ہندوارہ جشن کا سماں، پولنگ مراکز کے باہر لمبی لمبی قطاریں

ہندوارہ // پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے کے تحت ہندوارہ اور لنگیٹ میں صبح کے وقت لوگوں کی لمبی قطاریں پولنگ سٹیشنوں کے باہر دیکھیں گئیں۔ خواتین مرد، بوڑھے پولنگ مراکز پر پہنچے تھے ۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم لیڈران کی کارکردگی سے مایوس ہیں لیکن ایک موقعہ اور دیتے ہوئے انہیں پھر سے آزمانا چاہتے ہیں ۔کشمیر عظمیٰ کی ٹیم جب جمعرات کی  صبح لنگیٹ پہنچی تو وہاں ایک سکول میں قائم پولنگ سٹیشن نمبر 45پر لوگوں کی بھاری بھیڑ دیکھی گئی جو اپنے ووٹ کا استعمال کر رہے تھے۔ پولنگ مراکز کے باہر مشتاق احمد نامی ایک ڈرائیور نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اُس کا ووٹ جموں سرینگر شاہراہ پر لگائی گئی حالیہ پابندی کو ہٹانے کیلئے ہے۔اُس کا کہنا تھا کہ میرا ووٹ مہنگائی سے چھٹکارا کیلئے ہے ۔اس نوجوان کا کہنا تھا کہ اس بار اُس کا ووٹ اُن نوجوانوں کو انصاف انصاف دلانے کیلئے تھا جن پر ایف آئی آر درج ہیں ۔ نوجوان کے مطابق علاقے میں قریب 960نوجوانوں ایسے ہیں جن کے خلاف آیف آئی آر درج ہیں۔گورنا منٹ بائز ہائی سکنڈی سکول ہانگا لنگیٹ میں 2 پولنگ سٹیشن قائم کئے گے تھے اور پولنگ سٹیشنوں کے باہر لوگ لمبی قطاروںمیں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے ۔پولنگ سٹیشن نمبر 039Bمیںصبح 11بجے تک 174لوگوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کر دیا تھا ۔اس پولنگ سٹیشن کے پریزائڈنگ افسر بی اے وانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پولنگ عمل بنا کسی خلل سے جاری ہے ۔اس سکول میں قائم پولنگ سٹیشن نمبر 038 میں صبح 11.5منٹ تک 154ووٹ ڈالے جا چکے تھے ۔پولنگ سٹیشن کے باہر سکول گراونڈ میں نوجوان کرکٹ بھی کھیل رہے تھے وہیں سکول کے باہر دیوار پر بیٹھے ایک 60سالہ شہری عبدالرشید بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اُنہوں نے اپنے ووٹ کا استعمال تعمیر وترقی کی خاطر دیا ۔مارٹھ گام لنگیٹ میں قائم پولنگ سٹیشن کے باہر بھی لوگوںکا بھاری رش دیکھا گیا وہاں پر بھی 2 پولنگ سٹیشن تھے ،مرٹھ گام سکول میں 187ووٹ ڈالے جا چکے تھے ,جبکہ پولنگ سٹیشن 41میں 651ووٹوں میں سے 187ووٹ ڈالے جا چکے تھے۔ہندوارہ مین ٹاون میں پولنگ مراکز 67اور 69میں , اسی طرح دیگر پولنگ سٹینوں پر بھی لمبی قطاروں میں لوگ ووٹ ڈالنے کیلئے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے ۔
 
 
 

 بلال فرقانی

 
بارہمولہ// پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پلہالن سے لیکر اوڑی تک خاموش ووٹنگ دیکھنے کو ملی،جبکہ انتخابی مراکز پر جوش و خروش اور گہماگہمی کی کمی بھی نظر آئی۔ سوپور،پلہالن اور بارہمولہ قصبوں میں بیشتر پولنگ مراکز پر صحرائی مناظر دیکھنے کو ملے۔جمعرات کو بارہمولہ کے بیشتر پولنگ مراکز پر خاموشی کے ساتھ ووٹنگ جاری رہی،اور لمبی قطاریں بہت کم نظر آئیں۔ بارہمولہ کے بنگلو باغ پولنگ مراکز پر صبح10بجے836ووٹوں میں کوئی بھی ووٹ نہیں پڑا تھا،جبکہ ایک اور پولنگ مرکز پر333ووٹوں میں سے صرف ایک ووٹ پڑا تھا،تاہم اوڑی کے بائزو گرلز کالجوں میں قائم پولنگ مراکز پر کچھ گہما گہمی نظر آئی،اور1124ووٹوں میں سے11بجے تک221ووٹ ڈالے گئے تھے۔ خان پورہ میں ایک مرکز پر دن کے ایک بجے تک698میں سے3اور دوسرے مرکز پر1200میں سے3ووٹ ڈالے گئے تھے۔ادھر انتہائی حساس والے علاقے پلہالن کے ہائر اسکینڈری اسکول میں دن کے3بجے تک ایک پولنگ مرکز پر661میں سے7اور دوسرے پولنگ مرکز پر751ووٹوں میں سے10 ووٹ ڈالے گئے تھے۔ ادھر سوپور کے اکثر و بیشتر پولنگ مراکز میں دن بھر الو بولتے رہے،پولنگ مراکز ویران نظر آرہے تھے،اور وہاں صرف فورسز اور پولنگ عملہ ہی دن بھر نظر آیا۔جن پولنگ مراکز میں ووٹوں کی تعداد کم تھی،انکے ارد گرد فورسز اور پولیس کے بڑی تعداد بھی تعینات تھی،جبکہ علاقوں میں تنائو اور کشیدگی کے مناظر صاف نظر آرہیں تھے۔ روایتی بائیکاٹ علاقوں میں لوگ کاشتکاری کرتے ہوئے نظر آئے،جبکہ انہوں نے کہا ’’ہمیں انتخابات میں کوئی بھی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘ اوڑی میں پولنگ ایجنٹوں نے الزام عائد کیا کہ اچانک پولنگ مراکز میں تبدیلی کی وجہ سے لوگوں میں تذبذب ہے،جس کے نتیجے میں کم ووٹ ڈالے  جا رہے ہیں۔

