں کر پا رہے تھے۔ گاندھی کی ستیہ گراہی سیاست کے بجائے اُن کی سیاست کا محور آئینی و قانونی کاوشوں سے سیاسی امور سلجھانے کا تھا۔
گاندھی جی اور قائد اعظم میں بڑھتی ہوئی سیاسی دوریوں کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ ظاہراََ سیکولر ہونے کے باوجود اول الذکر کا رحجان مذہبی تھا اور اسی رحجان نے اُنہیں لوگوں میں مہاتما بنا کر پیش کردیا۔عوام الناس میں بھی اُن کی جو شبیہ بنی اُس میں سیاسی عنصر کے ساتھ ساتھ ہندو دھرم کا فیکٹر بھی شامل تھا۔وہ سیاسی لیڈر ہونے کے علاوہ مذہبی ریفارمر بھی تھے ۔ 1920ء کے دَہے میں جہاں گاندھی جنوبی افریقہ میں حاصل شدہ ستیہ گرہی تجربات کو ہندوستانی سیاسی میدان میں آزما رہے تھے، وہیں قائد اعظم گوکھلے کی پیروی میں ہندو مسلم اتحاد کیلئے کام کرتے جا رہے تھے۔وہ یکے بعد دیگرے سیاسی مسودات سے یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ ہندو مسلم اتحاد کی واحد راہ سیاسی اختیارات کی عادلانہ تقسیم ہے ،جس میں سیاسی ایمپاؤرمنٹ کا محور ومرکز آبادی کا تناسب ہونا چاہیے۔ اس لحاظ سے سیاسی اثر پذیری کم و بیش یہ دو تہائی ہندو اکثریت کے حق میں جاتا تھا جب کہ مسلم اقلیت کے لئے ایک تہائی رہ جاتا تھا۔ گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی لیڈرشپ البتہ ایک ایسے جمہوری نظریہ کی خواہاں تھی، جہاں پر جمہوری اصولوں کی آبیاری میں اکثریت حاوی رہے۔ گوکھلے اور قائد اعظم کی نظر میں اکثریتی جمہوری نظریہ میں مسلمان کے لئے ہندوستان میں سیاسی طور پر پنپنے کے امکانات محدود تھے چونکہ ہندوستان کے وسطی علاقوں میں مسلمان کی آبادی بکھری ہوئی تھی، لہٰذا اکثریتی جمہوری نظریے میں اُن کے لئے سیاسی طاقت کے حصول کے امکانات محدود تھے۔ مسلمانوں کی اکثریت صرف ہندوستان کے شمال مغرب اور شمال مشرق میں پنجاب اور بنگال کے صوبوں میں تھی۔ہندوستان ؎ کو متحد رکھنے کی ایک ہی صورت تھی اوروہ ایک ایسے سیاسی فارمولے پہ عمل پذیر رہنا تھا جس میں ہندوستان کے طول و عرض میں آبادی کے تناسب سے سیاسی ایمپاورمنٹ کا حصول ممکن ہو سکے۔قائد کے مختلف فارمولوں پہ کانگریس میں موتی لال نہرو و سی آر داس جیسے رہنما بھی اپناکام کرتے رہے لیکن یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ رہی تھی ۔کانگریس روز بروز پنڈت جواہر لال نہرو کے سیکولرازم اور سوشلزم نظریات کو پذیرائی بخش رہی تھی اور ان نظریات میں قائد اعظم کے سیاسی فارمولے کی پیش قدمی کے امکانات کم سے کم تر ہو رہے تھے۔ 1920ء کے دَہے کے اختتامی سالوں میں قائد اعظم ا س صورت حال سے دل برداشتہ ہو کر ہندوستان سے نقل مکانی کی سوچ کر انگلستان جا بسے۔ انگلستان میں کئی برس تک قیام کے دوران اُنہیں گاہ بگاہ مسلم لیگ کی جانب سے واپس آنے کی درخواتیں موصول ہوتی رہیں ،جن میں علامہ اقبالؒ کی گزارشات بھی شامل تھیں لیکن وہ ان درخواستوں کی جانب مائل نہیں ہو رہے تھے ۔ انجام کار جب علامہ اقبال کیpersuation پر وطن لوٹ آنے پر آمادہ ہوئے تو اس خیال کے ساتھ واپس آئے کہ وہ مسلمانانِ ہند کے سیاسی حقوق کے حصول کیلئے دوسروں پر اعتماد کرنے کے بجائے اُن کی صفوں کو آراستہ کر نے اپنے بل پر ایک نئی جدوجہدکا آغاز کریں گے۔ اب قائد اعظم نے کانگریس پہ مزید تکیہ کرنے کے بجائے مسلم لیگ کی رہبری سنبھا ل لی۔وہ ہندو مسلم اتحاد کی کوششوں سے کامل طور دل برداشتہ اور مایوس ہو چکے تھے، البتہ اس حالت وکیفیت میں بھی 1937ء کے صوبائی انتخابات کے بعد اُنہوں نے کانگریس کی جانب پھر سے سیاسی اتحاد کا ہاتھ بڑھایا لیکن پنڈت نہرو کو مسلم لیگ کی حمایت کی ضرورت ہی نہیں پڑی کیونکہ کانگریس کو انتخابات میں واضح برتری حاصل ہو چکی تھی۔یہاں سے ان قائدین کے درمیان راستے کاملاًجدا ہوئے ، یہاں تک کہ 23مارچ 1940ء کو مسلم لیگ کے لاہور سیشن میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی جس میں مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا اور یہی سیاسی لائحہ عمل دو قومی نظریے کو قائد اعظم محمد علی جناح سے منسوب کرنے کا نقطہ مانا جاتا ہے، جب کہ حالات وکوائف کے تحقیقی مطالعے سے حقیقت کا کچھ اور منظر نامہ سامنے آتا ہے۔
19ویں صدی کے آواخر میں نابا گوپال مترا نے ہندوؤں کیلئے ایک جداگانہ قومی نظریہ پیش کیا۔اُن کے تصور میں ہندوؤں کی قومی تشکیل مسلم اور مسیحائی اقوام سے بہتری کی حامل رہ سکتی ہے۔ اُنہوں نے ہندوؤں کو آریائی قوم والی پہچان کی تلقین کی۔ نابا گوپال مترا کے آریائی نظریے سے اختلاف کی وسیع تر گنجائش موجود ہے ۔اولاً یہ کہ شمالی ہند کے ہندوؤں کے ساتھ ساتھ اس خطے کے مسلمان بھی آریائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، لہٰذا مذکورہ نسل ہندوؤں تک محدود نہیں ،ثانیاََ جنوبی ہند کے ہندو آریائی نسل ہونے کے بجائے دراوڑ نسل سے تعلق رکھتے ہیں ۔بنابریں وہ ایک آریائی نسل پر تشکیل شدہ ہندو قوم میں سما نہیں سکتے، ثالثاَ آریائی نسل ہندوستان کے لوگوں تک محدود نہیں بلکہ ایرانی اور جرمن قوم بھی نسلاََ آریائی ہیں ۔اڈالف ہٹلر بھی جرمنوں کو آریائی قوم بنانے کے درپے تھے اور ایران میں پہلوی شہنشاہی کے تخت وتاج کے دوران شہنشاہ ایران کے دیگر القاب میں آریا مہر بھی شامل تھا یعنی آریائی نسل کا ہیرا! آریائی نسل سے وابستہ ان تاریخی حقائق کے ہوتے ہوئے نابا گوپال کا ہندوؤں کیلئے آریائی قوم کا تصور ناقص اور حقیقت سے بعید نظر آتا ہے۔
1908ء میں بائی پرمانند نے مسلموں اور ہندوؤں کو دو جداگانہ قومیںکہتے ہوئے اُن کے مل بیٹھ کے رہنے کے تصور کو خارج از امکان قرار دیا ۔اُنہوں نے ہندو مسلم آبادی کے تبادلے سے دونوں کو الگ الگ جغرافیائی خطوں میں بسانے پہ زور دیا ۔ ویر سوارکر نے پہلی دفعہ ہندتوا کا تصور پیش کیا ۔اُن کی ایک تصنیف بھی اسی نام سے شائع ہوئی ۔سوارکر کی نظرمیں ہندو قوم میں مسلمانوں اور عیسائی مذہب کے پیرو کاروں کو سمونے کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ سوارکر نے اپنے نظریات کا انکشاف بھر پور انداز میں 1937ء میں ہندو مہا سبھا کے 19ویں سیشن میں کیا۔