ہماری سیاسی قیا دت…اپنی غرضی کے دیوانے

قوموں کی زندگی میں دور اندیشی اور منصوبہ بند طریقے سے کام کرنے کی بنیادی اہمیت ہوتی ہے اور غلاموں کی اس بستی میں رہنے والے ہم غلاموں کو گویا ان ہی چیزوں سے دشمنی ہے۔ناک کے آگے سے زیادہ دور تک دیکھنے کی ہم نے کبھی کوشش ہی نہیں کی،جہاں کسی نے کوئی جذباتی نعرہ لگادیا ہم بھڑک کر اْسی کے ساتھ ہولئے اور یہ بھی نہ دیکھا کہ اْس کی بات قابل ِ عمل بھی ہے یا نہیں۔اصول پرستی نے اس قوم میں طرح طرح کے اختلاف اور انتشار کو جنم دیا،ہم نے جس شخصیت سے محبت کی اْس کے بارے میں اِتنے غلو سے کام لیا کہ ہر خوبی ہمیں اْسی میں نظر آئی ،خواہ وہ دینی اعتبار سے تھی یا علمی و سیاسی اعتبار سے۔ہم نے اگر اْسے سب سے بڑا عالم سمجھا تو سب سے بڑا زاہد و متقی اور مْرشد و رہنما بھی تصور کیا ،اْس کی کسی طرح کی خامی کو ہم نے تسلیم ہی نہ کیا اور نہ اْس کی کسی رائے سے اختلاف کو برداشت کیا ،چاہے وہ رائے بجائے خود کتنی ہی غلط کیوں نہ ثابت ہوئی ہو۔جس شخصیت کو ہم نے ناپسند کیا ،اْس میں ہمیں دنیا بھر کے عیب نظر آئے ،ہمیں اْس کی رہنمائی میں نہ کوئی خوبی نظر آئی اور نہ اْس کے کردار و تقویٰ میں۔دوسری قوموں کا عام مزاج یہ ہے کہ کہ اگر وہ خوبیوں کو اْجاگر کرتی ہیں تو خامیوں کی پردہ پوشی بھی کرتی ہیں،وہ نہ تو کسی شخص کی اندھی عقیدت میں مبتلا ہوتے ہیں اور نہ اْس سے اختلاف ِ رائے رکھنے والے کسی شخص کی اندھی دشمنی میں حدیں پھلانگتے ہیں۔بے اعتدالی کے اس مرض نے ہماری قوم میں ہر طرح کے مشکلات اور مسائل پیدا کئے۔یہ بات ہرفرد کے لئے بھی اہم ہے اور جماعت کے لئے بھی کہ ہر کام غور وخوض کے بعد سوچے سمجھے طریقے سے کرے اور وقتی اشتعال میں آکر نہ تو اپنی راہ کھوٹی کرے اور نہ اپنے طے شدہ راستے سے ہٹے،لیکن ہمارا مزاج کچھ ایسا بگڑ گیا ہے کہ ہم بہت جلد اشتعال میں آکر غلط قدم اٹھالیتے ہیں اور اِسی اشتعال پذیری کے سبب ہمارا دشمن جب چاہتا ہے ہمیں اشتعال میں مبتلا کرکے ہم سے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرلیتا ہے۔
حق تو یہ ہے کہ اسی شدید اشتعال پذیری ،شخصیت پرستی ،جلد بازی اور شوریدہ سری کے نتیجے میں ہمارا مسئلہ ایسا بگڑ گیا کہ بے اندازہ جانی و مالی نقصانات اْٹھانے کے باوجود یہ قوم اب تک کچھ حاصل کرنے میں بالکل ناکام رہی ہے ورنہ جس عقیدے کے ہم دعویدار ہیں، اْس میں تو صبر و تحمل سے کام لینے کی تعلیم دی گئی تھی اور سوچ سمجھ کر قدم اْٹھانے اور پھر قدم اْٹھانے کے بعد پامردی و استقامت سے کام لینے کا درس بھی دیا گیا تھا لیکن ہم ہیں کہ آگ کے شعلوں کی طرح بھڑک جاتے ہیں اور پانی کے چند چھینٹوں سے بالکل بجھ جاتے ہیں،جتنی جلد ناراض ہوتے ہیں اْس سے زیادہ تیزی سے خوش بھی ہوجاتے ہیں اور بہل بھی جاتے ہیں،پانی کے بْلبْلے کی طرح اْٹھتے ہیں اور جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں ،نہ ہماری حمایت قابلِ اعتبار اور نہ ہی مخالفت۔اور اسی مزاج کی صحیح عکاسی کرتے ہوئے آج سے تقریباً ساٹھ سال قبل اس بستی کے ایک نامور سْلطان نے دِلی میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کیا خوب کہا تھا کہ ’’چالیس لاکھ میرے ساتھ ہیں ،چالیس لاکھ شیخ صاحب کے ساتھ اور چالیس لاکھ صادق صاحب کے ساتھ بھی ہیں،‘‘اسی دوہرے معیار و کردار کا ثبوت موقع بے موقع اپنے ردِ عمل کی صورت میں دیتے رہے ہیں اور آج بھی صورت ِحال اس سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔آج بھی یہ قوم بے نگہبان کا ایک ریوڈ معلوم ہوتی ہے اور ہر کَس ناکَس کو اس کے معاملات میں دخل اندازی کرنے اور انتشار پھیلانے کا جیسے لائسنس مِلا ہوا ہے،نہ توقوم متحد ہے اور نہ ہی قیادت۔
’’ایک ہی ڈال کے پنچھی ہونے کے باوجود ہماری قیادت بھانت بھانت کی بولیاں بولنے میں مصروف ہے،دوسری قوموں میں آج شدید اختلاف کے باوجود آپس میں اتحاد و اتفاق ہے،ایک دوسرے کی رائے کی مخالفت کے باوجود وقعت ہے،وہ آپس میں در پردہ بلکہ علی الاعلان مشورے بھی کرلیتے ہیں اور ہم ہیں کہ کسی بڑے قائد کی حمایت یا اْس کی حمایت میں ہونا اِسی کو سمجھتے ہیں کہ اْس کی مخالف جماعت سے برسرپیکار رہیں اور اس کی توہین و تذلیل کریں۔ماضی کی ایک غلطی سے سبق سیکھنے اور عبرت حاصل کرنے کے آثار اب بھی نمایاں نظر نہیں آتے اور مختلف صورتوں میں اب بھی اْن کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے ،انجام ِ کار تحریک طرح طرح کے مشکلات اور پیچیدگیوں کے پیدا ہونے کا باعث بن گئی ہے۔کیا ذاتی اور چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر اس قوم کے دور رس مفادات کو قربان نہیں کیا جارہا ہے؟ ہماری منتشر قیادت یہ بات اپنے ذہن و قلب میں اْتار لے کہ بے سوچے سمجھے عاجلانہ اقدام کے بجائے اصلاح ِ حال کی تدابیر اختیار کرنا ہی دانش مندی اور کامیابی کا راستہ ہے اور بے تیاری کے نارَوا کش مکش کی راہ اپنانا اِس قوم کو تباہ کن صورتِ حال سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔
پتہ۔احمد نگر سرینگر ،کشمیر
فون نمبر۔9697334305