ہسپتالوں میں کووڈ19سے ہوئی اموات کا آڈٹ کیاجائے

جموں//جموں وکشمیر کے اسپتالوں میں بڑی تعداد میں ہوئی اموات کا آڈٹ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سابقہ وزیر اور اپنی پارٹی نائب صدر چوہدری ذوالفقار علی نے راجوری ضلع کے لئے منظور شدہ دو آکسیجن پلانٹس کو فعال بنانے میں ناکام رہنے پر صحت محکمہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہاں جاری ایک بیان میں چوہدری ذوالفقار علی نے کہاکہ محکمہ صحت کی نااہلی سے لوگوں کو متاثرہونا پڑ رہا ہے ۔ وباء سے نپٹنے میں ناقص انتظام اور سہولیات کی وجہ سے اموات ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا’’راجوری میں روزانہ بڑی تعداد میں ہورہی اموات سبھی کیلئے تشویش کن امر ہے ، خاص طور سے تب جب 3000صلاحیت والا ٓکسیجن پلانٹ پہلے ہی ضلع راجوری کے لئے منظور کیاگیا ہے جس سے تقریباً150سے200مریضوں کی ضرورت پورا ہونے کی توقع تھی لیکن بدقسمتی سے 1000صلاحیت کے ساتھ ایک ہی یونٹ فعال ہوپایا ہے جس سے صرف 50-60مریضو ں کی ضرورت پوری ہورہی ہے اور دیگر دو یونٹس جن کی صلاحیت3000ہے، جس سے 100-130مریضوں کو آکسیجن مل سکتی ہے ، کو ابھی تک چالو نہیں کیاگیا، وہ بھی ایسے وقت جب کورونا وباء عروج پر ہے‘‘۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے گذارش کی کہ راجوری کے لئے پہلے سے منظور شدہ دو آکسیجن پلانٹس کو جلد سے جلد فعال بنایاجائے۔ انہوں نے صورتحال کی طرف ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری اور محکمہ صحت کی فوری توجہ طلب کی ہے تاکہ اموات کو روکا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ بڑے پیمانے پر نوجوانوں، بچوں اور مریض جن کی حالت نازک نہ تھی، کی اموات کا آڈٹ کیاجائے اور اِس عمل کو روکنے کے لئے ضروری اقدامات اُٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ نئے میڈیکل کالجوں اور ضلع اسپتالوں میں مناسب میڈیکل کیئر سہولیات ، مناسب تعداد میں تربیت یافتہ سٹاف مہیا کیاجائے تاکہ نازک مریضوں کی دیکھ بھال ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ نام نہاد آئی سی یو اور غیر استعمال شدہ وینٹی لیٹرز جووزیر اعظم فنڈز کے تحت دیئے گئے ہیں، وہ 1/3افراد کی جانیں نہیں بچاسکتے ، اداروں کی جوابدہی فکس کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے اندر دیگر علاقوں کی بانسبت جموں اور راجوری میں کویڈ سے زیادہ اموات ہورہی ہیں، حکومت سنیئر ڈاکٹروں کے استعمال کو یقینی بنائے اور اِس صورتحال پر قابو پانے کے لئے غیر معمولی اقدامات لئے جائیں۔