ہما لہ کو گود میں اَدب کا میلہ

راجوری میں ہمالین ایجوکیشن مشن سوسائٹی کی جانب سے وسط مارچ میں ایک ادبی اور کلچرل کانفرنس کا انعقاد کرنا در اصل اْس دیرینہ جمود کو توڑنے کی ایک کوشش تھی، جو کئی وجوہات، بالخصوص Covid-19 وبا کے باعث، جموں کشمیر کی علمی اور ادبی فضائوں پر چھایا ہوا ہے۔راجوری ،جو صدیوں سے تہذیبی، ثقافتی، علمی اور ادبی سرگرمیوں کا ایک گہوارہ رہا ہے، میں اس ادارے کی حیثیت ایک ایسی تحریک کی ہے، جس نے اس ہمالائی خطے میں علم و ادب کی شمع کو فروزاں رکھنے کا عہد کیا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمالین ایجوکیشن مشن سوسائٹی کے ذیلی ادارے دبستانِ ہمالہ کی پْکار پر فن اور ادب کے شیدائی جوق در جوق اس تقریب میں شریک ہوئے، جو بنیادی طور پر اْن نامور شخصیات کو خراجِ عقیدت ادا کرنے کے لئے منعقد کی گئی تھی، جو علم و اداب اور تہذیب و تمدن کو فروغ دینے میں اپنی زندگیاں صرف کرنے کے بعد اس دْنیا سے چلے گئے ہیں۔
کانفرنس کے اولین سیشن میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجوری شیر سنگھ مہمانِ خصوصی تھے۔ جبکہ کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ اْردو کے سابق سربراہ پروفیسر قدوس جاوید، مشہور پنجابی فکشن رائٹر اور سابق بیرو کریٹ خالد حسین، معروف شاعر اور سابق ڈپنی کمشنر احمد شناس اور سابق ڈپٹی کمشنر ایم بی بٹ نے مشترکہ طور پر تقریب کی صدارت کی اور پروفیسر شکیل احمد رینہ، پروفیسر جاوید قاضی، پروفیسر شبیر احمد شاہ اور فاروق قیصر کانفرنس کے مہمانانِ ذی وقار تھے۔اس یک روزہ تقریب کی شروعات میں ہی ان چنندہ شخصیات، جن میں شمس الرحمٰن فاروقی، پروفیسر حامدی کاشمیری، پروفیسر ظہیر الدین، عرش صہبائی، ماسٹر عبدالعزیز وانی، ودیا رتن عاصی، شہباز راجوروی، فدا راجوروی، عبدالشکور ملک اور ڈاکٹر فاروق مغل شامل ہیں، کی زندگیوں کے مختلف گوشوں پر بات کی گئی اور اْن کے کارناموں کو اْجاگر کیا گیا۔ اْن کی بے پناہ علمی خدمات کے اعتراف میں ادارے کی جانب سے اْنہیں بعد از مرگ لائف ٹائم ایچومنٹ، فخرِ ہمالہ اور ماسٹر عبدالعزیز وانی میموریل فخر پیر پنچال ایوارڈز سے نوازا گیا۔
کانفرنس کے ابتدائی سیشن کی شروعات کرتے ہوئے دبستانِ ہمالہ کے اعزازی سیکرٹری محمد سلیم وانی نے ایک تعزیتی قرارداد پڑھتے ہوئے ان علمی اور ادبی شخصیات کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا اور اْن کے کارناموں پر روشنی ڈالی۔ اس موقعے پر ان شخصیات کے بارے میں مقررین نے جن آرا ء کا اظہار کیا، اْنہیں حرف بہ حرف ان سطروں میں سمونا ممکن نہیں۔ عالمگیر شہریت رکھنے والے شمس الرحمان فاروقی کی علمی اور ادبی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے پروفیسر قدوس جاوید نے کہا کہ ایک ممتاز شاعر، ادیب، محقق، نقاد ، مترجم اور لغت نویس کی حیثیت سے فاروقی صاحب کا نام صدیوں تک درخشاں رہے گا۔ پروفیسر قدوس نے اْن کے انسانی اوصاف اور اْن کی مختلف تخلیقی جہتوں پر اپنے تاثرات بیان کئے اور کہا کہ موصوف نے اپنی علم و فن کی صلاحیتوں سے برصغیر ہندو پاک کی تہذیبی روایات کی بازیافت کی ہے۔خالد حْسین نے پروفیسر حامدی کاشمیری کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ موصوف نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر جس وسیع پیمانے پر اپنی علم و دانش کے موتی بکھیر دیئے ہیں، اْنہیں دیکھ کر جموں کشمیر کا ہر فرد فخر کرتا ہے۔ مقررین نے کہا کہ حامدی صاحب تخلیقات کا ایک سر چشمہ تھے اور اْن جیسی شخصیات برسوں تک فلک کی گردشوں کے بعد ہی پیدا ہوجاتی ہیں اور اس لحاظ سے اْن کی وفات سے اْردو دْنیا میں جو خلاء پیدا ہوگیا ہے، اْسے پْر کرنا ممکن نہیں۔ڈاکٹر ذاکر ملک بھلیسی نے پیر پنچال خطہ کی مایہ ناز شخصیت، سماجی معمار اور ماہر تعلیم ماسٹر عبدالعزیز وانی کی خدمات کا تذکرہ شاندار الفاظ میں کیا۔ اْن کا کہنا تھا کہ ہمالین ایجوکیشن مشن راجوری کے بانی نے اپنی پوری زندگی اس خطے میں علم و ادب کی شمع جلائے رکھنے میں صرف کی اور اْن کی ان کاوشوں کے نتیجے میں نئی نسلیں بھی علم کی روشنی سے بہرور ہوگئیں اور اْن کی جلائی ہوئی شمع سے آنے والی نسلیں بھی علم کے نور سے منور ہوتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ صدی میں جب جہالت کا دور دورہ تھا تو وانی صاحب نے ناسازگار حالات کے باوجود علم و ادب کے سفر کی شروعات کی تھی اور اس کے نتیجے میں اس خطے سے افسران اور علما ء کی جو پہلی کھیپ پروان چڑھی، وہ وانی صاحب کے شاگردوں پر ہی مشتمل تھی۔پروفیسر مشتاق احمد وانی نے ڈاکٹر ظہور الدین کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سکالر تھے، جو انگریزی اور اْردو دونوں زبانوں پر ید طولیٰ رکھتے تھے۔ لیکن باوجود اس کے کہ انگریزی اور اْردو زبانیں اْن کا اوڑھنا بچھونا تھیں، وہ عمر بھر کشمیری ، ڈوگری ، پہاڑی اور گوجری زبانوں کے فروغ کے لئے بھی کام کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اْنہیں اپنی زندگی میں متعدد علمی اور ادبی انجمنوں کی سربراہی کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ موصوف ہمیشہ فرقہ ورانہ ذہنیت کے خاتمے اور بھائی چارے کے فروغ کے لئے کام کرتے رہے۔ وہ جتنے خوبرو تھے، اْتنا ہی اْن کا دل بھی خوبصورت تھا۔ عرش صہبائی کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے احمد شناس نے کہا کہ ادب کی دْنیا میں صہبائی کو ہمیشہ اْن کے جداگانہ لب و لہجے کی بنا پر یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے اْن کے لسانی شعور اور علمی پختگی کے حوالے سے متعدد مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اہل جموں کیلئے ہی نہیں بلکہ دْنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والے علم و ادب کے شیدائیوں کے ہیرو ہیں۔شہباز راجوروی کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے ہمالین ایجوکیشن مشن سوسائٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد مسلم وانی نے کہا ہے کہ اْنہیں فخر ہے کہ تہذیب و ثقافت اور علم و ادب کی خدمت میں اپنی پوری زندگی صرف کرنے والی اس شخصیت کا تعلق اسی قطعہ زمین سے ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ شہباز راجوروی گوکہ ساری عمر کشمیری ثقافت و زبان کی خدمت کرتے رہے لیکن وہ اردو، گوجری اور پہاڑی زبانوں کو بھی اپنا بھر پور کنٹروبیوشن دیتے رہے ہیں۔راجوری کے ایک اور سپوت فدا راجوروی، جن کا انتقال گزشتہ سال ہی ہوا ہے، کی شاعری اور فن پر محمد مسلم وانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کی شاعری میں مقامی رنگ جھلکتا نظر آتا ہے اور اْن کے کلام میں زندگی جینے کی تڑپ صاف دیکھنے کو ملتی ہے۔ مقررین نے کہا کہ راجوری سے تعلق رکھنے والی ان دونوں شخصیات شہباز راجوروی اور فدا راجوروی پیر پنچال کی آبادیوں کے لئے باعث فخر ہیں۔