سوارکر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہندوستان میں دو قومیں ہیں ہندو اور مسلمان! جہاں نابا گوپال مترا،بائی پرمانند اور ویر سوارکر نے واضح الفاظ میں دو قومی نظریے کی بات کی ،وہاں قائد اعظم محمد علی جناح کو دو قومی نظریے کا موجد ماننا کہاں اور کیسے مناسب ہو سکتا ہے؟ ہندوؤں کے ان نظریاتی نیتاؤں کی تقلید میں گو لواکر نے بھی اپنا یہی نظریہ پیش کیا ۔راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نظریاتی نیتا اپنی تصنیف ’’ہم یا ہماراقومی تشخص‘‘(We, Or Our Nationhood Defined) ‘میں یہی بات نمایاں انداز میں پیش کر تاہے، اس میں اقلیتوں کے لئے کوئی موقع محل نہیں ہے بہ جز اس کے وہ یا تو اکثریت میں سما جائیں یا فنا ہو جائیں بالفاظ دیگر اُن کے لئے اکثریتی قومی تشخص کو اپنائے بغیر کوئی اور راہ میسر نہیں ہے ۔گولواکر کا نظریہ عملی طور آر ایس ایس کا نصب العین بن گیا۔ آر ایس ایس ظاہراََ ایک ثقافتی تنظیم ہے لیکن اس سے وابستہ کئی ایک فرنٹ لائن جماعتیں قومی زندگی کے ایک ایک شعبے سے تعلق رکھتی ہیںاور ان میں سیاسی فرنٹ بھی شامل ہے جو کبھی جن سنگھ کہلایا اوراب بھاجپا (بی جے پی)کے نام سے یہ مر کز میں بر سر اقتدار ہے۔
نابا گوپال مترا،بائی پرمانند، ویر سوارکراور گولواکر کے نظریات کو پیش نظر رکھ کر یہ بآسانی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دو قومی نظریے کی ابتدا ء قائد اعظم محمد علی جناح سے بہت پہلے ہو چکی تھی جب کہ کثیر القوم اور کثیر ثقافتی انڈیا میں گولواکر لوگوں کو مل جل کر رہنے کی سب ہی راہیں مسدود سمجھتا تھا۔ہندتوا کی تقلید کرتی ہوئی جماعتوں کے برعکس کانگریس بظاہر ایک سیکولر تنظیم تھی لیکن اُس میں بھی بال،پال اورلال جیسے افراد ورز اول سے شامل رہے ۔بال گنگا در تلک کے بارے میں پہلے ہی ذکر ہو چکاہے کہ بپن چندر پال کواُن کا ہم خیال مانا جاتا تھا، رہا لالہ لاجپت رائے کا نظریہ ،اس کابھی یہی مطمح نظر رہا کہ ملک کا بٹوارہ ہندو اور غیر ہندو کی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ کانگریس میں جہاں دائیں بازو کی سیاست کے پیروکار سردار پٹیل جیسے رہبر تھے، وہیں سوشلسٹ خیالات کے علم بردارپنڈت جواہر لال نہرو جیسے لیڈر بھی اسی چھتری کے نیچے تھے۔سیاسی اختلافات کے باوجود دونوں بڑے لیڈر متفق تھے کہ آزاد ہندوستان کی فیڈرل گورنمنٹ مضبوط ہونی چاہیے ،جہاں مرکز کے پاس وسیع اختیارات رہیں ،وہاں صوبائی حکومتیں کمزور پڑ جاتی ہیں،جب کہ بنگال اور پنجاب کے مسلم اکثریتی صوبے وسیع اختیارات کے خواہاں تھے ۔کانگریس اور مسلم لیگ کے سیاسی نظریات کہیں بھی ہم آہنگ نظر نہیں آ رہے تھے اور یہی متضاد سیاسی دھارے بالآخر ہندوستان کی تقسیم پہ منتج ہوئے۔ تقسیم کے بیج قائد اعظم محمد علی جناح کی تحریک قیام پاکستان پر اصرار سے بہت عرصہ پہلے شدت پسند ہندوؤں کے ہاتھوں بوئے جا چکے تھے اور حالات کی تاریخی گردش اور واقعات کے ظہور نے تقسیم کو حقیقت کارُوپ دیا۔
Feedback on: [email protected]