 

 

 پانی کی عدم دستیابی کیخلاف پولنگ کا بائیکاٹ

اشفاق سعید
 
لنگیٹ / / لنگیٹ اور ہندوارہ میں بھاری پولنگ کے بیچ ہم پورہ لنگیٹ کے لوگوں نے 25سال سے پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے خلاف ووٹنگ عمل کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ 675 ووٹ ہیں جن میں سے صرف 5 ووٹ پڑے۔لوگوں کا کہنا تھا کہ اُن کے ساتھ ہر بار وعدہ خلافی کی گئی۔ لوگوں نے کہا کہ مسلسل25سال سے سیاست دانوں نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے آبادی کو ندی نالوں کا گندہ پانی پینے پر مجبور کیا ہے۔سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے عوامی دربار میں پانی کی سکیم تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم سرکار گر جانے کے بعد مذکورہ اسکیم پر کام شروع نہیں کیا گیا۔مقامی لوگوں نے اس بات کا مشترکہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ کسی بھی وعدہ خلاف اور غیر سنجیدہ سیاست دان کو اپنا ووٹ نہیں دیں گے۔
 
 
 
 

تین فوجی اہلکاروں کا والد بھی انصاف کا طلبگار 

’جنہوں نے تشدد کیا، آج ووٹ ڈال رہے ہیں‘

اشرف چراغ
 
کپوارہ //لوک سبھا انتخابات کے موقعہ پر جہاں سرحدی ضلع کپوارہ کے ترہگام قصبہ میں چار پولنگ بوتھ قائم تھے اور ہر پولنگ بوتھ کے باہر ووٹران کا جوش و خروش تھا، تاہم بن پورہ ترہگام میں جولائی 2018میں فوج کے ہاتھوں جاں بحق ہوئے خالد غفار ملک کے گھر کے ساتھ پورے محلہ میں متاثرین کو انصاف نہ ملنے پر شدید غم وغصہ پایا جا رہا تھا، اور خالد کا والد اپنے ہی مکان کے صحن میں گم سم تھا ۔ غفار ملک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جمہوریت میں ہر ایک کو اپنی رائے دینے کا پورا حق ہے لیکن اُس جمہوریت میں انصاف کا بول بالا ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہا میرے تین بیٹے فوج میں ہیں اور اپنا گھر خوشی خوشی سے چلاتے تھے ،لیکن ایسا پہلی بار ہوا جب تین فوجیوں کے دکاندار بھائی کو فوج نے ہی گولی مار کر جاں بحق کر دیا ۔انہوں نے کہا جس طرح باقی فوجی اپنے ملک کا دفاع کرتے ہیں، میرے تین بیٹے بھی ویسا ہی کرتے ہیںلیکن مجھے اُس بات پر حیرانگی ہے ایک تو میرا بیٹا خالد کوئی جنگجونہیں تھا بلکہ ایک دکاندار تھا اور اس کو نزدیک سے گولی مار کر جاں بحق کیا گیا ۔عبدالغفار کا کہنا تھا جمہویت میں تعمیر وترقی کا ہونا ضروری ہے لیکن اُس کا مقصد یہ نہیں ہے انصاف کا گلا گھونٹ دیا جائے ۔انہوں نے مزید کہا ہم قانون پر یقین رکھتے ہیں ، اس لئے میں نے خالد کے جاں بحق ہونے کے بعد علاقے میں حالات کو پرامن رکھنے کیلئے کسی احتجاج  کی اجازت نہیں دی ۔عبدالغفار کا کہنا ہے آج جب ووٹ ڈالے جا رہے ہیں میں نے اُس کیلئے بھی کسی کو نہیں روکا ،لیکن مجھے اُن لوگوں پر  افسوس ہے جنہوں نے میرے بیٹے کے جاں بحق ہونے کے وقت لوگوں کو تشدد پر اکسایا اور آج پارلیمانی انتخابات میں سب سے آگے ووٹ ڈالتے ہیں ۔عبدالغفار کا کہنا ہے میرے بیٹے کے جان بحق ہونے کے بعد میرے فوجی بیٹوں کو تنگ طلب کیا گیا اور میں ان لوگوں کا احسان مند ہوں جنہوں نے اُس وقت بھی میرا ساتھ دیا اور آج بھی میرے دکھ درد میں شریک ہیں ۔