عبدالشکور ملک کی علمی خدمات کو بھی شاندار الفاظ میں یاد کیا گیا۔ پروفیسر اقبال رینہ نے کہا کہ موصوف کی زندگی تہذیبی اور تمدنی ورثہ کی حفاظت میں گزری ہے۔ وہ اس سرزمین کے ایک نڈر سپوت تھے، جنہوں نے جبر واستبداد کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے میں کبھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ موصوف پیشے کے اعتبار سے ایک معلم تھے لیکن سماج کی فلاح کیلئے کام کرنا اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا حصہ سمجھتے تھے۔کانفرنس میں ودیا رتن عاصی کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد سلیم وانی نے کہا کہ عاصی ایک حساس دل رکھنے والی شخصیت کا نام تھا اور یہی وجہ ہے کہ اْن کے کلام میں جذبات اور احساساس کی شدت دیکھنے کو ملتی ہے۔ تقسیم برصغیر کے بعد پیدا شدہ ناسازگار حالات میں بھی اْنہوں نے اْردو زبان کو اپنے گلے سے لگائے رکھا اور اسی زبان میں اپنے مشاہدات اور جذبات بیان کرتے رہے۔ڈاکٹر فاروق مغل پرواز کی عمر جنتی کم تھی، اْن کی علمی کاوشوں میں اتنی جان پوشیدہ تھی۔ ڈاکٹر محمد سلیم وانی نے فاروق مغل کی علمی پرواز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ علم و ادب سے اْن کے لگائوکا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ آل انڈیا میڈیکل انسٹی چیوٹ میں بطور ریسرچر کام کررہے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ ادب کی دْنیا میں اپنا کنٹری بیوشن دیتے رہے۔ موصوف ایک تخلیقی ذہن کے مالک تھے اور ادبی صلاحیتوں سے مالا مال تھے۔
 ہمالین کالج راجوری میں منعقدہ اس کانفرنس میں جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے صف اول کے شعرا، قلمکاروں، فنکاروں، سماجی اور تعلیمی ماہرین کے علاوہ انتظامی عہدیداروں نے شرکت کی۔ سامعین کی صفوں میں زندگی کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ براجمان تھے۔ اس تقریب میں ماسٹر عبدالعزیز وانی کی حیات پر ڈاکٹر ذاکر ملک بھلیسی کی تصنیف ’’ہر دل عزیز‘‘ اور راقم السطور کی جانب سے عزیز صاحب کی زندگی کے مختلف گوشوں کو اْجاگر کرنے سے متعلق ایک دستاویزی فلم ریلیز کی گئی۔تقریب میں دبستانِ ہمالہ کا خصوصی شمارہ ’’سوونیئر‘‘اور شہباز راجوروی کی کئی تصانیف کو بھی اجرا کیا گیا۔ اس موقعہ پر سوسائٹی کی جانب سے ’ہمالین ویژن‘ نام سے ایک یوٹیوب چینل کو بھی لانچ کیا گیا۔مہمانِ خصوصی نے اپنے خطاب میں ہمالہ ایجوکیشن مشن سوسایٹی کی جانب سے اس بہترین تاریخی تقریب کے انعقاد پر خاص طور سے ادارے کے سرپرست فاروق مضطر صاحب کی سراہنا کی اور اْنہیں اس کے لئے مبارکباد دی۔ دیگر مقررین نے بھی ادارے کی جانب سے اس نوعیت کی ایک تاریخی تقریب کے انعقاد کو قابلِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمالین ایجوکیشن مشن سوسائٹی نے ایک بار بھر ثابت کیا ہے کہ یہ ادارہ ایک علمی اور ادبی تحریک ہے۔کانفرنس کے روح رواں اور میزبان فاروق مضطر صاحب نے مہمانان اور مقررین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ ہرمہذب قوم اور سماج کی تہذیبی ذمہ داری ہے کہ اپنے ہیروز کو ہمیشہ یاد رکھیںاور گاہے بہ گاہے آئندہ نسلوں کے سامنے رول ماڈل کے طور پر پیش کرتا رہے۔تاکہ اعلیٰ تہذیبی اور انسانی قدروں کا تسلسل بنا رہے۔موصوف نے مزید یقین دلایا کہ ادارے کی جانب سے اس نوعیت کی تقریبات کا اہتمام مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