اشرف چراغ
کپوارہ// ہندوارہ قصبہ میںبڑھتی ہوئی گندگی میونسپل کونسل ہندوارہ کی کارکردگی پرسوالیہ ہے۔قصبہ کے نزدیک نالہ ٹالری جہا ں محکمہ انیمل ہسبنڈری کا تحصیل دفتر بھی ہے ،کے کنارے گندگی اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر جمع ہوئے ہیں اور اس کچرے کے کومناسب طورٹھکانے نہ لگانے کی وجہ سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامناہے۔کثرت غلاظت اور گند گی کی وجہ سے اب اس مقام سے
گزرنامشکل بن گیا ہے اور گرمی بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہاں مچھر ،مکھیو ں اور دیگر مو ذی کیڑے مکوڑوں کی افزائش ہو رہی ہے،جس سے کئی بیماریا ں پھو ٹ پڑنے کا خدشہ ہے۔نالہ ٹالر ی کے اس مقام پر محکمہ انیمل ہسبنڈری کا دفتر بھی ہے اور وہ بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔اس مقام پر اب مویشیو ں اور آ ورہ کتو ں نے اپنا مسکن بنایا ہے اور کچرے کے انبارو سے اُٹھنے والے تغفن اور بد بو کی وجہ سے عام لوگو ں کا پیدل چلنا اور سانس لینا بھی محال ہو گیا ہے۔میونسپل کونسل ہندوارہ کے عملے کی جانب سے روزانہ اس کچرے کو ٹھکانے لگانے کے نظام میں نمایا ں کمی نظر آتی ہے۔مقامی لوگو ں کے مطابق میو نسپل کو نسل ہندوارہ کو چاہیے تھا کہ وہ ایک مو ثر نظام نا فذ کرے تاکہ اس جگہ لوگ کچرے کو نہیں ڈالتے۔صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کچرے اور گندگی کی بد بو نہ صرف انسانو ں بلکہ جانورو ں کے لئے بھی شدید نقصان دہ اور تکلیف کا با عث بنتی ہے۔ایک مقامی شہری کا کہنا ہے کہ اب تک اس جگہ گندگی کھانے کی وجہ سے کئی مویشی بھی ہلاک ہو چکے ہیں کیونکہ یہ مویشی کچرے کے ڈھیر پر موجود سڑا ہوا کھانا ،پلاسٹک اور زہر یلے اشیاء کھا کر جان لیوا بیماریو ں کا شکار ہو جاتے ہیں۔مقامی لوگو ں نے میونسپل کو نسل انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ نالہ ٹالری کے کنارے انمل ہسبنڈری دفترکے مقام پر اس کچرے کو فوری طور ٹھکانے لگائیں تاکہ لوگوں کو روز مرہ عذاب سے نجات مل سکے۔